ہفتہ , 21 ستمبر 2019

او آئی سی بمقابلہ یورپی یونین

(جبار قریشی)

پاکستان کے ایک معروف عالم دین جو ایک دینی سیاسی جماعت کے سربراہ بھی تھے، انھوں نے ایک بار اسلامی کانفرنس کی تنظیم (او آئی سی) کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے، او آئی سی کا مفہوم کچھ اس طرح بیان کیا تھا Oh i see۔ مولانا کے بیان کردہ مفہوم میں کس حد تک سچائی اور کس حد تک افسانہ ہے اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کے اوراق میں جانا ہوگا۔

تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ بین الاقوامی علاقائی تنظیم کے قیام کے نظریے کو اٹھارہویں صدی عیسوی میں بہت فروغ حاصل ہوا۔ اس دور میں طاقتور ریاستوں کے وجود میں آنے سے جنگ کے خطرات بہت بڑھ گئے تھے تو پوری دنیا امن کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوئی۔

1815ء میں اسی حوالے سے یورپی ممالک کی ایک اہم نشست ویانا میں منعقد ہوئی، جس میں تمام یورپی ممالک کی مساوی حیثیت کو تسلیم کیا گیا۔آگے چل کر اس اجتماعی نشست نے 1818ء میں پانچ طاقتی اتحاد کی شکل اختیارکر لی جس میں روس ، پرشیا (جرمنی)، برطانیہ، آسٹریا اور فرانس شامل تھے۔ یورپ کے صنعتی انقلاب کے نتیجے میں یورپی ممالک کو دنیا میں نئی منڈیوں کی ضرورت پیش آئی جس کے نتیجے میں ان ممالک میں نوآبادیات کی توسیع پسندانہ مہم کا آغاز ہوا اور ان ممالک نے تجارتی کمپنی کے نام پر دنیا کے مختلف ممالک پر قبضہ کرنا شروع کر دیا اور سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیاد پر اپنے سامراجی مقاصدکی تکمیل کی۔ یہ سلسلہ ایک صدی تک جاری رہا۔ توسیع پسندانہ مہم کی وجہ سے ان ممالک کے مابین باہمی رقابت نے جنم لیا جس کے نتیجے میں جنگ عظیم اول واقع ہوئی۔

اس جنگ کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں دنیا کو بین الاقوامی اتحاد کی ضرورت محسوس ہوئی اور یوں مجلس اقوام (لیگ آف نیشنز) کا قیام عمل میں آیا۔اس تنظیم نے کافی حد تک عالمی تنازعات حل کیے اس کا کردار مثبت رہا۔ لیکن کیونکہ اس پر برطانیہ اور فرانس کی بالادستی تھی لہٰذا یہ ممالک یورپی مسائل کو ہی مسائل سمجھتے تھے اور افریقہ اور ایشیا کے مسائل کو نظر انداز کردیتے تھے جس کے نتیجے میں یہ تنظیم غیر موثر ہوگئی۔ دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں کافی ہولناکی اور تباہی و بربادی دیکھنے میں آئی۔ اس جنگ کے خاتمے کے بعد انسانیت کو جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی گئی۔

ریاستوں کی انفرادی حیثیت اور ان کے درمیان اختلافات کے باوجود یہ حقیقت واضح ہے کہ ریاستیں الگ تھلگ نہیں رہ سکتی تھیں ، مشترکہ مفادات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان ریاستوں کو باہمی اختلافات کے باوجود باہمی طور پر متحد ہونا پڑتا ہے، اسی ضرورت کے نتیجے میں دنیا میں بہت سی بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں نے جنم لیا۔ ان تنظیموں کے قیام کے نتیجے میں اقوام متحدہ پر ذمے داری کا نہ صرف بوجھ کم ہوا بلکہ علاقائی مسائل کے حل میں بھی مدد ملی۔ علاقائی سطح پر اتحاد اور تعلق اقوام متحدہ کے مقاصد کے حصول میں مددگار رہا ہے۔

انھی تنظیموں میں ایک تنظیم یورپی یونین ہے۔ یہ براعظم یورپ کی دو درجن سے زائد آزاد جمہوری ریاستوں کی یونین ہے۔ یورپی یونین کی کارکردگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو سب سے اہم بات ان کی سرحدیں ہیں جو اس سے منسلک تمام ممالک کے لیے کھول دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مشترکہ منڈی اور مشترکہ کرنسی کا اجرا بھی اہم ہے ، یوروکرنسی کے اجرا نے یورپی یونین کی اہمیت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ یہ ایک ایسی تنظیم ثابت ہوئی ہے جس نے آپس میں جنگ و جدل میں مبتلا پوری اقوام کو نہ صرف سیاسی اور معاشی وحدت میں تبدیل کردیا ہے بلکہ 50کروڑ سے زیادہ آبادی والے حصے کو بہتر سماجی ، سیاسی اور معاشی استحکام فراہم کیا ہے اور انھی کی بہتری کے لیے دو درجن سے زائد ممالک مل کرکام کر رہے ہیں۔

مغرب کا تصور قومیت ، رنگ، نسل ، زبان اور جغرافیائی حد بندی پر مبنی ہے۔ اسلام نسلی، لسانی تصور قومیت کے برخلاف ایک ملت کا تصور پیش کرتا ہے ، اس کی اساس دین اسلام سے وابستگی پر ہے۔ اسی نظریے کی بنیاد پر اسلامی ممالک کی تنظیم ’’ او آئی سی‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ مسلمان دنیا کی کل آبادی کا 20 فیصد ہیں اس طرح یہ تنظیم اسلامی دنیا کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔ او آئی سی کا قیام یورپی یونین سے تقریباً 23 سال پہلے وجود میں آیا لیکن ہم جب اس تنظیم کا یورپی یونین سے تقابلی جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں اس تنظیم کی کارکردگی مکمل طور پر مایوس کن نظر آتی ہے۔

عرب اسرائیل جنگ ہو یا آزاد فلسطینی ریاست کا حصول، عرب ممالک کے باہمی تنازعات ہوں یا مسلم ممالک کے باہمی تنازعات، افریقہ کے قبائل کے مابین لڑائیاں ہوں یا افغانستان کی خانہ جنگی، ایران عراق جنگ ہو یا عراق کا کویت پر حملہ، امریکا کا عراق پر حملہ ہو یا افغانستان پر ہمیں ہر محاذ پر او آئی سی ناکام دکھائی دیتی ہے۔

یہ تنظیم تمام مسائل پر مزاحمتی قراردادیں اور سفارشات پیش کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکی۔ اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو او آئی سی کا وجود اور عدم وجود دونوں برابر دکھائی دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ تنظیم عالمی سطح پر غیر موثر کیوں ہے؟ اس کا بہتر جواب تو سیاسی ماہرین ہی دے سکتے ہیں میری ذاتی رائے میں اس کی بڑی وجہ متعدد اسلامی ممالک میں جمہوری نظام کا نہ ہونا ہے۔ بیشتر اسلامی ممالک ملوکیت، موروثیت اور آمریت کی سیاست کا شکار ہیں۔ جمہوریت کی اساس آزادی اور مساوات پر ہوتی ہے جب کہ آمریت کی بنیاد جبر و تشدد پر ہوتی ہے۔ اس لیے آمر اپنے اقتدار کو مضبوط اور مستحکم رکھنے کے لیے جبر و تشدد کا سہارا لیتا ہے جب اس کی طرز حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو وہ مخالفین پر غداری اور بغاوت کی تہمت لگا کر ان کی سیاسی سرگرمیوں کو بری طرح کچل دیتا ہے۔

آمر کے عہدے کی کوئی میعاد مقرر نہیں ہوتی اور نہ ہی اقتدار کی آئینی طور پر منتقلی کا کوئی طریقہ کار موجود ہوتا ہے اس لیے آمر کو قتل و غارت اور خونی انقلاب کے ذریعے ہی اقتدار سے الگ کیا جاسکتا ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جس کے نتیجے میں متعدد مسلم ممالک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں۔

ظاہر ہے ایسی قیادتیں جو اپنے ملک میں اپنے عوام کے لیے کوئی خاطر خواہ کام انجام نہ دے سکیں اور سیاسی استحکام نہ لاسکیں وہ عالمی سطح پر کس طرح اپنا انقلابی کردار ادا کرسکتی ہیں۔ جمہوری حکومتوں کے حکمران عوامی خواہشات کے مطابق اپنے فرائض انجام دیتے ہیں جمہوری نظام کے پیچھے عوامی طاقت ہوتی ہے جو حکمرانوں میں خود اعتمادی اور جرأت پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے حکمران کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی قسم کے ظاہری یا پس پردہ دباؤ کو قبول کرتے ہیں بلکہ جرأت مندانہ فیصلے کرتے ہیں ،اس طرح کامیابی سے ہمکنار ہوجاتے ہیں۔ یورپی یونین کی کامیابی کی یہی سب سے بڑی وجہ ہے مسلم دنیا کو اس پر غور ضرورکرنا چاہیے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …