ہفتہ , 21 ستمبر 2019

گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزی کا اصل ذمہ دار کون۔۔؟

(تحریر: شیر علی انجم)

پانچ اگست 2019ء کو مودی سرکار کی جانب سے جموں کشمیر لداخ کی خصوصی حیثیت سے متعلق ہندوستانی آئین کے دو اہم شقات کی خاتمے کے بعد اور مورخہ 12 اگست 2019ء کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے مظفر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو کسی قسم کا صوبہ بنانے کی کوششوں سے انکار پر گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ کا مطالبہ اس وقت سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔ ہر کوئی یہی سوال اُٹھا رہا ہے کہ گلگت بلتستان میں اسٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزی سب سے پہلے کس نے کی؟ اور کون اس کام کو انجام دینے کیلئے کلہاڑی کے دستے کے طور پر استعمال ہوئے۔ لہٰذا اس حوالے سے اگر ہم ماضی میں پلٹ جائیں تو اس قانون کی خلاف ورزی میں گلگت بلتستان کے مذہبی اکابرین کا ہی ہاتھ نظر آتا ہے، کیونکہ یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ 1956ء میں سکندر مرزا کے دور میں اُس وقت کو پولٹیکل سردار جان محمد خان نے ایک سازش کے تحت اُس وقت کی کچھ مقامی مذہبی شخصیات مرحوم آغا برمس اور مرحوم مولوی گلمتی کو اعتماد میں لیا۔ حالانکہ یہ دونوں شخصیات اس حوالے سے مجاز اتھارٹی نہیں تھیں، لیکن اُن کے سامنے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزی کیلئے دلیل پیش کی کہ اس قانون کی وجہ سے گلگت بلتستان میں ترقی اور تعمیر کا دروازہ ہمیشہ بند رہے گا، کیونکہ جب تک باہر سے لوگ کاروبار کیلئے یہاں نہ آئے گا، تو یہاں کاروبار کیسے ہوگا نظام زندگی کیسے چلے گا۔

اُس وقت بھی چونکہ لوگ قلیل تعداد میں اپنے حقوق کیلئے متحرک تھے، اُن میں کشروٹ سے تعلق رکھنے والے مرحوم غلام محمد غون جو اُس وقت قوم پرست لیڈر ہوا کرتے تھے۔ اُنہوں نے اس فیصلے کے خلاف ٹھیک ٹھاک مزاحمت کی، اُنہیں مزاحمت پر پولٹیکل ایجنٹ کے زرخرید مقامی افراد کی جانب سے مارنے پیٹنے اور سٹیٹ سبجیکٹ ختم کرنے کی خبروں پر گلگت میں لوگوں نے احتجاج کرنے کے واقعات اور جس کے نتیجے میں چھ سے زیادہ لوگوں کی گرفتاری اور عوام کا جیل کو توڑنا جیسے افسوناک واقعات کا پیش آنا بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ آگے جاکر ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں متنازعہ حیثیت کے باوجود سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزی پر عملی کام شروع ہوا، جس کے تحت 1974ء میں اُس وقت کے ڈی سی نے حکم دیا کہ جن پر بھی غیر ریاستی باشندوں نے گذشتہ پانچ سالوں میں گلگت بلتستان کے اندر زمین خریدی، وہ یہاں کا ڈومیسائل حاصل کر سکتے ہیں۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسکندر مرزا کے دور میں راہ ہموار کرکے بھٹو کے دور میں خلاف ورزی کا باقاعدہ آغاز کردیا، لیکن اس کے باوجود ریاست پاکستان گلگت بلتستان میں اسٹیٹ سبجیکٹ کی موجودگی کا اعلان بھی کرتے رہے ہیں اور دفتر خارجہ کی طرف سے تازہ ترین بیان جمعہ 5 اپریل 2019ء کی بریفنگ میں آیا، جب صحافی کے سوال پر دفتر خارجہ کے ترجمان نے گلگت بلتستان یہ قانون نافذ ہونے کا دعویٰ کیا، لیکن عملی طور پر خلاف ورزی ہورہا ہے۔

اسی تناظر میں چند ماہ قبل شدید عوامی مطالبے کو دیکھ کر موجوہ وقت میں مسلم لیگ نون میں شامل اسپیکر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی فدا محمد ناشاد نے اخباری بیان دیا کہ سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزی قانون ساز اسمبلی میں ایک قراداد سے رُک سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کیپٹن ریٹائرڈ محمد شفیع خان اور دیگر اپوزیشن اراکین قوم پرست رہنما نواز خان ناجی اور پیپلزپارٹی کے ممبر اسمبلی جاوید حسین کی جانب سے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزی روکنے کیلئے سمری تیار کی گئی، جسے باقاعدہ طور پر اسمبلی میں زیر بحث لانے کیلئے ہاوس ایڈوائزی کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔ لیکن میڈیا رپورٹ کے مطابق ایڈوائزی کمیٹی میں اس بل کی سب سے پہلے مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے اسپیکر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی فدا محمد ناشاد اور مسلم لیگ نون کے وزیر قانون اورنگزیب خان اور ایم ڈبلیو ایم سے تعلق رکھنے والے ممبر اسمبلی حاجی رضوان نے دیگر ممبران کی رائے لئے بغیر ہی بل کو غداری قرار دیکر مسترد کردیا۔

ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ آج یہی لوگ جموں کشمیر لداخ میں آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35A کی خاتمے پر احتجاج کرتے نظر آتا ہے حالانکہ گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کی سب سے بڑی اکائی ہے اور ہمارے عوام کا اس خطے کو پاکستان میں شامل کرنے کیلئے مطالبات کے باوجود ریاست کا قومی بیانیہ یہی ہے کہ گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے، لیکن قوانین پہلے جموں کشمیر لداخ اور آزاد کشمیر سے مختلف تھے اور آج آزاد کشمیر سے مختلف طور پر لاگو ہیں۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزیوں کو روک کر ہندوستان کو سفارتی محاذ پر شکست دیں کیونکہ اس وقت ہندوستانی میڈیا گلگت بلتستان کے مسلے کو لیکر مسلسل ٹاک شوز اور خبر نشر کرکے دنیا کو یہی بتا رہا ہے کہ جو کام ہم نے آج کیا وہی کام پاکستان نے گلگت بلتستان میں دہائیوں پہلے کی ہوئی ہے۔ اس وقت اگر حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو جموں کشمیر لداخ کے حوالے بھارتی آئین کے دو شقات کی خاتمے کے بعد مسلہ کشمیر واپس اقوام متحدہ کے ٹیبل پر چلا گیا ہے اور کل سلامتی کونسل کا اجلاس ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست جموں کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس خطے کی قسمت کا فیصلہ یہاں کے عوام نے کرنا ہے۔لہذا مسلہ کشمیر کے حوالے سے اس وقت بھارت کمزور پوزیشن پر ہے اور اُنہیں مزید کمزور کرنے کیلئے گلگت بلتستان اس خطے کی متنازعہ حیثیت کے مطابق حقوق دینے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …