ہفتہ , 21 ستمبر 2019

کابل:دو روز قبل شادی کی تقریب میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 80 ہوگئی

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دو روز قبل شادی کی ایک تقریب میں ہونے والے خود کش بم دھماکے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 80 تک پہنچ گئی۔برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے بتایا کہ دھماکے کے بعد ابتدائی طور پر 63 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی لیکن ہسپتال میں کچھ مزید زخمی دوران علاج دم توڑ گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مزید 17 افراد زخموں کی تاب نہ لاسکے اور دم توڑ گئے جبکہ 160 افراد کا علاج اب بھی ہسپتال اور گھروں میں جاری ہے‘۔اس ضمن میں وزارت داخلہ کے ایک اور ترجمان کا کہنا تھا کہ 160 زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے جن میں کچھ کی حالت اس قبل بھی نہیں کہ سرجری کی جاسکے۔

واضح رہے کہ شادی کی تقریب میں خودکش حملہ آور نے ہجوم کے درمیان اس مقام پر خود کو دھماکے سے اڑایا تھا جہاں تقریب کے شرکا رقص کررہے تھے، اس دھماکے کی ذمہ داری داعش سے وابستہ ایک مقامی تنظیم نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اہلِ تشیع برادری کو نشانہ بنایا۔

تاہم دلہن اور دلہا اس ہولناک دھماکے میں محفوظ رہے تھے جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو یہ بھی خوف تھا کہ کہیں جنازوں کو بھی نشانہ نہ بنادیا جائے۔شادی کی تقریب میں اس ہولناک حملے کے بعد بہت سے افغانوں نے شادیوں اور دیگر تقریبات کو فی الحال کے لیے منسوخ یا موخر کرتے ہوئے حکومت سے سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ رواں برس کی ابتدائی ششماہی کے دوران اب تک 3 ہزار 812 افغان شہری عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں۔اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس تعداد میں بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو حکومت اور غیر ملکی افواج کی کارروائی کے نتیجے میں متاثر ہوئی۔

افغان پولیس ذرائع کے مطابق حالیہ خود کش حملے کے بعد صرف کابل میں شادیوں کی 25 سے زائد تقریبات ملتوی کی گئیں۔اس حوالے سے شادی ہال یونین کے سربراہ محمد نادر کارغی کا کہنا تھا کہ ’ہم حکومت کو ٹیکس ادا کرتے ہیں لہٰذا یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہمیں بہتر سیکیورٹی فراہم کریں، تحفظ ہمارا حق ہے‘۔

مذکورہ حملے کے بعد داعش کے خوف نے ایک مرتبہ پھر ایسے وقت میں سر اٹھایا ہے کہ جب امریکا اور طالبان کا افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے کسی سمجھوتے پر پہنچنے کا امکان ہے۔چنانچہ ایک جانب جہاں امریکا یہ امید کررہا ہے طالبان اس معاہدے کی صورت میں داعش کے خطرے سے نمٹنے کے لیے معاون ثابت ہوں گے تو دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ طالبان بھی شادی میں حملے کے اتنے ہی ذمہ دار ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی وزیر خارجہ کا یمن جنگ کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خاجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے اپنے ٹویٹر …