ہفتہ , 7 دسمبر 2019

شکست کی جھنجھلاہٹ

آخر کار یمن کے شہر عدن میں قائم سعودی اتحاد نواز پٹھو صدر منصور ہادی کی بساط کو ایک بار پھر لپیٹ دی گئی لیکن اس مرتبہ ان کی اس مختصر سے علاقے میں موجود بساط کو کسی اور نے نہیں بلکہ خود اس کے اپنے حمایتی اور اتحادی متحدہ عرب امارات کی سرپرستی رکھنے والی ان قوتوں نے لپیٹا جنہیں علحیدگی پسند کہا جاتا ہے ۔

عدن میں علحیدگی پسندوں کی چڑھائی کے بعد پٹھوحکومت کے تمام وزار بھاگ کر ایک فوجی طیارے کے زریعے سعودی عرب پہنچ چکے ہیں ،ادھر عدن میں سعودی اتحاد کے چالیس سے زائد افراد اماراتی اتحادی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے کی خبریں ہیں جبکہ سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوچکے ہیں ۔اس سے پہلے مسلسل یہ خبریں زیر گردش تھیں کہ یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات آپسی تنازعات کا شکار ہوچکے ہیں اس سے پہلے کہ ہم مزید گفتگو کریں قارئین کو مختصرا اس خبر سے جڑی ہوئی کچھ اہم باتیں بتانا ضروری سمجھتے ہیں ۔

الف:صنعا سے ایک عوامی انقلاب کے بعدعبوری صدر منصور ہادی کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا جس کے بعد سعودی عرب کی مداخلت اور پھر ایک اتحاد کی تشکیل کے بعد عدن شہر کے ایک مختصر حصے میں اس اتحاد نے منصور ہادی کی حکومت کا اعلان کردیا ،جبکہ منصور ہادی گذشتہ چار سال سے زائد عرصہ ہوا ہے سعودی عرب میں مقیم ہے ۔

ب:یمن ایک ایسا سیاسی گروہ شروع سے موجود تھا جو اس وقت وجود میں آیا تھا کہ جس وقت سن1990میں شمالی اور جنوبی یمن کے اتحاد کے اعلان ہوا تھا اس وقت اس گروہ نے جنم لیا تھا جوکہ اس اتحاد کامخالف ہے ۔یمنی علیحدگی پسند عبوری کونسل نامی یہ گروہ یمن میں بیرونی جارحیت کے بعد متحدہ عرب امارات کی سرپرستی میں کام کرنے لگا ۔متحدہ عرب امارات کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ ان کا زیادہ تر فوکس ان گروہ کے خاتمے پر ہے جو سیاسی مذہبی نظریات رکھتے ہیں جن میں سرفہرست اخوان المسلمون کی سوچ رکھنے والی جماعت الاصلاح ہے ۔

تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ عدن پر یمنی علیحدگی پسند عبوری کونسل قبضہ کرچکی ہے اور سعودی اتحادی حکومتی تمام اہم ذمہ داری عدن سے فرار کرکے سعودی عرب پہنچ چکے ہیں کہ جنہوں نے جاتے جاتے اپنے وڈیو پیغامات میں تمام تر الزام اپنے اتحادی ملک متحدہ عرب امارات پر لگایا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ امارات کی حمایت یافتہ یمنی علیحدگی پسند عبوری کونسل کی جانب سے اپنے ہی اتحادیوں پر چڑھائی کیوں کی ؟کیا یمن کو لیکر اتحادی ممالک خاص کر سعودی عرب اور متحدہ عرب مارات میں اختلافات کی شدت تصادم کی جانب جارہی ہے ؟

الف:یمنی علیحدگی پسند عبوری کونسل کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ سعودی عرب کی حمایت یافتہ عدن حکومت یعنی صدر منصور ہادی اخوان نواز جماعت الاصلاح کو مدد کررہی ہے اور انہیں حکومتی عہدے دیے جارہے ہیں ۔وہ یہ بھی الزام لگارہے ہیں کہ حال ہی میں ان کے ایک عسکری اجتماع میں ہونے والے ڈرون حملے کے ذمہ دار االاصلاح والے ہیں واضح رہے کہ یہ ڈرون حملہ یمنی کی آرمی اور انصار اللہ کی جانب سے کیا گیا تھا جو سعودی اتحاد میں شامل تمام فورسز کو جارح قوت کے طور پر سمجھتے ہیں ۔

ب:یہ بات واضح ہے کہ متحدہ عرب امارات یمن میں یمنی علیحدگی پسند عبوری کونسل کے ایجنڈے یعنی یمن کی تقسیم کی حمایت کرتا ہے جبکہ سعودی عرب نے پٹھو صدر منصور ہادی کو اپنے قبضے میں رکھا ہوا ہے اور تمام تر کام اس کی نام نہاد قانونی حکومت کے بہانے انجام دے رہا ہے ۔اہم ترین بات یہ ہے کہ گذشتہ تقریبا پانچ سالوں میں سعودی اتحاد نے صرف یمن کی بے گناہ عوام پر بے دریغ بمباری سے قتل عام کرنے میں ہی کامیابی حاصل کی ہے ورنہ اس اتحاد کو یمن کی زمین پر ایک اینچ بھی کامیابی نہیں ملی ۔

یہ بات واضح ہے کہ یمن پر چڑھائی کرنے والی جارح قوتوں کے درمیان اس ناکام جنگ سے ایک قسم کی جھنجھلاہٹ کو محسوس کیا جاسکتا ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ یمن کی افواج اور خاص کر عوامی رضاکار فورسز انصار اللہ یا حوثی قبائل کی زہین اور سمجھ دار قیادت کی رہنمائی میں نہ صرف متحدہ اور اکھٹے ہیں بلکہ جارح قوتوں کیخلاف دفاعی پوزیشن سے نکل کر اب اٹیک اور جوابی کاروائی کرنے لگے ۔بشکریہ فوکس مڈل ایسٹ

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل کے لئے سب سے بڑا خطرہ کیا ہے؟ اسرائیل کے خلاف اگلی جنگ کیسی ہوگی؟ (پہلا حصہ)

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا کہ فلسطین کے ڈرون،ہمارے لئے نیا خطرہ …