ہفتہ , 21 ستمبر 2019

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ)

برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے مشہور ہے اور ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ تین اطراف سے سمندر سے گھرا اور اسپین سے ملحق یہ وہ مقام ہے جہاں عظیم مسلمان سپہ سالار طارق بن زیاد 711میں اپنی فوج کے ہمراہ مراکش سے کشتیوں میں سوار ہو کر اسپین پر لشکر کشی کیلئے روانہ ہوا اور یہاں پڑائو ڈالا۔ دشمن کی ایک لاکھ سے زائد فوج کے مقابلے میں طارق بن زیاد کی فوج کی تعداد صرف 12ہزار تھی اور دشمن کے مقابلے میں کم تعداد ہونے کے باعث مسلمان افواج کا حوصلہ پست تھا۔ ایسی صورتحال میں سپہ سالار طارق بن زیاد نے وہ کشتیاں جن پر سوار ہو کر اُس کی افواج یہاں پہنچی تھیں، اُنہیں آگ لگانے کا حکم دیا اور اپنی تاریخی تقریر میں کہا کہ ’’ہم اپنی کشتیاں جلا چکے اور اب واپسی ممکن نہیں، دشمن ہمارے سامنے اور پشت پر سمندر ہے، اب ہماری بقا کا واحد راستہ فتح ہے‘‘۔ طارق بن زیاد کے اِن الفاظ کو مسلمان فوج نے شہادت یا فتح سے تعبیر کیا اور میدان کار زار میں ہمت و شجاعت کی وہ داستانیں رقم کیں جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ طارق بن زیاد کی فتح یورپ میں اسلام کی آمد کا سبب بنی اور مسلمانوں نے یورپ پر تقریباً 800سال تک حکمرانی کی۔

مراکش کے شہر تنجیر سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع جبرالٹر (جبل الطارق) دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ پورا ملک ایک راک یعنی پہاڑی پر واقع ہے جسے دنیا کا سب سے چھوٹا ملک بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس ملک کا مجموعی رقبہ صرف 6.7کلومیٹر ہے اور آبادی 35ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ اِس طرح فی کلو میٹر تقریباً 4,500افراد رہتے ہیں۔ جبرالٹر دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانوی نیوی کا ایک اہم بیس تھا کیونکہ میڈیٹرین (Meditation) آنے والے تمام بحری جہاز یہیں سے ہو کر گزرتے ہیں۔ میں سیاحت کے سلسلے میں کئی بار جبرالٹر جا چکا ہوں جہاں پہنچ کر اسلامی تاریخ میں گم ہو جاتا ہوں۔ گزشتہ دنوں جبرالٹر اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنا جب 4جولائی کو جبرالٹر انتظامیہ نے 2.1ملین بیرل تیل سے بھرے ایک ایرانی بحری جہاز کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ جبرالٹر حکومت کا کہنا تھا کہ مذکورہ بحری جہاز ایران پر عائد عالمی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیل شام لے جارہا تھا۔ ایران نے جبرالٹر کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا اور جہاز کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں ردعمل کے طور پر ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل سے بھرے برطانوی بحری جہاز ’’اسٹینا امپوریو‘‘ کو عملے سمیت اپنے قبضے میں لے لیا جس کے بعد برطانیہ اور ایران میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ تاہم گزشتہ دنوں برطانیہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں جبرالٹر کی عدالت نے تحویل میں لئے گئے ایرانی بحری جہاز کو اس شرط پر چھوڑنے کی اجازت دے دی کہ بحری جہاز سے خام تیل شام نہیں لے جایا جائے گا۔ امریکہ کا آخری وقت تک جبرالٹر پر یہ دبائو رہا کہ وہ ایرانی جہاز کو مزید تحویل میں رکھے اور اس سلسلے میں امریکی عدالت انصاف نے تحویل میں لئے جانے والے ایرانی بحری جہاز کو نہ چھوڑنے کا وارنٹ بھی جاری کیا جسے جبرالٹر انتظامیہ اور عدالت نے مسترد کردیا۔ اس اقدام کے بعد امکان ہے کہ ایران بھی اپنی تحویل میں لئے جانے والے برطانوی بحری جہاز کو جلد چھوڑ دے گا مگر امریکہ، جبرالٹر انتظامیہ کے فیصلے سے قطعاً خوش نہیں کیونکہ اس فیصلے سے وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہوسکا۔ دوسری طرف ایران اِسے اپنے موقف کی کامیابی قرار دے رہا ہے جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ برطانیہ اور یورپی یونین ممالک کو ایران کے آئل برآمد کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تاہم انہیں آئل شام لے جانے پر اعتراض ہے جس پریورپی یونین نے پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔

موجودہ صورتحال کو ایران کی وقتی کامیابی ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔ امریکہ کی پوری کوشش ہوگی کہ اس کی ایران پر لگائی گئی پابندیوں کی خلاف ورزی نہ ہو اور ایران اپنا آئل دنیا کو ایکسپورٹ نہ کر سکے۔ امریکی پابندیوں کے بعد ایران کی بقا اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اپنے آئل کی ایکسپورٹ جاری رکھے جبکہ امریکہ کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کی لگائی گئی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران دنیا کو آئل ایکسپورٹ کرے۔ امریکی بحری بیڑے پہلے ہی خطے میں موجود ہیں اور امریکہ کی پوری کوشش ہوگی کہ ایران سے تیل لے جانے والے بحری جہازوں کو وہاں سے نہ گزرنے دے۔ اس طرح آنے والے دنوں میں امریکہ ایران کشیدگی میں اضافے کا امکان ہے۔ ایران پہلے بھی یہ واضح کر چکا ہے کہ اگر اس کی آئل ایکسپورٹ میں رکاوٹ ڈالی گئی تو وہ آبنائے ہرمز سے کسی دوسرے ملک کے بحری جہاز کو گزرنے نہیں دے گا۔ برطانوی تیل بردار جہاز کو تحویل میں لینے کے بعد ایران نے اس بات کو ثابت کردیا کہ وہ دوسرے ممالک کے بحری جہاز اپنی تحویل میں لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دنیا کا 60فیصد تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے اور اگر مستقبل میں امریکہ، ایران کشیدگی میں اضافہ ہوا اور تیل کی ایکسپورٹ متاثر ہوئی تو تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے خطے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے جس سے پاکستان بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …