ہفتہ , 21 ستمبر 2019

یمن مخالف سعودی اتحاد کی آخری سانسیں

(تحریر: آزادہ سادات)

گذشتہ چند دنوں سے یمن کے شہر عدن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ فورسز میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ یمن کے سابق مستعفی صدر عبد ربہ منصور ہادی کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے جبکہ جنوب عبوری کونسل متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ ہے۔ یہ دونوں گروہ عدن میں موجود ہیں اور ان کے پاس وسیع پیمانے پر مسلح افراد اور اسلحہ بھی موجود ہے۔ جنوب عبوری کونسل کے نائب سربراہ ہانی بن بریک نے اپنی زیر کمان فورسز کو عبد ربہ منصور ہادی کے زیر کنٹرول المعاشیق محل پر حملہ کر کے قبضہ کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ فورسز نے ہفتے کی رات اس محل پر قبضہ کر کے اس کا نام تبدیل کر کے الیمامہ رکھ دیا۔ ان فورسز نے پیشقدمی جاری رکھی اور ایک ہی دن میں عدن شہر کے تمام علاقوں پر قابض ہو گئے۔ دونوں ملیشیاز میں شدید جھڑپیں ہوئیں جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عام شہری بھی جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ سعودی عرب نے سرکاری سطح پر ان جھڑپوں کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا جس کے باعث منصور ہادی کے وزیر داخلہ احمد المسیری نے سعودی حکمرانوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ متحدہ عرب امارات نے انہیں تہس نہس کر دیا ہے جبکہ سعودی عرب خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔

سیاسی ماہرین نے عدن شہر میں ہونے والی ان جھڑپوں کا مختلف پہلووں سے جائزہ لیا ہے۔ بعض نے انہیں متحدہ عرب امارات کے اتحادیوں کی بغاوت، بعض نے سعودی عرب کے خلاف متحدہ عرب امارات کی بغاوت جبکہ بعض نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں گہری دراڑ قرار دیا ہے۔ پہلے عنوان کے حامی ماہرین نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ متحدہ عرب امارات منصور ہادی کے خلاف جھڑپوں کی حمایت نہیں کر سکتا لہذا یہ متحدہ عرب امارات کی اتحادی فورسز کی بغاوت ہے۔ یہ ماہرین بریک کی جانب سے المعاشیق محل پر حملے کو ایک خودسرانہ اقدام قرار دے رہے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا دوسرا گروہ جو اسے متحدہ عرب امارات کی سعودی عرب کے خلاف بغاوت قرار دیتے ہیں کا کہنا ہے کہ صدارتی محل پر حملے میں اخوان المسلمین کی ذیلی شاخ الاصلاح پارٹی کے جنگجووں کی شرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اقدام متحدہ عرب امارات کو اعتماد میں لے کر انجام پایا ہے۔ اسی طرح عبدالرحمان شیخ جیسے متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ سلفی عناصر کی موجودگی بھی اس مدعا کی تصدیق کرتی ہے۔

سیاسی ماہرین کے تیسرے گروہ کا خیال ہے کہ یہ جھڑپیں دو اتحادی ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گہری دراڑ پڑ جانے کا نتیجہ ہے۔ یہ ماہرین اس نکتے پر زور دیتے ہیں کہ گذشتہ ڈیڑھ برس سے جنوبی یمن کو علیحدہ سے خودمختار ریاست بنانے کی حامی فورسز اور منصور ہادی کے درمیان اختلافات کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ دوسری طرف منصور ہادی جو کئی عشروں تک یمن پر حکمفرما رہا ہے شمالی علاقہ جات سے خاص وابستگی رکھتا ہے۔ اسی طرح علیحدگی پسند فورسز اور متحدہ عرب امارات دونوں عبد ربہ ہادی منصور کے الاصلاح پارٹی سے اتحاد کے شدید مخالف تھے۔ جبکہ سعودی عرب یمن میں اس پارٹی کی موجودگی کو ضروری قرار دیتا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اس بارے میں لکھتا ہے کہ ریاض کی سربراہی میں فوجی اتحاد نے اپنے ہی اتحادیوں کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ ہوائی حملہ متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ فورسز کی جانب سے عدن شہر پر قبضے کے چند دن بعد انجام پایا ہے۔

دوسری طرف جرمنی کے نیوز چینل ZDF نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اب تک علیحدگی پسند فورسز اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ فورسز مل کر شیعہ حوثیوں کا مقابلہ کر رہی تھیں لیکن سعودی عرب کی سربراہی میں فوجی اتحاد نے نہ صرف عدن میں علیحدگی پسند فورسز کو نشانہ بنایا ہے بلکہ انہیں یمنی حکومت کو درپیش براہ راست خطرہ قرار دیا ہے۔ یہ صورتحال سعودی عرب کی سربراہی میں فوجی اتحاد میں گہری دراڑ کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح فرانس کا اخبار "لومونڈ” لکھتا ہے کہ یمن کے خلاف سعودی عرب کی سربراہی میں تشکیل پانے والا اتحاد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔ اگرچہ منصور ہادی کی سعودی عرب میں موجودگی کے پیش نظر عدن شہر پر متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ فورسز کا قبضہ ایک علامتی اقدام ہے لیکن یہ واقعات یمن کے سیاسی میدان میں فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اس سے سعودی عرب کی سربراہی میں فوجی اتحاد کے خاتمے کا انکشاف ہوتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …