ہفتہ , 21 ستمبر 2019

بھارت کا دشمن نریندر مودی!

(عطاء الحق قاسمی)

مجھے لگتا ہے کہ اس مرتبہ کشمیر کی جنگ پاکستانی اور کشمیری عوام نے خود لڑنا ہے، مجھے فی الحال کسی اور دریچے سے روشنی کی کرن نظر نہیں آرہی۔ ہم نے اپنی خارجہ پالیسی تباہ کردی ہوئی ہے۔ اپنے تمام ہمسایوں کو ناراض کر رکھا ہے، ہمارے سفارتخانوں میں ان افراد کی کمی ہے جو پاکستان کی سفارت کو نوکری نہیں ایک مشن بھی سمجھتے ہوں، دوسرے تمام سرکاری اداروں کے علاوہ پاکستان کے اس اہم ترین حفاظتی حصار میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو کسی دوسرے ملک کے شہری بھی ہیں اور دوسرے اداروں یا عام افراد کے علاوہ انہوں نے بھی حلف اٹھایا ہوتا ہے کہ وہ اپنے آبائی وطن کے مقابلے میں اپنے نئے وطن کے مفادات کو اولیت دیں گے۔ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے چنانچہ فی الحال میں حکومت سے صرف یہ عرض کروں گا کہ گزشتہ دنوں ایک (نامکمل) فہرست شائع ہوئی تھی جن میں ان کا اور ان کے ادارے کا نام لے کر بتایا گیا تھا کہ ان کے پاس فلاں فلاں ملک کی شہریت ہے اور اس فہرست میں گریڈ بائیس کے افسران بھی شامل ہیں، سو حکومت سے میرا مطالبہ ہے کہ وہ قانونی تقاضے پورے کر کے ان سب کو ملازمت سے فارغ کرے اور جب تک یہ تقاضے پورے نہیں ہوتے، انہیں کسی ایسے ’’کھڈے‘‘ لائن لگایا جائے جہاں اہم قومی رازوں تک ان کی رسائی نہ ہوسکتی ہو۔

میں نے کالم کے آغاز میں عرض کیا تھا کہ اس بار کشمیریوں کے حقوق کے لئے جنگ پاکستانی اور کشمیری عوام مل کر لڑیں گے۔ ہماری فوج کو ’’کھڑکا دھڑکا‘‘ کرتے رہنا چاہئے تاکہ کشمیری عوام کو حوصلہ ہو کہ ان کے ساتھ ایک جنگجو قوت بھی موجود ہے مگر جنگ کا دائرہ وسیع نہ ہو تو یہ بہتر ہے۔ میں لوگوں میں گھومنے پھرنے والا شخص ہوں اور میں نے محسوس کیا ہے کہ اس بار پاکستانی عوام شدید غصے کے عالم میں ہے اور کشمیری عوام جس طرح بھارتی درندوں کے ظلم کا شکار ہو رہے ہیں اور اس کے باوجود ان کے حوصلے اور ولولے تازہ دم ہیں، یہ حوصلہ اور پامردی پاکستانی عوام کے جذبوں کو مہمیز دے رہی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ میں اپنے ان دوستوں کو بھی فیس بک پر کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کررہے ہیں اور ان پر ہونے والے مظالم پر شدید غم و غصے کی حالت میں نظر آتے ہیں جو اس سے پہلے مجھے حال مست یا مال مست نظر آتے تھے۔ ایک بےحد حوصلہ افزا بات دنیا بھر کے حریت پسند افراد اور تنظیموں کا ردعمل ہے جو سامنے آرہا ہے بلکہ خود بھارت کے جمہوریت پسند اور انسان دوست لوگ نریندر مودی کو ایک شیطان کے روپ میں پیش کررہے ہیں۔ دنیا بھر کے صف اول کے اخبارات اور جرائد نے کشمیر پر ٹائٹل اسٹوریز شائع کی ہیں اور مودی کو مسلمانوں، انسانیت اور جمہوریت کا دشمن قرار دیا ہے۔ اس بار آزاد کشمیر سے نکلنے والی ریلیاں بھی روایتی قسم کی نہیں بلکہ جوش و جذبے سے بھرپور تھیں۔ نوجوان صحافی فرخ وڑائچ گزشتہ روز آزاد کشمیر کے دورے سے لوٹے تو انہوں نے اس حوالے سے نہایت حوصلہ افزا باتیں بتائیں۔

مجھے دن میں کئی ایسی وڈیو کلپس موصول ہوتے ہیں جن پر کشمیری عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور نوجوانوں پر بہیمانہ تشدد کرتے دکھایا گیا ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ دیکھنے کا مجھ میں یارا نہیں ہوتا چنانچہ بعض اوقات میں ساری وڈیو نہیں دیکھ پاتا۔ ایک بہت اہم بات جو مودی کے اقدامات سے جنم لے رہی ہے وہ یہ کہ صرف کشمیر نہیں بھارتی مسلمانوں میں بھی بھارت کے خلاف نفرت پیدا ہو رہی ہے اور وہ ہونا ہی تھی جب انہیں بھی محض مسلمان ہونے کی پاداش میں گلیوں اور بازاروں میں گھسیٹا جاتا ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک بات جو دلوں کو چیر دینے والی ہے وہ مودی ذہنیت کے حامل ان بھارتیوں کے یہ بیانات ہیں کہ اب وہ خوبصورت کشمیری لڑکیوں کو بیاہ کر لائیں گے۔ اس پر آج ہی مجھے اجمیر شریف کے سید طاہر شاہ کا ایک وڈیو پیغام ملا ہے جس میں انہوں نے ان ناپاک عزائم پر چار حرف بھیجے ہیں اور کہا ہے کہ ’’میں آل رسولؐ‘‘ میں سے ہوں، امام حسینؓ کا ماننے والا ہوں، مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہر سطح پر ان یزیدیوں کا مقابلہ کرنے اور ان کے عزائم تہس نہس کرنے کے لئے یکجا ہو جائیں‘‘۔ سو میری بات یاد رکھیں، مودی کشمیر اور پاکستان کا اتنا دشمن نہیں، جتنا دشمن وہ خود بھارت کا ثابت ہوگا۔ بھارت کا یہ نادان دوست بھارت کی جڑوں میں بیٹھ گیا ہے اور اس کی پالیسیوں کا انجام جلد یا بدیر سامنے آکر رہے گا۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …