ہفتہ , 21 ستمبر 2019

مسئلہ کشمیر، اب ہماری دانش کا امتحان ہے

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس)

ہندوستان پر مودی کی حکومت دراصل انتہاء پسند ہندو نظریہ سیاست کی حکومت ہے۔ جیسے یہودیت کے انتہاء پسندوں نے صیہونیت کا نظریہ تخلیق کیا اور مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی ضابطے اور کسی بھی بین الاقوامی اصول کے پابند نہیں ٹھہرے، ہر چیز کو طاقت سے روندنا ہے، اتنی دیر رکنا ہے، جتنی دیر طاقت نہ ہو، جیسے ہی طاقت آجائے مدمقابل سے تورات کی قسم کھا کر اور موسی ؑ کے مزار پر کیے گئے معاہدے کو بھی پھاڑ دینا ہے۔ یہ انتہاء پسندی دراصل اسی صلیبی انتہاء پسندی سے آئی ہے، جس نے مغربی دنیا میں مذہبی ہیجان پیدا کر دیا اور صلیبی اس قدر سفاک تھے کہ اپنے راستے میں آنے والے مسیحی بادشاہوں بلکہ پاپائے اعظم تک کو روند ڈالتے تھے۔ اسی لیے کہا گیا کہ صلیبی جنگوں کے دوران اور بعد میں ان صلیبیوں نے مسلمانوں کا تو نقصان کیا ہی، انہوں نے مسیحی دنیا میں بھی بربریت کی انتہاء کیے رکھی۔

ہندوتا کی یہ تحریک بنگال سے اٹھی، جس نے بنگالی مسلمانوں کا جینا دو بھر کر دیا، تقسیم بنگال انہی کی وجہ سے منسوخ ہوئی۔ بنگالی مسلمانوں نے ان کے عزائم کو بہت پہلے دیکھ لیا، اسی لیے مسلم لیگ بنائی اور تحریک پاکستان کا ہراول دستہ بن گئے۔ آج یہ فاشسٹ نظریہ ہندوستان پر حکمران ہے، جو ہر صورت میں اقلیتوں کا استحصال کرے گا اور ان کے تمام حقوق کو غصب کر لے گا۔ جیسے ہی انڈین استعمار نے کشمیر کو خود مختاری دینے والے آرٹیکلز کو ختم کیا، مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی صاحبہ نے فرمایا کہ ہمارے بزرگوں نے سنتالیس میں دو قومی نظریہ کو مسترد کرکے ہندوستان کا جو انتخاب کیا تھا، وہ بیک فائر کر گیا ہے، یعنی جسے ہم حقوق کے محافظ کے طور پر اختیار کر رہے تھے، اس نے ہمارے حقوق چھین لیے ہیں۔

محترمہ اور محترمہ کا خاندان ہند نواز سیاست کے حوالے سے معروف ہے اور ممکن ہے وہ اس سب کے باوجود بھی ہندوستان سے جڑی رہیں، مگر قیادت وہ ہوتی ہے، جو موجودہ حالات سے مستقبل میں پیش آنے والے منظر نامے کو دیکھ سکے اور اس کی روشنی میں فیصلے کرسکے۔ ایک قائد اصل میں انہی صلاحیتوں کا حامل ہوتا ہے، وہ وقتی فوائد اور جذبات پر سوار نہیں ہوتا بلکہ ایسے سخت اور غیر مقبول فیصلے بھی کرتا ہے، جس سے عوامی سطح پر وہ مطعون بھی ٹھہرتا ہے، مگر وقت بتاتا ہے کہ اس فیصلے کے نتائج درست تھے۔ جو دلیل میدان مناظرہ کے بعد یاد آئے اور جو ہتھیار زمانہ جنگ گزر جانے کے بعد چلے، سوائے کف افسوس ملنے کے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

ہندوتا کی یہ تحریک یہاں رکنے والی نہیں ہے، یہ مزید آگے بڑھے گی، یہ اہل کشمیر پر مزید ستم ڈھائے گی، ہر اس آواز کو کچل دیا جائے گا، جو ان کے نظریہ کے سامنے اٹھے گی۔ اب ناگا لینڈ، آسام، منی پور، آندھرا، سکم، ارناچل اور گوا، جہاں پر یہ قانون موجود ہے، یہ لوگ اس کو ختم کریں گے۔ مقصد وہی ہے کہ ان ریاستوں میں بڑے پیمانے پر ہندو انتہا پسندوں کو بسایا جائے۔ ایک اور اہم ڈویلپمنٹ یہ ہونے جا رہی ہے کہ شیڈول کاسٹ اور ترقی میں پیچھے رہ جانے والوں کو جو کوٹہ دیا جاتا ہے، وہ بھی ختم ہونے جا رہا ہے، اس سے انتظامیہ پر انتہاء پسندوں کا مکمل کنٹرول ہو جائے گا۔ وہ طبقات جو پسے ہوئے ہیں، وہ مزید پس جائیں گے۔

تین طلاق کے مسئلے پر مسلمانوں کو نیچا دکھانے کے بعد آہستہ آہستہ آوازیں چار شادیوں پر پابندی لگانے کے لیے اٹھ رہی ہیں۔ انتہا پسندوں کی طرف سے یہ مطالبہ بھی آرہا ہے کہ مسلمانوں کے دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔ اس تمام کا مقصد یہ ہے کہ جب مسلمانوں قانونی اور عملی طور پر شکست خوردہ ہو جائیں گے تو دیگر اقلیتں جیسے سکھ، مسیحی اور دلت وغیرہ تو خود ہی خوفزدہ ہو جائیں گے۔

ہر شر سے خیر بر آمد ہوتی ہے، خصوصی سٹیٹس کی حامل ریاستوں نے اس خطرے کو بھانپ لیا اور اس لیے آزادی کے بعد پہلی بار انڈیا کی شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ میں انہوں نے اپنا جشن آزادی چودہ اگست کو پاکستان کے ساتھ منایا ہے اور حیران کن طور پر اس میں ریاست کے تمام قبائل اور تمام تنظیمیں شامل ہوئی ہیں۔ انہوں نے اپنے جھنڈے لہرائے اور اپنے گیت گائے۔ پنجاب سمیت کئی ریاستوں میں کشمیر کے اس سٹیٹس کو ختم کرنے کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔

1965ء کے بعد پہلی بار مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر آیا ہے اور دنیا بھر کے میڈیا نے کشمیر کے خلاف اس جارحیت کو بھرپور کوریج دی ہے۔ اگرچہ سر دست سلامتی کونسل نے صرف اسے ڈسکس کیا اور اس پر کوئی اعلامیہ وغیرہ جاری نہیں کیا، مگر پھر بھی اس پر اجلاس ہو جانا ہی بڑی بات ہے۔ یہ بھی پاکستان کی کامیابی ہے کہ سلامتی کونسل کے تمام ارکان نے اس سے اتفاق کیا کہ کوئی فریق بھی ایسا کام نہ کرے، جس سے "سٹیٹس کو” میں فرق آئے اور خطے میں حالات کشیدہ ہو جائیں۔ اب پاکستان کو سفارتی محاذ سنبھالنا ہوگا بڑے طریقے کے ساتھ اپنا کیس آزاد دنیا تک پہنچانا ہوگا، جو اب مکمل طور پر سرمایہ درانہ نظام کی اسیر ہوچکی ہے۔

استاد محترم ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب نے درست لکھا کہ ہمیں پہلے او آئی سی کا اجلاس بلا کر ایک متفقہ قرارداد انڈیا کے خلاف منظور کروانی چاہیئے اور پھر مکمل ہوم ورک کے ساتھ یہی قرارداد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے منظور کروانی چاہیئے، کیونکہ ستاون اسلامی ممالک کی سپورٹ آجانے کے بعد یہ قرارداد لانا کافی آسان ہو جائے گا۔ اگرچہ جنرل اسمبلی کی اس قرارداد کی حیثیت ساتھ میں کوئی قوت نافذہ نہیں رکھتی ہوگی، مگر جب مستقبل میں یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں جائے گا تو یہ قرارداد کام آئے گی۔ دوسرا فوری طور پر دنیا پر یہ واضح ہو جائے گا کہ ہندوستان ایک جارح ملک ہے، جو انسانی حقوق کا خیال نہیں رکھتا، جو اقوام متحدہ میں کیے گئے وعدوں کی پاسداری نہیں کرتا۔ اگر ہم یہ حاصل کر لیتے ہیں تو بڑی کامیابی ہوگی۔

ایک کام اہل کشمیر کو کرنا ہے اور وہ یہ کام سینے پر گولی کھا کر بھی کر رہے ہیں اور وہ اس استعماری قبضے کو کسی بھی صورت میں تسلیم نہیں کرنا اور اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھنی ہے۔ یہ بات کہنے کو آسان ہے مگر اس پر عمل کرنے کے لیے شیر جیسا دل چاہیئے، اہل کشمیر تہتر سال سے مسلسل اپنی شناخت کی حفاظت کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ بچے، بوڑھے، جوان اور خواتین سب کے سب "لے کے رہیں گے آزادی” اور "گو بیک انڈیا گو بیک” کے نعروں سے جذبوں کو جوان رکھے ہوئے ہیں، اس کو جاری رکھنا ہے۔ مودی نے ایک موقع دیا ہے کہ ہم اپنی کوتاہیوں کو دور کرکے کشمیر کی تحریک آزادی کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …