پیر , 9 دسمبر 2019

بھارت مقبوضہ کشمیر میں بنیادی آزادی کو بحال اور گرفتار افراد کو فوری رہا کرے:امریکہ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں بنیادی آزادی کو بحال اور گرفتار افراد کو فوری رہا کرے۔اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘ہمیں اس علاقے کے رہائشیوں پر مستقل پابندیوں اور حراست میں لیے جانے کی رپورٹس پر مسلسل تشویش ہے’۔اس علاقے کے دورے کے بعد واپس آنے والے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ‘ہم انفرادی حقوق کے احترام، قانونی طریقہ کار کی تعمیل اور ایک جامع مذاکرات پر زور دیتے ہیں’۔

خیال رہے کہ 5 اگست کو بھارت کی جانب سے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے خطے میں کشیدگی پائی جارہی ہے۔بھارتی حکام نے اس فیصلے کے خلاف کسی قسم کی مزاحمت سے بچنے کے لیے کشمیر میں مواصلاتی روابط مکمل طور منقطع اور نقل و حرکت پر سخت پابندی عائد کر رکھی ہے۔

مذکورہ فیصلے کے بعد سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں کم از کم 4 ہزار افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔اس ضمن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بذریعہ فون بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے بات کی اور دونوں رہنماؤں کو کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔

بھارت کا ذکر کرتے ہوئے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عہدیدار نے کہا کہ ’ہم قانونی کارروائی اور جامع بات چیت کے لیے ہر فرد کے حقوق کا احترام کرتے ہیں‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم بھارت کے خدشات سے آگاہ ہیں لیکن اس بات پر زور دیتے رہیں گے کہ جتنی جلد ممکن ہو خطے میں صورتحال معمول پر لانے کے لیے کام کیا جائے۔’

اس کے ساتھ واشنگٹن نے دونوں جوہری طاقتوں بھارت اور پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلم اکثریت کے حامل پہاڑی خطے کشمیر کے تنازع کے حل کے لیے براہِ راست بات چیت کی جائے۔اس سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ کشمیر کی ‘خطرناک’ صورتحال پر ایک مرتبہ پھر ثالثی کی پیش کش کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق صحافیوں سے بات چیت میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر دیرینہ، پیچیدہ اور حل طلب مسئلہ ہے اور ہم پاکستانی اور بھارتی قیادت سے رابطے میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اس معاملے کو اٹھائیں گے۔

ساتھ ہی امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘کشمیر ایک بہت پیچیدہ جگہ ہے، آپ کے پاس ہندو ہیں اور آپ کے پاس مسلمان ہیں لیکن میں یہ نہیں کہوں گا کہ وہ ایک ساتھ اچھے سے ہیں’۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘میں ثالثی کے لیے اپنی بھرپور کوشش کروں گا’۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں وزیر اعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بات چیت کی تھی اور دونوں فریقین پر کشمیر میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

میزائل کے پرزوں سے بھری کشتی کو روکنےکا امریکی دعوی من گھڑت ہے:انصار اللہ

یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے رکن نے میزائل کے پرزوں سے بھری کشتی کو …