ہفتہ , 21 ستمبر 2019

پاکستان تحریک انصاف کا ایک سال: خارجہ محاذ پر کیا کچھ ہوا؟

(آصف شاہد)

وزیرِاعظم عمران خان نے الیکشن جیتنے کے بعد پہلی تقریر میں اپنی ترجیحات سے قوم کو آگاہ کیا تھا۔ اس تقریر میں زیادہ توجہ داخلی مسائل پر تھی لیکن چند ایک خارجہ پالیسی اصولوں اور ترجیحات کا بھی ذکر تھا۔تحریک انصاف کی انتخابی مہم اور الیکشن جیتنے کے بعد عمران خان کے بیانات سے یہ محسوس ہوا کہ خارجہ پالیسی ان کی ترجیحات کی فہرست میں کہیں بہت نیچے ہے۔ اس وقت یہ تبصرے بھی کیے گئے کہ تحریک انصاف نے خارجہ پالیسی ریاست کے اصل پالیسی سازوں پر چھوڑ رکھی ہے، اور ایک سال گزرنے کے بعد یہ تبصرہ کسی حد تک جائز معلوم ہوتا ہے۔

چین پہلے نمبر پر
عمران خان کی پہلی تقریر میں خارجہ پالیسی میں چین پہلے نمبر پر تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ چین نے سی پیک کے ذریعے بڑی سرمایہ کاری کرکے پاکستان میں انفرااسٹرکچر اور ترقی میں مدد دی۔ لیکن پھر مشیرِ تجارت عبدالرزاق داؤد کے بیانات نے چین کے ساتھ معاملات متاثر کیے، جنہوں نے چین کے منصوبوں پر نظرِثانی کا اعلان کیا لیکن پھر اس خرابی کو دُور کر لیا گیا۔ہاں مگر چین کے ساتھ تعلقات کو نئی منزلوں کی طرف لے جانے کا بھی کوئی اقدام نظر نہیں آیا، لیکن یہ غنیمت ہے کہ سدا بہار دوستی پر خزاں کا سایہ نہیں پڑا۔

چین نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کے لیے سرگرمی دکھائی، یہ الگ بات ہے کہ معاملہ بند کمرہ مشاورتی اجلاس سے آگے نہ بڑھ سکا۔

پاکستان کی جانب بند کمرہ مشاورتی اجلاس کو بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے اور یہ ٹھیک بھی ہے کیونکہ اقوام متحدہ میں 50 سال بعد مسئلہ کشمیر پر بات ہونا یقیناً اہم ہے لیکن بند کمرہ مشاورتی اجلاس کی کارروائی ریکارڈ پر نہیں آتی۔ مشاورتی اجلاس میں روس اور فرانس نے خصوصی اجلاس بلانے کی مخالفت کی۔

امریکا اور برطانیہ نے کیا رائے اختیار کی، یہ اب تک ریکارڈ پر نہیں آسکا، مگر اقوام متحدہ میں روس کے نائب مندوب ٹوئٹر پر مؤقف بیان کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق کشمیر دو طرفہ معاملہ ہے اور دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پر آنا چائیے۔

فرانس کا مؤقف بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہوچکا۔ فرانس کا کہنا تھا کہ کشمیر پر خصوصی اجلاس بلانے کے بجائے اسے کسی بھی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کم رسمی انداز میں زیرِ بحث لایا جائے۔ کم رسمی سے مراد یہ ہے کہ کشمیر ایجنڈا آئٹم نہ ہو بلکہ دیگر معاملات کی ذیل میں زیرِ بحث آجائے۔

او آئی سی اور عرب ممالک کا مایوس کن کردار
کشمیر پر اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی نے فعال کردار ادا نہیں کیا۔ سعودی عرب اور امارات کے شہزادوں کو جو پروٹوکول ہماری حکومت نے دیا اسے انہوں نے اپنا حق جانا کیونکہ معاشی مسائل میں گھرے ملک کو انہوں نے چند ارب ڈالر اور ادھار تیل دیا ہے۔

کشمیر کے معاملے پر سعودی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کشمیر میں تعینات بھارتی فوج اور کرفیو کا ذکر تک نہیں تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر سعودی عرب نے 5 اگست کو کشمیر کی جداگانہ حیثیت کے خاتمے کے اقدام کے ٹھیک 7 دن بعد بھارت میں 15 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کردیا۔ یہ 15 ارب ڈالر شہزادہ محمد بن سلمان کے وعدہ کی تکمیل کی طرف پہلا قدم ہے۔ محمد بن سلمان نے 2021ء تک بھارت میں 100 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے تو بھارتی اقدام کی حمایت ہی کردی اور نئی دہلی میں عرب امارات کے سفیر احمد البنا نے کہا کہ کشمیر میں حالیہ تبدیلیوں سے سماجی انصاف اور سیکیورٹی میں بہتری آئے گی۔ کشمیر میں استحکام اور امن آئے گا۔ سیکیورٹی کونسل کے غیر مستقل ارکان میں کویت بھی ہے لیکن کویت اور بحرین نے بھی بھارت کی مذمت کا کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

ترکی کی حمایت برقرار
ترکی واحد ملک ہے جس نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت میں بیان دیا۔ ترکی کی حمایت کو مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور ترک کیمپ کی تقسیم کا نتیجہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ سعودی عرب اور ترکی دونوں ہی مسلم دنیا میں قیادت کے دعویدار ہیں۔ کشمیر کی موجودہ صورت حال میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حال کھل کر سامنے آچکا ہے۔

