ہفتہ , 21 ستمبر 2019

امریکی ریپبلکنز سفید فام اسرائیل کے شیدائی کیوں ہیں؟

(بقلم: پیٹر یینارٹ (Peter Beinart)

(ترجمہ: فرحت حسین مہدوی)

امریکی رپپلکنز اسرائیل کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہرگز نہيں لگتا کہ گویا اسرائیل ایک بیرونی ریاست ہے۔ وہ اسرائیل کی محبت کو امریکہ کی محبت سے جوڑ دیتے ہیں کیونکہ وہ اسرائیل کو ایک ایسی مثالی امریکی ریاست کے لئے نمونہ سمجھتے ہیں وہ ریاست جس کی وہ آرزو کرتے ہیں: ایک نسل پرست سفید فام جمہوریت!

اگر آپ نے ایلہان عمر، رشیدہ طلیب، الگزانڈریا اوسکاریو کورٹز اور ایانا پریسلی (Ilhan Omar, Rashida Talaib, Alexandria Ocasio-cortez and , Ayana Pressley) کے نام ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ الفاظ سنے ہوں کہ “جہاں سے آئی ہو وہیں چلی جاؤ” تو یقینا اس عجیب نکتے کو بھی سمجھ چکے ہونگے۔ ٹرمپ کے حامیوں کا اشارہ ہمیشہ اسرائیل کی طرف ہوتا ہے۔ جب لنڈسے گراہم (Lindsey Graham) سے ان افراد پر ٹرمپ کے حملہ آور ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ “یہ لوگ اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں!” اور اپنا رد عمل اس طریقے سے ریکارڈ کروایا۔ ریپبلکن سینیٹر لی زیلڈین (Lee Michael Zeldin) نے بھی ایلہان عمر اور طلیب کو “اسرائیل دشمن” قرار دیا۔ یہاں تک کہ ٹرمپ نے بھی اس تنازعے پر اپنا رد عمل دکھاتے ہوئے کہہ دیا کہ “ایلہان عمر اسرائیل سے نفرت کرتی ہیں”

عجیب مسئلہ ہے۔ یہ مطالبہ اتنا ہی قابل ادراک ہے جتنا کہ ایک امریکی سیاستدان سے کہا جائے کہ امریکی وطن پرستی کے ناکافی اظہار کی وجہ سے اسے امریکہ سے چلا جانا چاہئے۔ اگرچہ یہ مطالبہ کم از کم جانا پہچانا ہے۔

“امریکہ وہ جس سے یا تو محبت کرو یا پھر اسے ترک کرو” ۱۹۶۰ع‍ کی دہائی سے ایک قدامت پسندانہ نعرہ رہا ہے۔ عملی طور پر بےمثل مسئلہ یہ ہے کہ ایک امریکی سیاستدان سے مطالبہ کیا جائے کہ چونکہ اس نے ایک بیرونی ریاست کے تئیں کافی شافی عقیدت کا اظہار نہیں کیا ہے لہذا اسے امریکہ کو ترک کردینا چاہئے۔ کیا کوئی تصور کرسکتا ہے کہ ٹرمپ کینیڈا، بھارت یا جاپان سے نفرت کی بنا پر ایلہان عمر اور ان کے ساتھیوں کے امریکہ سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کریں اور ریپبلکن سیاستدان ان کے اس مطالبے کی حمایت کریں؟

بےشک یہ تصور ممکن نہيں ہے؛ دلیل یہ ہے کہ ریپبلکن سیاستدان مزید اس انداز سے بات نہیں کرتے کہ اسرائیل یہ ایک بیرونی ریاست ہے۔ وہ اسرائیل کی محبت کو امریکہ کی محبت سے جوڑ دیتے ہیں کیونکہ کیونکہ وہ اسرائیل کو ایک ایسی مثالی امریکی ریاست کے لئے نمونہ سمجھتے ہیں وہ ریاست جس کی وہ آرزو کرتے ہیں: ایک نسل پرست سفید فام جمہوریت!

