اتوار , 15 ستمبر 2019

کیا امارات، سعودی اتحاد سے نکلنے کی تیاری کر رہاہے؟

 یمن میں انصار کی فتح کے چھ اسباب کیا ہیں ؟ کیا اسرائیل کا حملہ حیران کن ہوگا، رای الیوم کا دقیق جائزہ

جب ابوظہبی کے ولیعہد بن زائد کے سابق مشیر عبد اللہ عبد الخالق کہتے ہیں کہ امارات کے لئے یمن میں جنگ ختم ہو چکی ہے اور صرف اس کا باضابطہ اعلان باقی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یمن سے امارات کے فوجیوں کا انخلاء اسٹراٹیجک قدم تھا ۔

عربی زبان کے اخبار رای الیوم کے سینئر ایڈیٹر عبد الباری عطوان نے اپنے مقالے میں لکھا ہے کہ جب انصار اللہ کے رہنما عبد الملک الحوثی نے اپنے خطاب میں یہ کہا کہ دشمن روز بہ روز بکھرتا جا رہا ہے تو انہوں نے کوئی غلط بات نہیں کہی۔

وہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ عبدالخالق نے اپنے ٹویٹ میں جس بات کا ذکر نہیں کیا ہے وہ یہ ہے کہ سعودی عرب کی قیادت والا عرب اتحاد بھی امارات کے لئے ختم ہو چکا ہے ۔ رای الیوم کے چیف ایڈیٹر نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ گزشتہ مہینے امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبد اللہ بن زائد کے دورہ ماسکو کے وقت ہی یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ یہ ملک بحران یمن سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے، لکھا ہے کہ امارات کو انصار اللہ اور ایران کے رہنماؤں سے مذاکرات کا دروازہ کھولنے کے لئے روس سے اچھا راستہ نہیں ملا ۔

ایڈیٹر نے لکھا کہ ایران و امارات کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے سمجھوتے پر دستخط کے لئے جو گروہ ایران گیا تھا وہ در حقیقت کوئی تکنیکی و سیکورٹی گروہ نہیں تھا بلکہ پہلے مرحلے میں سیاسی گروہ اور دوسرے مرحلے میں فوجی گروہ شامل تھا جو دونوں ممالک کے تعلقات میں رکاوٹوں کو ختم کرنے اور اگلے مرحلے میں اعلی سطحی ملاقاتوں کا زمینہ ہموار کرنے کے لئے گیا تھا ۔

سعودی عرب، جارح حالت سے دفاعی حالت میں آ گیا:
رای الیوم کے ایڈیٹر نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ یمن میں جنگ اپنے کسی بھی مقصد کو حاصل نہیں کر سکے گی اور بڑی تیزی سے خاتمے کی جانب بڑھ رہی ہے اور جنگ کے سعودی عرب کے لئے منفی نتائج برآمد ہوں گے، لکھا ہے کہ تحریک انصار اللہ اس جنگ میں فاتح کے طور پر سامنے آئی ہے اور اپنی باتیں منواتی جا رہی ہے جبکہ سعودی عرب جارح پوزیشن سے دفاعی پوزیشن میں آ گیا ہے ۔ اس جنگ میں اس کے سامنے بہت برے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ پوری دنیا میں اس کی شبیہ خراب ہوگئی ہے اور اس پر جنگی جرائم کے الزامات بھی عائد ہو رہے ہیں ۔ البتہ انصار اللہ کی طاقت میں اضافے کو دیکھتے ہوئے یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ دفاعی پوزیشن میں بھی کوئی کامیابی حاصل کر پائے گا۔

امارات اور سعودی اتحاد بہت کمزور ہو چکا ہے:
عطوان کا کہنا ہے کہ اب جب یمنی سیکورٹی فورس کے میزائل سعودی عرب عرب کی قومی تیل کمپنی کے ہیڈکوائٹر اور اس کی تیل صنعت کے اہم مرکز دمام شہر تک پہنچ گئے ہیں، تو اس کا یہی مطلب ہے کہ یہ صنعتی شہر، جو سعودی اقتصاد کی بنیاد ہے، غیر محفوظ ہو گیا ہے اور سعودی عرب کا 70 لاکھ بیرل تیل (اس کے روزانہ تیل برآمد کی مقدار) خطرے میں پڑ گئی ہے ۔جاری ہے…بشکریہ سحر نیوز

یہ بھی دیکھیں

کس کے ہاتھ پہ لہو تلاش کریں؟

(تنویر قیصر شاہد) اگر کسی مغربی ملک میں یہ سانحہ پیش آتا تو پوری حکومت …