اتوار , 15 ستمبر 2019

کشمیر اور دنیا میں مودی کی بڑھتی ہوئی ذلت

(تحریر: محمد حسن جمالی)

عزت اور ذلت کا مالک خدا ہے، وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت، البتہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان بےبس ہے، اسے کوئی اختیار نہیں بلکہ اللہ تعالی نے انسان کو صاحب اختیار و ارادہ بنایا ہے، اسے عزت اور ذلت کے راستوں کی نشاندہی کرائی ہے، اسے عزت اور ذلت کے اسباب و عوامل کی بھی تعلیم دلوائی ہے، اس کے باوجود بعض لوگ ذلت کے راستے اختیار کرتے ہیں، وہ ذلیل ہونے کے اسباب فراہم کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ذلیل و خوار ہوکر رہ جاتے ہیں، ذلت کے مراتب اور درجات ہوتے ہیں، بدترین ذلت وہ ہے جو دوسروں پر بےجا ظلم و ستم کرنے کے سبب انسان کے حصے میں آتی ہےـ آج مودی سرکار کی ہی مثال لیجئے جو کشمیری مظلوم مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرکے دنیا کے نقشے پر ایک سرسخت ظالم کے طور پر ابھرے ہیں، وہ اپنے غلط اور ظالمانہ اقدامات کی وجہ سے پوری دنیا کے سامنے ایک ذلیل و خوار انسان کے طور پر نمایاں ہوئے ہیں، چنانچہ ہر انصاف پسند انسان اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھ اور پرکھ رہا ہے، کچھ دنوں سے تو ان کے مظالم میں شدت دیکھنے کو مل رہی ہےـ انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کی جانب سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو خصوصی نیم حیثیت دینے والی آئین کی شق 370 کے خاتمے کے بعد سے کشمیر کی حالات ناگفتہ بہ ہیں۔

کشمیری مسلمانوں کا خون بڑی بے دردی سے بہایا جا رہا ہے، قتل عام کا سلسلہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، ہندو متعصب فوج کا لشکر پے در پے کشمیر پہنچ رہا ہے، اس وقت کشمیر فلسطین کا منظر پیش کررہا ہے، مودی فوج کی گولیوں کا جواب کشمیری مظلوم مسلمان پھتر سے دے رہے ہیں، کشمیریوں کی نہ جان محفوظ ہے اور نہ مال و نوامیس کی عزت۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کو آخر کس جرم میں مودی سرکار نے خاک و خون میں نہلانے کا تہیہ کرلیا ہے؟ وہ تو فقط آزادی کے خواہاں ہیں، وہ حق خود ارادیت چاہتے ہیں جو کسی بھی قوم کا مسلمہ حق ہےـ برِصغیر کی تقسیم کے وقت انڈیا اور پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے میں تمام ریاستوں کو خودمختار قرار دیا تھا، چنانچہ کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے انڈیا پر پاکستان کو ترجیح دی، جس کا سبب پاکستان میں مسلمانوں کی اکثریت کا ہونا تھاـ رپورٹ کے مطابق کشمیر کی مقامی آبادی کی جانب سے بغاوت اور پاکستان کے مسلح قبائلیوں کی جانب سے دراندازی ہونے پر مہاراجہ نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے عسکری امداد کی اپیل کی، جو کہ انہوں نے یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ جب تک ریاست انڈیا سے الحاق کا فیصلہ نہیں کرتی، تب تک وہ کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ وہ اب متحدہ ہندوستان کے وائسرائے نہیں، بلکہ انڈیا کے گورنر جنرل ہیں۔ نتیجتاً مہاراجہ نے 26 اکتوبر 1947ء کو اپنی ریاست کے انڈیا سے الحاق کی تحریری درخواست کی جو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اگلے دن اس شرط کے ساتھ قبول کر لی کہ دراندازوں سے ریاست خالی ہونے پر ریاست کے مقدر کا فیصلہ عوام کی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا۔

اس کے بعد جب انڈیا کی فوج کشمیر میں داخل ہوئی، تو پاکستان کی فوج نے بھی کشمیر کے حصول کے لئے اپنی فوج یہاں داخل کردیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ جنگ کا آغاز ہوا جو کہ 1949ء تک جاری رہی 1949ء میں جنگ بندی کے بعد پاکستان اور انڈیا دونوں کے پاس کشمیر کا بالترتیب ایک تہائی اور دو تہائی حصے کا کنٹرول رہا اور سیز فائر لائن قائم ہوئی جسے بعد میں لائن آف کنٹرول قرار دیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے 21 اپریل 1948ء کو ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں اس مسئلے کے حل کے لئے تین مرحلہ وار نکات تجویز کئے گئے۔ پاکستان کشمیر سے اپنے تمام شہری واپس بلوائے، انڈیا کشمیر میں صرف اتنی فوج رکھے جو کہ امن و امان کے قیام کے لئے ضروری ہو ،انڈیا اقوامِ متحدہ کا نامزد کردہ رائے شماری کمشنر تعینات کرے، جو ریاست میں غیر جانبدار رائے شماری کروائے کمیشن اقوامِ متحدہ کے اس پانچ رکنی کمیشن نے 1949ء میں استصوابِ رائے کی شرط رکھ کر انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے کیا تھا۔ کمیشن میں کولمبیا، چیکو سلواکیا، برما، آرجنٹینا اور بیلجیئم کے سفیر شامل تھے۔ دونوں ہی ممالک کو اس پر اعتراضات تھے جن کی وجہ سے اقوامِ متحدہ کا ایک نیا کمیشن قائم ہوا۔ دونوں ممالک نے اس کمیشن کی قرارداد منظور کی مگر یہ کمیشن بھی معاملے کو کسی نتیجے پر نہ پہنچا سکا اور یوں یہ مسئلہ جوں کا توں رہا۔

1965ء میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر پر ایک اور جنگ لڑی گئی، جبکہ 1999ء میں دونوں ممالک ایک مرتبہ پھر کشمیر پر کنٹرول کے لئے جنگ لڑتے نظر آئے۔ 1989ء کے بعد کشمیر میں شورش کا آغاز ہوگیا۔ 2003ء میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیز فائر کا ایک معاہدہ ہوا اور ایل او سی کو ایک سرحد تسلیم کر لیا گیا، مگر 2016ء میں انڈین فوج کی جانب سے جب 22 برس کے علیحدگی پسند برہان وانی کو ہلاک کر دیا گیا، تو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے پھوٹ پڑے۔ برہان وانی کے واقعے کے بعد انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں عسکریت پسندی کی نئی مہم شروع ہوئی۔ سرینگر سے 40 کلو میٹر کے فاصلے پر برہان وانی کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ جنازے کے بعد عوام کا سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں جس سے مزاحمت کا ایک نیا دور شروع ہو گیا اور صرف سال 2018ء میں 500 سے زیادہ لوگ لقمہ اجل گئےـ حالیہ مودی سرکار کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر کی جانے والی بربریت اور جارحیت کے خلاف ایران نے کھل کر مخالفت کی، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کشمیریوں کے حق میں بیان دیا، تہران کے خطیب جمعہ نے واشگاف الفاظ میں کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت کی، قم مشھد سمیت ایران کی جگہ جگہ علماء طلباء اور مختلف تنظیموں کے سرکردگان نے ملکر کشمیری مسلمانوں کی حمایت میں تظاھرات کی ریالیاں نکالی گئیں۔

اے کاش! پاکستان کو دل و جان سے چاہنے کے دعویدار سعودی عرب میں بھی ایران کی طرح کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے حق اور حمایت میں وسیع پیمانے پر تظاھرات دیکھنے کو ملتے، وہاں کے مفتی، مذہبی اور دینی راہنماؤں کی زبان سے کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم کے حوالے سے کوئی مذمتی بیان تک پڑھنے اور سننے کو ملتاـ ریاست پاکستان اور پاکستانی قوم کے لئے اپنے دوست اور دشمن کو پہچاننے کا یہ سنہری موقع ہے، کیونکہ دوست اور دشمن کی شناخت مصیبت کی گھڑی میں ہی ہو جاتی ہے، آسائش اور مفادات کے حصول کے وقت میں تو دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں۔ سعودی عرب نے پاکستان کے اندر دہشتگردی کا اڈا کھول کر قوم کو بے تحاشا نقصانات تو پہنچائے، مگر مسئلہ کشمیر سے لا تعلقی کا مظاہرہ کرکے پاکستان قوم پر یہ ثابت کردیا کہ سعودی عرب فقط مفادات کے دوست ہیں، جسے اسرائیل سے تعلقات مستحکم کرکے عملا کرکے بھی دکھایا قابل توجہ بات یہ ہے کہ آج کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا ظاہری طور پر ذمہ دار مودی سرکار ہے، لیکن اگر ہم اس مسئلے کی ریشہ یابی کریں، اس کے عمق اور گہرائی میں اتر کر اس مسئلے کا تجزیہ و تحلیل کرنا شروع کریں، تو یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ کشمیر جھنگ میں امریکہ اسرائیل اور ان سے وابستہ ممالک کا ہاتھ ضرور ہے، ان کی حمایت سے ہی مودی کو اس قدر وحشیانہ اقدامات کرنے کی جرات ہوئی ہے، لیکن جس طرح انسانیت کے چہرے کے بدنام داغ امریکہ و اسرائیل اور ان کے دسترخوان کی ہڈیاں چوسنے والوں کو شام، عراق، نائجیریا اور دوسرے مقامات پر شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے اسی طرح انشاءاللہ کشمیر اور فلسطین میں بھی ان کے ناپاک عزائم خاک میں ملکر انہیں ناامیدی اور شکست کا منہ دیکھنا پڑے گا، کیونکہ قرآن کا یہ واضح اعلان ہے کہ بالآخر حق کو باطل پر غلبہ حاصل ہونا ہی ہےـ

مودی فوج کی بربریت سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں نمایاں ہوا اور سوشل میڈیا کی بدولت دنیا کے ہر انصاف پسند کے سامنے مودی کا منحوس چہرہ بھی آشکار ہواـ نائجیریا سے علاج کی غرض سے انڈیا تشریف لانے والی امن کے داعی اتحاد مسلمین کے علمبردار ابوزر زمان عاشق حسین بقاء انسانیت تحفظ شریعت ترویج دین کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کرنے والی عظیم شخصیت آیت اللہ شیخ ابراھیم زکزاکی حفظہ اللہ اور ان کی فداکار اہلیہ کو امریکہ اسرائیل اور ان کے ہم فکر ملکوں کے دباؤ سے مرعوب ہوکر علاج کرائے، بغیر دوبارہ اپنے ملک واپس لوٹانے سے مودی کی غلامی اور بےبسی منظر عام پر نمایاں ہوگئی، اس غیر انسانی اقدام نے پوری دنیا پر یہ واضح کردیا کہ مودی انسانیت کا سرسخت دشمن ہے، کٹر متعصب ہے، اس سے بھلائی و خیر کی توقع رکھنا فضول ہے، وہ امریکہ اور اسرائیل کا آلہ کار ہے، ان کے ایماء سے ہی بھارت کا سارا نظام چلتا ہے، انہی نے ہی اسے برسراقدار لا رکھا ہے، اگر پاکستان کے ساتھ بھی اس کی جنونیت اور دشمنی عروج پر ہے تو اس کے پس پردہ بھی امریکہ و اسرائیل کے اشارے کارفرما ہوتے ہیں۔ یہاں اس بات کی طرف اشارہ کرنا بھی مناسب ہے کہ سوشل میڈیا پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی حکمرانوں کے رویئے زیر سوال ہیں۔ تجزیہ نگاروں اور قلمکاروں نے اس حوالے سے مختلف انداز اور زاویوں سے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے، ہماری نظر میں پی ٹی آئی کی حکومت بہت ساری خامیوں کی حامل ہونے کے باوجود مسئلہ کشمیر کے حوالے سے حکمرانوں نے مناسب مگر ناکافی اقدامات کرچکے ہیں۔ جیسے اس سال یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا سرکاری اہم مقامات پر کالے پرچم لہرائے گئے۔

بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ، غیر آئینی اقدام اور مظالم کے خلاف ملک بھر میں ریلیاں نکالی گئیں، صدر مملکت عارف علوی نے پاکستان کے 72ویں یوم آزادی کے موقع پر اپنے پیغام میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری امن پسندی کو بھارت کمزوری نہ سمجھے، ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ تھے، رہیں گے۔ دن کا آغاز توپوں کی سلامی سے ہوا، صدر نے کہا کہ جنگ مسلط کی گئی تو اس کے دنیا پر اثرات پڑیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیرکی حیثیت تبدیل کر کے آخری کارڈ کھیل لیا، آگے کشمیرکی آزادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کر کے اپنے آئین، سپریم کورٹ اور جموں و کشمیر کی ہائیکورٹ کے فیصلہ کی خلاف ورزی کی ہے۔ ہمیں اطلاع ہے کہ بھارت نے زیادہ خوفناک منصوبہ بنایا ہوا ہے، بھارت نے جس طرح پلوامہ واقعہ کے بعد بالاکوٹ پر حملہ کیا، اب وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لئے آزاد کشمیر پر بھی حملہ کرنا چاہتا ہے لیکن بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا، افواج پاکستان اور قوم اس کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور کشمیر پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، نتائج کی پروا کئے بغیر ظلم کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ایک ٹویٹ میں یوم آزادی اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ کا جو پیغام جاری کیا ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بھارت کے مخاصمانہ عزائم کے خلاف کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہمیشہ کھڑا رہے گا، چاہے اس کی کوئی بھی قیمت نہ چکانی پڑے۔ پاک فوج کشمیر کاز کے لئے اپنی ذمے داریاں ادا کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار رہے گی۔ ہم نتائج کی پرواہ کئے بغیر ظلم کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ ہمارا پیغام ہر مسلمان اور انصاف پسند انسان سے یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر، نائجیریا، فلسطین، یمن پر ہرگز خاموش نہ رہے، آپ کے پاس جو بھی طاقت ہے اسے مظلوموں کی حمایت اور ظالموں کے خلاف استعمال کریں، یہی انسانیت کی پکار اور خدا کی دی ہوئی طاقت کا تقاضا ہےـ

یہ بھی دیکھیں

کس کے ہاتھ پہ لہو تلاش کریں؟

(تنویر قیصر شاہد) اگر کسی مغربی ملک میں یہ سانحہ پیش آتا تو پوری حکومت …