جمعہ , 13 دسمبر 2019

خیبرپختونخوا: آئس ڈرگ کے بڑھتے رحجان نے لڑکیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی لپیٹ میں لے لیا

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبرپختونخوا میں آئس ڈرگ کے بڑھتے رحجان نے لڑکیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی لپیٹ میں لے لیا، کئی اسکول و کالج کی طالبات اور پولیس اہلکار لت میں مبتلا ہوگئے۔ ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ نشے میں مبتلا کم عمر لڑکیاں اور پولیس اہلکار بھی علاج کیلئے آتے ہیں۔آئس کا نشہ ایک زہر لیکن خیبرپختونخوا میں شہریوں کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی اہلکار بھی اس نشے میں مبتلا ہونے لگے۔ماہر نفسیات خالد مفتی نے انکشاف کیا ہے کہ طلبہ اور سرکاری ملازمین کے ساتھ ساتھ آئس نشے میں مبتلا پولیس اہلکار اور کم عمر لڑکیاں بھی علاج کیلئے آتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ اسکول اور کالج کی لڑکیاں بھی نشے میں مبتلا ہیں، ایلیٹ اسکولز کی پارٹیوں میں آئس نشے کے استعمال کا کھلا رواج ہے، پولیس اہلکاروں میں بھی نشے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔نشے میں مبتلا افراد کا کہنا ہے کہ آئس ڈرگ آسانی سے کئی مقامات پر انتہائی سستا دستیاب ہے۔

صوبائی حکومت کے مطابق قانون سازی کے بعد آئس کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جاچکا ہے۔ شاہ فرمان کہتے ہیں کہ پہلے قانون موجود نہیں تھا، ایسے افراد کیلئے سزائے طے ہوچکی ہیں۔پشاور میں آئس ڈرگ کے عادی افراد کی بحالی کیلئے مرکز موجود ہے تاہم سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث یہ منصوبہ بھی ناکام ہوچکا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بڑی کامیابی ، سوئس حکومت پاکستانیوں کے اکاونٹس کی معلومات دینے کے لئے تیار

اسلام آباد : سوئس حکومت کی پاکستان کوبینکس میں موجودرقم کی معلومات دینےکی منظوری دے …