افغانستان کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟
وزیرِاعظم عمران خان کی دوسری ترجیح افغانستان میں امن اور امریکا کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات کرنا تھا۔ برابری کی بنیاد پر بات کے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے وزیرِاعظم نے ٹوئٹر پر ترکی بہ ترکی ٹویٹ داغے، لیکن دورہ واشنگٹن میں صدر ٹرمپ اور عمران خان اپنے مزاج کے مطابق ان ٹوئٹر پیغامات کو بھول کر ملے۔

امریکا کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات کرنے اور افغانستان میں امن کے ایجنڈے پر حکومتی کارکردگی کو دورہ واشنگٹن کے نتائج کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے۔ دورہ واشنگٹن کے بعد کہا گیا کہ امریکا نے اس بار ڈومور نہیں کہا۔ میڈیا کا ایک بڑا حصہ یہی رپورٹ کرتا نظر آیا۔ پہلے بھی نشاندہی کی تھی اور اب بھی کر رہا ہوں کہ ڈومور کہا گیا ہے۔ اس بار ڈومور یہ ہے کہ افغان طالبان کو میز پر لا کر افغان سرزمین پر 2 امریکی اڈے برقرار رکھنے کی شرط منوائی جائے۔

واشنگٹن پوسٹ نے نیو جرسی میں صدر ٹرمپ کے گالف کلب میں ہونے والے قومی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس پر رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی فوج بگرام اور قندھار ایئر بیس اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔ زلمے خلیل زاد افغان طالبان کے ساتھ تکنیکی معاملات بھی زیرِ بحث لا چکے ہیں اور اگلی ملاقات میں دونوں فریق اپنی قیادت کے مشورے سے معاہدے کو فائنل کریں گے۔

زلمے خلیل زاد واشنگٹن پہنچنے سے پہلے جرمنی گئے جو افغان دھڑوں میں مذاکرات کرانے کا ذمہ دار قرار پایا ہے۔ زلمے خلیل زاد کا واشنگٹن سے پہلے آخری پڑاؤ ناروے تھا جو افغان دھڑوں کی میزبانی کرے گا۔ خلیل زاد کی سرگرمی بتاتی ہے کہ معاملات حتمی سمجھوتے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

نیو جرسی میں اجلاس کے بعد وائٹ ہاؤس نے بھی افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت کا تصدیقی بیان جاری کیا۔ صدر ٹرمپ نے بھی ٹوئٹ کی کہ 19 سالہ جنگ کے خاتمے کے حق میں بہت لوگ ان کے ساتھ ہیں اور وہ طالبان کے ساتھ امن معاہدہ چاہتے ہیں۔

ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کیسے رہے؟
ہمسایوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری بھی عمران خان کے ایجنڈے میں تھی۔ بھارت کے ساتھ تعلقات تو اب کشمیر کے حالات کی وجہ سے مستقبل قریب میں بھی بہتر ہونے نظر نہیں آرہے۔ مودی کے دوسری مدت کے لیے انتخاب سے پہلے عمران خان اور حکومتِ پاکستان نے جو بہتری کی توقعات باندھی تھیں وہ الٹ ہوگئیں۔ انتہا پسند بی جے پی کشمیر کا مسئلہ حل کرسکتی ہے، یہ ایسا واہمہ تھا جس نے پاکستان کی امن کی خواہش کو مودی کی نظر میں کمزوری بنا دیا۔ وزیرِاعظم کو اس وہم میں مبتلا کرنے والے کون تھے اور وہ اب کیا کر رہے ہیں؟

ہمسایوں کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش رکھنے والی اس حکومت نے سارک ممالک کو پوری توجہ نہیں دی۔ مودی حکومت نے سارک ملکوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ مودی کا حالیہ دورہ بھوٹان اور سڑکوں پر اسکولوں کے بچے کھڑے کرکے ان کا استقبال مودی حکومت کی خطے میں سفارتکاری کو نمایاں کرتا ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت پہلے ہی پاکستان مخالف نظریات والوں کی ہے۔ مالدیپ میں بھی بھارتی اثر و رسوخ گہرا ہو رہا ہے۔

روس اور وسط ایشیائی ریاستیں
وسط ایشیائی ریاستوں کی طرف سے بھی اب تک کوئی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ روس کے ساتھ پچھلے دور میں ہونے والی سیاسی و عسکری پیشرفت بھی رک چکی ہے۔ روس نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کی تھیں۔ تعلقات میں گرم جوشی نظر آنا شروع ہوئی تھی لیکن سلامتی کونسل میں جو کچھ ہوا اس سے پتہ چلتا ہے کہ ماسکو افغانستان میں ہونے والی پیشرفت میں کہیں پیچھے دھکیلا جاچکا ہے۔

خطے میں کشیدگی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے لیکن حکومت کی تمام تر توجہ اندرونی معاملات پر ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خارجہ پالیسی پر بحث کے بجائے ذاتی پوائنٹ اسکورنگ کی جاتی رہی۔

وزیرِ خارجہ بھی بیجنگ کے دورے کے بعد چین کی بانسری بجاتے دکھائی دیے۔ ماسکو، ریاض، استنبول سمیت کسی بھی اہم دارالحکومت کا دورہ کرنے کے بجائے فون پر رابطوں کو ترجیح دی گئی۔ موجودہ حالات جارحانہ ڈپلومیسی کا تقاضا کرتے ہیں۔ عرب اور مغربی ملکوں کے بھارت کے ساتھ مالی مفادات کو بہانہ بنا کر کمزور خارجہ پالیسی کا دفاع کرنا لڑے بغیر مقابلے سے باہر ہونے کے مترادف ہے۔ پاکستان کی اسٹریٹیجک پوزیشن کو اس کی طاقت بتانے والے اس قدر کمزور دفاع اپنائیں گے تو قوم مایوس ہوگی۔بشکریہ ڈان نیوز

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …