اتوار , 15 ستمبر 2019

‘انفرادی مزاحمت’ فلسطینیوں کی اسرائیل کے خلاف نئی حکمت عملی!

فلسطین میں تحریک آزادی کے لیے کام کرنے والی عسکری تنظیموں کی اسرائیلی مظالم کے خلاف کارروائیوں کے اب فلسطینی معاشرے میں مزاحمت کا ایک نیا اسلوب تیزی کے ساتھ فروغ پا رہا ہے، جس نے غاصب صہیونی ریاست کا جینا حرام کردیا ہے۔

مقبوضہ فلسطین میں موجود اسرائیلی فوجیوں، یہودی آباد کاروں اورغاصب صہیونیوں کے خلاف فلسطینیوں کی انفرادی مزاحمتی کارروائیوں کا آغاز اکتوبر 2015ء کو ہوا۔ فلسطینیوں کی انفرادی نوعیت کی مزاحمتی کارروائیوں نے اسرائیلی فوج، پولیس اور یہودی آباد کاروں کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ اب قابض دشمن کو ہرزندہ فلسطینی سے خطرہ محسوس ہوتا ہے اور وہ ہرایک کو اپنا یکساں دشمن سمجھتےہیں۔

چند ہفتے پیشتر غرب اردن اور غزہ میں فلسطینیوں کی انفرادی مزاحمتی کارروائیوں کا آغاز ہوا۔ان انفرادی کارروائیوں نے قابض صہیونی دشمن کو غرب اردن اور القدس میں ایک نئی پریشانی سے دوچار کیا ہے۔

اسرائیل کے سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 2018ء کے دوران غرب اردن اور القدس میں انفرادی نوعیت کی 50 مزاحمتی کارروائیاں کی گئیں۔ یہ سب فائرنگ کی کارروائیاں تھیں۔ چاقو کے حملوں کی 35، گاڑیوں تلے کچلے جانے کی 18 جب کہ دستی بموں،سیکڑوں پٹرول بم حملے کیے گئے۔ ان کارروائیواں میں 14 صہیونی جھنم واصل اور170 زخمی ہوئے۔

انفرادی فدائی کارروائیوں میں اضافہ
فلسطینیوں کی طرف سے مزاحمتی کارروائیوں کے لیے انفرادی کارروائیوں کے لیے کئی طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ گھروں میں باورچی خانے کے امورمیں استعمال ہونے والے چاقو چھریاں،ہلکے ہتھیار اور دیگر دستیاب وسائل اپنائے جاتے ہیں۔غزہ کی پٹی کی سرحد سے فلسطینیوں کی سرحد پار کارروائیاں بھی اس مہم کا حصہ ہیں۔ غزہ کی سرحد پربھی فلسطینیوں انفرادی مزاحمتی کارروائیوں کا سلسلہ حال ہی میں دیکھا گیا۔

فلسطینی عسکری امور کے تجزیہ نگار رامی ابو زبیدہ نے کہا کہ کسی تنظیم سے وابستگی کے بغیر فلسطینیوں کی کارروائیوں کو انفرادی کارروائیاں قراردیا جاتا ہے۔ ان انفرادی کارروائیوں کے لیے کسی تنظیم کی طرف سے کسی قسم لاجسٹک یا مالی معاونت فراہم نہیں کی جاتی۔

مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی انفرادی مزاحمتی سرگرمیاں محض ایک رونامی نظریہ نہیں بلکہ غزہ اور غرب اردن میں فلسطینی عوام کے حقیقی حالات،دبائو، غم وغصے، قضیہ فلسطین کودرپیش مشکلات اور بالخصوص نوجوانوں کو درپیش پابندیوں کا اظہار کرتی ہیں۔

فلسطین میں انفرادی مزاحمتی کارروائیوں کا آغاز 2015ء کو القدس اور غرب اردن میں ہوا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ پورے فلسطین میں پھیل گیا۔ غزہ میں فلسطینیوں کے حق واپسی مظاہروں کےدوران بھی اس کی مثالیں دیکھی گئیں۔

خاموش کم زوری
فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان براہ راست جھڑپوں میں ہونے والی رکاوٹوں، فیلڈ کی صورت حال اور سیاسی بندشیں نوجوانوں اور قابض فوجیوں کے درمیان فاصلے پیدا کررہی ہیں۔تجزیہ نگار ابو زبیدہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی تنظیموں سے ماوراء مزاحمتی کارروائیوں نے اسرائیلی ریاست کو ایک نئے انداز اور اسلوب میں سوچنے پرمجبور کیا۔ صہیونی فوج بعض اوقات فلسطینیوں کی انفرادی مزاحمتی کارروائیوں کو بھی فلسطینی دھڑوں کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کرتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات فلسطینیوں کی انفرادی کارروائیاں زیادہ با اثر ثابت ہوتی ہیں۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

کس کے ہاتھ پہ لہو تلاش کریں؟

(تنویر قیصر شاہد) اگر کسی مغربی ملک میں یہ سانحہ پیش آتا تو پوری حکومت …