اسرائیل ایک یہودی ریاست ہے۔ ٹرمپ اور ان کے بہت سے حلیف امریکہ کو ایک ای سفید فام یہودی-عیسائی ملک چاہتے ہیں۔ گوکہ اسرائیلی ریاست میں انتخابات منعقد ہوتے ہیں اور وہاں پارلیمانی ادارے بھی ہیں لیکن یہ ریاست ڈھانچے کے حوالے سے صرف ایک مذہبی-نسلی گروپ کے لئے امتیاز کی قائل ہے۔ یہ وہی چیز ہے جو بہت سے ریپلکنز امریکہ کے لئے بھی پسند کرتے ہیں۔

ذرائع ابلاغ میں بعض تجزیہ نگار دائیں بازو کی طرف سے اسرائیل کی حمایت کی بنا پر امریکہ کو ـ صحیح طور پر ـ ایک نسلی جمہوریت سے تشبیہ دینے والے تجزیوں کو نظر انداز کرکے دوسرے تجزیوں کو ترجیح دیتے ہیں لیکن وہ دوسرے تجزیوں کو اگر خوش فہمی سے بھی دیکھا جائے تو کم از کم وہ ناقص ہیں۔ ایک رائج الوقت تجزیہ یہ ہے کہ “چونکہ ریپبلکنز جمہوریت اور انسانی حقوق کے حامی ہیں اسی بنا پر اسرائیل کے شیدائی ہیں!!!

یہاں بھی ایک تضاد پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ ٹرمپ کے زمانے میں جمہوریت اور انسانی حقوق ریپبلکنز کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔ یہ صرف ٹرمپ ہی نہیں ہیں جو آمریت پسند راہنماؤں کے آگے کرنش کرتے ہیں بلکہ ریپبلکنز کی صفوں میں اس طرح کی کرنشیں بہ وفور پائی جاتی ہیں۔ ڈیموکریٹ جماعت کے مقابلے میں ریپلکنز روس اور سعودی عرب کو زیادہ مثبت نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ گذشتہ سال دسمبر میں اکانومسٹ (Economist) اور يوگاو (YouGov) نے امریکیوں سے پوچھا کہ “کیا دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات میں انسانی حقوق کی پامالی ہماری “بنیادی تشویش” ہونا چاہئے یا نہیں؟” تو ہاں کہنے والوں میں ڈیموکریٹس کے مقابلے میں ریپلکنز کی تعداد نصف تھی۔

نیز زیادہ تر ریپلکنز مغربی کنارے پر یہودی ریاست کی حکمرانی چاہتے ہیں جہاں فلسطینیوں کو فوجی قوانین کے تحت اور حق رائے دہی کے بغیر، رہنا پڑ رہا ہے۔ اگر آپ مغربی کنارے پر یہودی ریاست کے غیر جمہوری تسلط کی حمایت کریں تو امکانی طور پر اس ریاست کی حمایت کے لئے آپ کی دلیل “جمہوریت” نہیں ہیں۔

ریپلکنز کی اسرائیل دوستی کی ایک رائج ابلاغیاتی دلیل مذہبی مسائل سے تعلق رکھتی ہے۔ صحافی حضرات عام طور پر اشارہ کرتے ہیں کہ بہت سے انجیلی عیسائی ـ جن کی اکثریت ریپلکنز کو ووٹ دیتی ہے ـ مقدس سرزمین پر یہودی تسلط کو عیسی مسیح کے دوبارہ مبعوث ہونے کے لئے ایک ضرورت سمجھتے ہیں۔ لیکن مذہبی کرداروں میں مبالغہ آرائی بہت آسان ہے۔ ۲۰۱۹ع‍ گیلپ اسٹڈی (Gallup study) کے مطابق “حتی کہ لامذہب ترین ریپلکنز، راسخ العقیدہ ترین عیسائی ڈیموکریٹس کے مقابلے میں اسرائیل کے تئیں زیادہ مثبت رائے رکھتے ہیں۔ بالفاظ دیگر اندھادھند اور بےجا طرف داری کی طاقت مذہبیت کی طاقت سے آگے چلی جاتی ہے۔

اس مسئلے کی اہم ترین دلیل درحقیقت “نسل” (Race) ہے۔ زیادہ تر مذہبی ڈیموکریٹس افریقی امریکی یا لاطینی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور افریقی امریکی عیسائی یا لاطینی نسل کے مذہبی عیسائی افراد ـ حتی کہ افریقی امریکی اور لاطینی نسل کے انجیلی عیسائی ـ اپنے سفید فام ہم وطنوں سے کہیں زیادہ اسرائیلی ریاست پر تنقید کرتے ہیں۔ پیو تحقیقاتی مرکز (Pew Research Center) کے اس سال بہار کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تاریخی لحاظ سے سیاہ فام گرجاگھروں کے اراکین نے ۳۴ پوائنٹس کے فرق سے، اسرائیلی ریاست کو نا منظور کردیا ہے اور وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

بالفاظ دیگر، ریپبلکنز کی اسرائیل کی حمایت بحیثیت مجموعی امریکی عیسائیوں کی طرف سے نہیں ہے بلکہ یہ حمایت ان قدامت پسند سفید فام عیسائیوں کی طرف سے ہوتی ہے جن کا سیاسی تشخص مذہب اور نسل کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ ٹرمپ کے دور میں امریکہ کے قدامت پسند سفید فام عیسائی تیزی سے امریکہ کے مذہبی اور نسلی کردار کے تحفظ کے جنون میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ اور اسرائیل کو ایسی ریاست کی نظر سے دیکھتے ہیں جو بالکل اسی روش پر کاربند ہیں۔

زیادہ تر اس امریکہ سے خوفزدہ ہیں جو کم مذہبی ہو اور سفید نسل پرستی پر کم یقین رکھتا ہو۔ کچھ عرصہ پہلے پیو نے امریکیوں سے دریافت کیا کہ “اگر امریکہ میں سفید فام باشندوں کی اکثریت اقلیت میں بدل جائے تو کیا اس صورت حال سے “امریکی اقدار اور روایات” کو تقویت ملے گی یا یہ اقدار کمزور اور روایات کمزور پڑ جائیں گی؟” تو ریپبلکنز نے ۴۶ پوائنس کے اختلاف سے “ہاں” میں جواب دیا اور کہا کہ امریکہ کمزور ہوجائے گا۔ اور اگر ریپبلکنز سفید نسل پرستی پر کم یقین رکھنے والے امریکہ سے خائف ہوں تو یقینا امرکہ کے “زیادہ مسلم ملک” بننے سے بھی خوفزدہ ہونگے۔ نیوامریکہ (New America) کے نومبر ۲۰۱۸ع‍ کے سروے کے مطابق، ۷۱ فیصد ریپلکنز کا خیال تھا “اسلام امریکی اقدار کے ساتھ سازگار نہیں ہے” اور حالیہ جون کے مہینے میں اکانومسٹ اور یوگاو کے ایک مطالعے کے مطابق ۷۴ فیصد ریپلکنز کی رائے ہے کہ “مسلمانوں کو وقتی طور پر امریکہ داخلے سے باز رکھا جائے”۔

یہ نسلی اور مذہبی خوف ریپبلکنز کی طرف سے ہجرت (Immigration) مخالف پالیسی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ جیسا کہ کلیمسن یونیورسٹی (Clemson University) کے اسٹیون وی ملر (Steven V. Miller) نے واضح کیا ہے، جو امریکی کم ہجرت کے خواہاں ہیں، چھ گنا زیادہ ممکن ہے کہ ان کی یہ خواہش معاشی اضطراب کے بجائے نسلی نفرتوں پر استوار ہو۔

چنانچہ دائیں بازو کے دھاروں میں طاقت کی ایک کسوٹی نسلی نفرت ہے جس کی وجہ سے ریپبلکنز ہجرت اور ترک وطن کے مسئلے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ گذشتہ مہینے گذشتہ دسمبر میں جب کوینیپاک کالج (Quinnipiac College) کالج نے امریکیوں سے پوچھا کہ “کانگریس کو کونسی چیز کو اپنی اہم ترین ترجیح قرار دینا چاہئے؟” تو زیادہ تر ریپبلکنز نے دوسرے تمام موضوغات میں سے ہجرت کے موضوع کی طرف اشارہ کیا۔

جون ۲۰۱۹ع‍ میں جب رائٹرز (Reuters) نے ریپبلکنز سے پوچھا کہ “اپنی اہم ترین سیاسی فکرمندی بیان کریں”؛ ہجرت کا مسئلہ پھر بھی دوسرے سہ جوابی سوال میں دوسرے نمبر پر آیا۔

ریپبلکنز ـ جو امریکہ کی آبادیاتی کردار کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں ـ کے لئے یہودی ریاست ـ جو ہجرت کو یہودیوں کے لئے بہت آسان اور غیر یہودیوں کے لئے نہایت دشوار کر دیتی ہے ـ ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انتہائی دائیں بازوں کی مفکرہ این کولٹر (Ann Hart Coulter) نے ۲۰۱۶ع‍ میں اپنی کتاب “آدیوس امریکہ” (Adios, America) شائع کی ہے اور یہ کتاب ٹرمپ کے ہجرت سے متعلق نعروں کو ترتیب دیا ہے۔ لکھتی ہیں: “اسرائیلی ریاست کا یہ موقف صد فیصد صحیح ہے کہ اسرائیلی قومیت کی تبدیلی اسرائیلی نظریئے کو بنیادی طور پر تبدیل کرسکتی ہے”۔

سنہ ۲۰۱۷ع‍ میں یورپی یونین کے افریقی تارکین فلسطین بدر کرنے کے منصوبے کے بارے میں ایک رپورٹ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کولٹر نے ٹویٹ کیا ، “صدارتی عہدے کے لئے نیتن یاہو!”

نیویاک ٹائمز نے ۲۰۱۸ع‍ میں غزہ پٹی سے ملحقہ علاقے میں خاردار تاروں کی طرف بڑھتے ہوئے فلسطینیوں پر اسرائیلی فائرنگ کے سلسلے میں رپورٹ شائع کردی تو کولٹر حسرت بھرا سوال اٹھایا: “کیا ہم بھی ایسا کرسکیں کے؟!”۔

البتہ کولٹر اپنے اس نظریئے اور عقیدے میں تنہا نہیں ہیں بلکہ ریپبلکن سیاستدان، ارکنساس کے سابق گورنر اور اصطباغی/بپتسماوی پادری مائیک ہکبی (Michael Dale Huckabee) نے مسلمانوں کی امریکہ ہجرت کی ممانعت کے منصوبے کی وکالت کرتے ہوئے لکھا: “ہر کوئی اس طرح سے رد عمل دکھا رہا ہے کہ “اوہ، یہ ٹرمپ نے کیا کہہ دیا! اس طرح کی بات اسرائیل میں حیرت انگیز نہیں ہے۔ وہاں کوئی سرحدوں کو مسلمانوں کے لئے نہیں کھولتا!”۔

ریپلکن اہلکار اور لکھاری رک سینٹورم (Rick Santorum) نے تو کچھ آگے جاکر یہودی ریاست سے کہا کہ “امریکہ آنے والے مسلمانوں کے ممکنہ جرائم کا جائزہ لے [تاکہ یہاں آنے والے مسلمانوں میں سے صرف وہ لوگ امریکہ میں آنے کی اجازت لے سکیں جو اس مجرم ریاست کے خیال میں مجرمانہ پس منظر نہيں رکھتے!]۔

گذشتہ دسمبر میں ٹکر کارلسن (Tucker Carlson) نے جنوبی سرحد پر ٹرمپ کی دیوار کی تعمیر کے سلسلے میں ایک منظر نامے کے ضمن میں اعلان کیا کہ “اسرائیلی خوب جانتے ہیں کہ دیواریں کس قدر مؤثر ہیں”۔

ٹیڈ کروز (Ted Cruz) نے بھی کہا: ایک بہت بڑا سبق ہے جو ہم سرحدی سلامتی کے سلسلے میں اسرائیل سے سیکھ سکتے ہیں؛ اور ٹرمپ نے خود دعوی کیا: اگر جاننا چاہتے ہو کہ دیواریں کس قدر مؤثر ہیں تو اسرائیل سے پوچھو!۔

یہ نظریہ ریپبلکنز کے سیاستدانوں اور ممتاز شخصیات تک بھی محدود نہیں ہے بلکہ رائے عامہ کے سروے رپورٹوں سے بھی ہجرت کی شدید مخالفت، مسلمانوں کے ساتھ دشمنی اور اسرائیل کی حمایت کے درمیان قوی تعلق کا اظہار ہوتا ہے۔ گذشتہ موسم خزان میں میری لینڈ یونیورسٹی کے فلسطینی نژاد امریکی پروفیسر شبلی تلہامی (Shibley Telhami) نے سروے کی معلومات میرے سپرد کردیں تو مجھے معلوم ہوا کہ امریکی عوام ۶۰ پوائنٹس کے اختلاف سے اسرائیلی-فلسطینی تنازعے میں فلسطینیوں کی طرف جھکاؤ اور تارکین وطن کی امریکہ ہجرت کو آسان بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

جبکہ جن امریکیوں نے “کہا تھا کہ امریکہ کو اسرائیل کی طرف مائل ہونا چاہئے” انھوں نے ۲۰ پوائنٹس کے اختلاف سے امریکہ ہجرت کے عمل کو مشکل بنانے کی حمایت کی تھی۔

وہ امریکی جن کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اسرائیل کی طرف جھکاؤ رکھنا چاہئے، اس کے برعکس، انھوں نے ۲۰ پوائنٹس کے فرق سے ریاستہائے متحدہ میں ہجرت کو مشکل بنانے کی حمایت کی۔ اس طرح ، جواب دہندگان میں سے ۷۰ فیصد جو کہتے ہیں کہ امریکہ کو “اسرائیل کی طرف جھکاؤ” رکھنا چاہئے ان کا رجحان اسلام کے منافی تھا جبکہ اس کے مقابلے میں ۳۳ فیصد سے بھی کم جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا “جھکاؤ فلسطینیوں کی طرف” ہونا چاہئے۔

لیکن دائیں بازو کی اسرائیلی سے عقیدت ہجرت کے مسئلے سے بہت آگے چلی جاتی ہے۔ اسرائیل نے غیر یہودیوں کو محض دور رکھ کر ہی اس ریاست پر یہودیوں کے تسلط کو قائم نہيں رکھا ہے بلکہ اس نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں رہنے والے غیر یہودیوں کی سیاسی شراکت داری کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے محدود کردیا ہے جس کی مثالیں ۲۰۱۵ع‍ کے انتخابات سمیت متعدد مواقع پر نظر آتی رہی ہیں۔

مختصر یہ کہ اسرائیل مخالف اور یہود مخالف افراد کے عنوان سے ایلہان عمر اور ان کے رفقاء کے خلاف ریپبلکنز کے حملے آخرکار اسرائیل اور یہودیوں تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ان کی کوشش ہے کہ ٹرمپ کے دور میں دائیں بازو کے بنیادی جماعتی مقاصد کے استحکام کے لئے اسرائیل اور یہودیوں سے فائدہ اٹھائیں؛ یعنی آبادیاتی تبدیلیوں کے ذریعے سفید فام عیسائی تسلط کا تحفظ۔بشکریہ ابنا نیوز

 

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …