ہفتہ , 21 ستمبر 2019

کیا امارات، سعودی اتحاد سے نکلنے کی تیاری کر رہاہے؟

یمن میں انصار کی فتح کے چھ اسباب کیا ہیں ؟ کیا اسرائیل کا حملہ حیران کن ہوگا، رای الیوم کا دقیق جائزہ

گزشتہ سے پیوستہ…

متحدہ عرب امارات کے عہدیدار بھی ان حقائق بلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک مسائل سے آگاہ ہیں ۔ اس بنیاد پر انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ جنگ یمن اور سعودی اتحاد سے باہر نکل جائیں، چاہے انہوں نے پہلے موضوع کو واضح طور پر بیان کر دیا ہو اور دوسرے کو پوشیدہ کر لیا ہو۔اس بنیاد پر یہ اتحاد ایک باریک بال سے بندھا ہوا ہے جو کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا ناراضگی سے کبھی بھی ٹوٹ سکتا ہے۔

یمن کے انصار اللہ کی فتح کے 6 اسباب :

رای الیوم کے چیف ایڈیٹر نے لکھا ہے کہ کچھ اسباب ہیں جن کی وجہ سے تحریک انصار اللہ بہت زیادہ طاقتور ہوگئی ہے۔ یہ اسباب جو انصار اللہ کے داخلی اور باہری دشمنوں اور جارح ممالک کے دماغ میں نہیں آ سکتے، اس طرح ہیں :تحریک انصار اللہ بغیر کسی پس و پیش کے فیصلہ کرنے کی توانائی رکھتی ہے۔

وہ اپنے ملک، اپنی سرزمین، اپنی عزت اور اپنے وقار کی حفاظت کر رہی ہے۔اسے عرب اور تیل سے مالا مال ممالک کی حمایت حاصل نہیں ہے اور اگر اسے ان کی حمایت حاصل ہوتی تو اس کی شکست یقینی تھی ۔

وہ فلسطین اور مزاحمتی محاذ کے ساتھ امریکا اور اسرائیل کے مقابلے میں ایسے وقت میں کھڑی ہے جب بہت سے عرب ممالک، صیہونی دشمن سے تعلقات استوار کر رہے ہیں ۔بحران یمن کا بڑی ہوشیاری سے انتظام، صبر و تحمل کی پالیسی پرعمل اور ان 400 اہداف کا بڑی دقت سے انتخاب جن میں سے ابھی صرف 10 ہی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

جھوٹ نہ بولنا اور پراکسی وار سے دوری۔

کیا اسرائیل کا اگلا حملہ حیران کن ہوگا؟
رای الیوم اخبار کے چیف ایڈیٹر عبد الباری عطوان نے اپنے مقالے کے آخر میں لکھا کہ ہم اپنی بات کو ایک پیشن گوئی سے ختم کرتے ہیں جو شاید کچھ لوگوں کے لئے بہت تعجب خیز ہو اور پسند بھی نہ آئے ۔ وہ پیشن گوئی یہ ہے کہ یمنی سیکورٹی فورس کے میزائلوں کا اگلا نشانہ مقبوضہ فلسطین کی ایلات اور ام الرشام بندرگاہ ہو سکتی ہے کیونکہ جب کسی کے پاس ایسے میزائیل ہوں، ریاض اور دمام میں اپنے اہداف کو دقت سے نشانہ بنا سکتے ہوں، وہ اسرائیل کی ان بندرگاہوں پر بمباری اور صیہونی کالونیوں کے باشندوں کو خوفزدہ کرنے میں ذرا بھی پس و پیش نہیں ہوں گے۔

شاید کچھ افراد یہ کہیں کہ اسرائیلی فوج صنعا، صعدہ اور دیگر شہروں پر بمباری کرکے جواب دے گی تو اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ اسرائیل کے لئے اس بمباری کے نتائج منفی ہوں گے اور اسے کوئی نیا نتیجہ نہیں ملے کا کیونکہ گزشتہ پانچ برسوں میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جنگی طیارے یہی کرتے رہے ہیں اور انہوں نے بمباری کے لئے کوئی نیا ہدف باقی ہی نہیں چھوڑا لیکن اس کے باوجود وہ یمنیوں کو جھکانے میں ناکام رہے ہیں ۔

یمنی فورس کے ہاتھوں مقبوضہ فلسطین کے اندر در بمباری اور اسرائیلی کی جانب سے اس کا جواب، الحوثی گروہ کو ایسے ہیرو میں بدل دے گا جو دسیوں کروڑ عرب و مسلمانوں والے علاقے کی ایک طاقت کی قیادت کریں گے۔ اب یہ پیشن گوئی کب پوری ہوگی؟ اس سوال کے جواب کے لئے اگلے ہفتوں اور مہینوں کا انتظار کرنا ہوگا۔بشکریہ سحر نیوز

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …