اتوار , 15 ستمبر 2019

امریکہ کو سلامتی کونسل کی قرار داد بائیس اکتیس کے تحت اپنے وعدوں پر عمل کرنا چاہیے،ایران

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے ایک بار پھر کہا ہے ایران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔فن لینڈ کے دارالحکومت ہلسنکی میں فنلینڈی وزیرخارجہ پیکا ہاوسٹو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہاکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کی کوئی بھی کوشش امریکہ کو ایٹمی معاہدے میں واپس لانے کی سمت ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو سلامتی کونسل کی قرار داد بائیس اکتیس کے تحت اپنے وعدوں پر عمل کرنا چاہیے کیونکہ واشنگٹن نے بھی اس قرار داد کی حمایت کی تھی۔بیس جون دوہزار پندرہ کو قرار دادا بائیس اکتیس کی منظوری کے نتیجے میں سلامتی کونسل کی ایران مخالف پچھلی وہ تمام چھے قراردادیں منسوخ ہوگئی تھی جن کے تحت ایران پر ناروا پاپندیاں عائد کی گئی تھیں۔

ایران کے وزیر خارجہ کہا کہ آبنائے جبل الطارق کی انتظامیہ کی جانب سے امریکہ اور برطانیہ کی شہہ پر ایرانی تیل بردار بحری جہاز کو روکا جانا غیر قانونی تھا، جبکہ مذکورہ بحری جہاز کے بارے میں امریکی عدالت کا تازہ فیصلہ سیاسی محرکات کا حامل ہے۔فن لینڈ کے وزیر خارجہ پیکا ہاوسٹو نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ ہونے والے جامع ایٹمی معاہدے کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ایران کے وزیر خارجہ نے اس مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد فن لینڈ کے وزیر ترقیات و فروغ تجارت ویل اسکیناری سے بھی ملاقات اور گفتگو کی۔وزیر خارجہ ڈاکٹر محمدجواد ظریف فن لینڈ کے بعد سوئیڈن اور ناروے کا بھی دورہ کریں گے۔

درایں اثنا این بی سی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک بار پھر تہران کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کبھی جنگ میں پہل نہیں کی ہے لیکن جارحین کو ہمیشہ عبرت کا سبق ضرور سکھایا ہے۔ایران کے وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ایران خود کو عدم جارحیت کا پابند سمجھتا ہے لیکن ہر طرح کی جارحیت کا منھ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

یہ بھی دیکھیں

عراق کے مشرق میں داعش کے خلاف آپریشن کا آغاز

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک)عراقی فورسز نے عراق کے مشرقی علاقہ میں وہابی دہشت گرد تنظیم داعش کے …