ہفتہ , 21 ستمبر 2019

مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل اجلاس‘ اپنے اور غیر

(ڈاکٹر دوست محمد)

ایک لحاظ سے بہت بڑی کامیابی ہے کہ تقریباً پچاس برس بعد مسئلہ کشمیر جس کے بارے میں بھارت نے اٹوٹ انگ کا تکرار کرتے ایک عرصے سے دنیا کو غلط فہمی میں مبتلا کیا تھا کہ کشمیر گویا بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ سلامتی کونسل کے بند کمرے میں ہی سہی‘ ایجنڈے پر مشاورتی اجلاس سامنے آیا۔ علامتی طور پر یہ پاکستان کی سفارتی کامیابی اور بھارت کی ناکامی ہے۔ ایک دنیا اس کا اعتراف کر رہی ہے کہ بھارت کی سفارتی سطح پر بڑی سبکی ہوئی ہے کیونکہ بھارت کی کانگریسی حکومتوں نے ایک زمانے سے دنیا کو ہندوستان کی تاریخ وثقافت اور سیکولرازم کے سحر میں مبتلا کرایا تھا۔

9/11 کے بعد بھارت نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی تحریک کو ’’ممبئی‘‘ اور پلوامہ حملوں کے واقعات کے ذریعے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ کشمیری آتنک وادی ہیں اور پاکستان کی آشیرواد ان کو حاصل ہے۔ بھارت ایک عرصے سے اسے سرحد پار دہشتگردی کا نام دیتا رہا ہے لیکن کشمیریوں کے بے گناہ خون اور بے مثال قربانیوں نے آخرکار دنیا کے باضمیر لوگوں کو متاثر کر ہی لیا اور یوں سلامتی کونسل کا اجلاس انعقاد پذیر ہوا۔ اگرچہ یہ بہت خوش آئند ہے کہ سلامتی کونسل میں امریکہ‘ روس اور برطانیہ نے اس اجلاس کے انعقاد کی مخالفت نہ کی اور چین تو خیر ہمیشہ سے پاکستان کا ساتھ دینے میں مصروف ہی ہے لیکن چار مستقل ارکان اس بات پر ظاہراً متفق ہوتے ہوئے بھی کہ مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اوپن اجلاس ہونا چاہئے لیکن ’’یار لوگوں‘‘ نے پردے کے پیچھے سے فرانس کو دبایا یا ’’قائل‘‘ کیا کہ اس نے اوپن اجلاس کی مخالفت کی اور بھارت اسی بات پر اتراتا ہے لیکن یہ بھی غنیمت ہے کہ سارے مستقل ارکان نے اس بات کا کھلم کھلا اعتراف کیا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں بغیر کسی ابہام کے کشمیریوں کو حق خودارادیت کا حق دیتی ہے اور یہی پاکستان کا کشمیر پر تاریخی موقف اور مطالبہ ہے۔

روس نے کمال اعتدال کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت اور پاکستان دونوں کو دوست ممالک قرار دیا اور یہ بھی پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی اور موقف کی کامیابی ہے۔ امریکہ کو چونکہ اس وقت افغانستان کے کشیدہ وپیچیدہ حالات میں پاکستان کی ضرورت ہے اسلئے بھارت کا گہرا شراکتدار ہوتے ہوئے بھی کھل کر سامنے نہیں آیا۔ جہاں تک چین کا تعلق ہے وہ تو بعض اوقات پاکستان کی حد سے زیادہ مغرب یا امریکہ پرستی سے پریشان ہو کر بھی جنم جنم کا یار ہونے کے سبب پاکستان کا دامن چھوڑ نہیں سکتا۔ سی پیک کے بعد تو معاملہ ’’تو من شدی من تو شدم‘‘ والا ہو گیا ہے۔ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین اور امریکہ وروس کا شکریہ کہ انہوں نے اجلاس ہونے دیا لیکن یہ گلہ تو اپنی جگہ ہر کشمیری اور ہر پاکستانی کی زبان پر رہا کہ اگر کشمیری مسلمانوں کے علاوہ کسی مسلمان ملک کے ہاتھوں اپنی کسی اقلیتی گروہ یا فرقہ کیساتھ ایسا رویہ روا رکھا جاتا تو ان بڑے سرپنچوں کا رویہ اور ردعمل ہوتا۔ امریکہ اور مغربی ممالک ذرا اس بات کا تصور تو کرے کہ دو ہفتے سے ڈیڑھ کروڑ انسان گھروں میں بند ہیں۔ خوراک‘ دوائیاں‘ تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات اور سب بے بڑھ کر بغیر کسی دلیل وقانون کے حبس بے جا اور کشمیر جنت نظیر کو اوپن جیل میں تبدیل کرنا اور اس دور میں کہ دنیا گلوبل ویلج (عالمی گاؤں) بن چکی ہے۔ ٹیلی فون‘ نیٹ اور رابطے کے ذرائع کا انقطاع آخر کہاں کا انصاف ہے۔

اس میں شک نہیں کہ مغربی پریس بالخصوص واشنگٹن پوسٹ‘ گارڈین اور فارن پالیسی جیسے اخبارات وجرائد نے کھل کر مودی کے غیرآئینی‘ غیرقانونی اور غیراخلاقی فیصلے کی مذمت کی لیکن مغرب کے حریت پسند اور انسانی حقوق کیلئے مر مٹنے کا عزم رکھنے والی عوام کی طرف سے کوئی بڑا ردعمل سامنے نہ آنا یقینا قول وفعل میں تضاد کی نشاندہی کرتا ہے لیکن ہم ان سے گلہ کیوں اور کیسے کر سکتے ہیں کہ اپنے اور بہت قریبی بھی اپنی مفادات کیلئے زیرلب ہیں۔ وہ بھی جنہوں نے کہا تھا کہ ’’ہم اپنے ملک پاکستان کے سفیر ہوں گے‘‘ شاید تیل کے بہاؤ میں سفارتکاری بھول چکے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب کشمیریوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ بھارت میں ان کی بھاری سرمایہ کاری کا اعلان عجیب سا ہے لیکن آج کی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ دوستی اور بھائی چارہ اس وقت تک ہے جب تک مفادات ہیں ورنہ بات وہی ہے جو شاعر نے کہی تھی کہ

بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی

بیچ ہی دیویں جو یوسف سا برادر ہووے

لیکن میں کبھی سوچتا ہوں کہ جب میدان حشر میں نبی کریمؐ کے سامنے امت کا حساب کتاب ہوگا تو یہ لوگ کیا جواب دیں گے۔ اقبال نے اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی اللہ سے سوال کیا تھا۔ از نگاہ مصطفیؐ پنہاں بگیر، ہمیں تو امت کے حوالے سے جو سبق پڑھائے گئے تھے آج تو اس کے بالکل خلاف دیکھ رہے ہیں شاید یہ آج کے زمانے کی ریت بن گئی ہے کہ مادیات‘ روحانیات کو مغلوب کرچکے ہیں۔

کچھ اور سبق ہم کو زمانے نے سکھائے

کچھ اور سبق ہم نے کتابوں میں پڑھے تھے

(بشکریہ مشرق نیوز)

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …