پیر , 16 دسمبر 2019

کیا آپ جانتے ہیں کہ روزانہ ہر رات 8 گھنٹے کی نیند لینا کیوں ضروری ہے؟

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) اگر آپ کی گھڑی کا الارم صبح بج بج کر چپ ہوجائے اور پھر بھی آپ کئی بار اونگھنے پر مجبور ہوجائیں یا خود کو سستی سے بچانے اور توجہ مرکوز رکھنے کے لیے کیفین کا سہارا لینے پر مجبور ہیں تو آپ ممکنہ طور پر نیند کی کمی کا شکار ہیں۔ایک تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ یہ چیز آپ کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نیند دماغی طاقت کو بڑھانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق ‘نیند نیورو جینیسز کی نشوونما کرتی ہے یا آسان الفاظ میں یہ طریقہ کار نئے عصبی خلیات کو بڑھاتا ہے خاص طور پر اس وقت جب آپ خواب دیکھ رہے ہو اور ایسا اسی وقت ہوتا ہے جب آپ انتہائی گہری نیند میں ہو’۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپ کو نیند کی ضرورت اس لیے بھی ہوتی ہے تاکہ آپ کا دماغ یادداشتوں کو تشکیل دینے کے لیے معلومات حاصل اور ان کو ابھار سکے۔

دماغی ماہرین کا ماننا ہے کہ جب ہم سو رہے ہوتے ہیں تو ہمارا ہپو کیمپس (دماغ کا یادداشت ذخیرہ کرنے والا حصہ) متحرک ہوجاتا ہے، جس سے دماغ کو یادداشتوں کو مختصر سے طویل عرصے تک یاد رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

اگرچہ نیورولوجسٹس (دماغی ماہرین) کا ماننا ہے کہ نیند کی کمی کو معمول بنالینا ناصرف دماغ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے ساتھ قوتِ مدافعت کو کم کردیتا ہے، بلکہ اگر ہم روزانہ چار گھنٹوں سے کم سونے کے عادی ہوں تو اس سے لوکس سیرولیوس (ایل سی) نامی وہ عصبی خلیات متاثر ہوتے ہیں جو انسان میں انہماک اور توجہ کا تعین کرتے ہیں۔

محققین نے ناکافی نیند کا تعلق کھانے پینے کی عادات میں بے ترتیبی، امراض کے خلاف مدافعتی نظام کے کمزور ہونے، ڈیمینشیا اور الزائمر وغیرہ سے جوڑا ہے۔اس کے نتیجے میں ماہرین نفسیات نے اپنے مریضوں کو مشورہ دینا شروع کردیا ہے کہ وہ نیند کو دماغ کے جراثیم کش کے طور پر تصور کریں، جو دماغی امراض کے زہریلے اثرات کو جسم سے نکال باہر کرتی ہے۔اس ساری تحقیقات کا خلاصہ یہ ہے کہ دیر تک جاگنے کو عادت نہ بنائیں اور ہر رات آٹھ گھنٹے کی نیند کو یقینی بنائیں۔

یہ بھی دیکھیں

دل بند ہونے کے باوجود خاتون زندہ !

بارسلونا: برطانوی خاتون 6 گھنٹے تک دل بند رہنے کے بعد معجزاتی طور پر زندہ …