ہفتہ , 21 ستمبر 2019

نیشنل ایکشن پلان رپورٹ: مثبت پیش قدمی

وفاقی حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اسی طرح کراچی میں دہشت گردانہ واقعات کم ہوئے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے دوران 71تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا جبکہ 4کو نگرانی کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 30500مدارس میں سے 21900کی رجسٹریشن مکمل ہو گئی ہے۔ ملک بھر میں 9کروڑ 81لاکھ غیر قانونی موبائل فون سمز بلاک کی گئیں ‘ 56دہشت گردوں کو پھانسی دی گئی۔ رپورٹ مزید بتاتی ہے کہ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف 2لاکھ 99ہزار 909آپریشنز کئے۔ جن میں 3800افراد گرفتار جبکہ 2268مارے گئے۔ تقریری یا تحریری طریقے سے معاشرے میں نفرت پھیلانے والے 3500افراد کو حراست میں لیا گیا۔

سوشل میڈیا پر 1600لنکس کو بلاک کرنا اور 14500شکایات بھی اس کارکردگی میں شامل ہے۔ 16دسمبر 2014ء کو دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پشاور پر اس وقت حملہ کیا جب طلباء معمول کی تعلیمی و نصابی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ اس حملے میں 133بچے‘ کچھ اساتذہ اور عملے کے دیگر افراد شہید ہوئے۔ حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی۔ نائن الیون کے بعد مسلسل دہشت گردی کے شکار پاکستان کے لئے یہ ایک تاریخی لمحہ تھا جب اسے متحد اور یکسو ہو کر مستقبل کی حکمت عملی ترتیب دینا تھی۔ تحریک انصاف نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے 126روز سے انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے دھرنا دے رکھا تھا۔ نواز شریف حکومت ایک برس کے بعد ہی انتہائی غیر مقبول دکھائی دے رہی تھی۔ اس سانحہ کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا۔ تمام سیاسی قوتوں نے اپنے مفادات اور ایجنڈے ایک طرف رکھ کر قومی سوچ کے تحت آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی۔ مسلح افواج نے اس موقع پر قومی یکجہتی کا ماحول بنانے کے لئے اہم کردار ادا کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیاسی و عسکری قیادت مل بیٹھ کر دہشت گردوں سے مقابلہ کی حکمت عملی ترتیب دے گی۔ عسکری وسول اداروں نے اپنی ماہرانہ رائے تجاویز کی شکل میں پیش کی۔ جس کے بعد نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دیدی گئی۔

پاکستانی سماج مختلف بین الاقوامی تبدیلیوں کے زیر اثر رہا ہے۔ سماج کی نظریاتی شکل ایک مسلمان‘ پاکستانی اور باشعور معاشرے کے طور پر بنائی جانی تھی مگر فرقہ واریت‘ بدعنوانی‘ غیر ملکی مفادات کے گھڑے نظریات اور کچھ ہماری اپنی نالائقیوں نے اس کا قدرتی اور خالص مزاج ختم کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب نیشنل ایکشن پلان بنا تو ماضی کی متعدد یادگاروں اور مصنوعی تصورات کو ختم کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ مغربی ممالک کے تصور سزا کی پیروی میں ہم سزائے موت کا خاتمہ کر چکے تھے۔ اب مسئلہ یہ ہوا کہ سفاک دہشت گرد پکڑے جاتے‘ سزائے موت دی نہیں جا سکتی تھی لہٰذا وہ جیلوں میں بیٹھ کر انسانیت دشمن سرگرمیاں جاری رکھتے۔ پھر عدالتوں کو دھمکیاں دے کر فیصلے پر اثر انداز ہوا جاتا ۔ تفتیش کرنیوالوں کو بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں ملتیں یا بیوی بچوں کو مار دینے کا پیغام ملتا‘ نیشنل ایکشن پلان نے تفتیش ‘سماعت اورسزا کا نظام بدل دیا۔ تفتیش کی ذمہ داری پولیس کے ساتھ دیگر اداروں کو بھی تفویض کی گئی۔ فوجی عدالتیں قائم ہوئیں اور مغربی ممالک کے دبائو کو نظرانداز کر کے سزائے موت کو بحال کر دیا گیا۔ نیشنل ایکشن پلان نے دوسرا کام کسی بھی طرح سے لائوڈ سپیکر کے بے جا استعمال پر پابندی لگا کر کیا۔ ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی جو معاشرے میں نفرت اور تعصب پھیلاتے ہیں۔

مذہبی ‘ فرقہ وارانہ ‘ نسلی اور لسانی نفرت آمیز لٹریچر کی اشاعت پر پابندی لگی۔ ذرائع ابلاغ کو اعتماد میں لیا گیا۔ آزادی اظہار اور قومی سکیورٹی کے تقاضوں کو اجاگر کیا گیا۔ اس کے جلد مثبت نتائج برآمد ہوئے اور پاکستانی معاشرے کی اجتماعی سوچ اسلام‘ پاکستان اور قومی یکجہتی کی طرف پلٹنے لگی۔ مسلح افواج نے ان علاقوں پر خصوصی توجہ دی جہاں ریاست کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رٹ کمزور پڑ چکی تھی۔ کراچی شہر بدامنی اور انتشار کا ناقابل اصلاح گڑھ بن چکا تھا۔ قبائلی علاقوں میں دہشت گرد آسانی سے چھپ جاتے تھے۔ ان اقدامات کے فوائد ظاہر ہونے لگے پرتشدد واقعات میں 2014ء کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 7611تھی جو 2015ء میں 4653ہو گئی۔ جیسا کہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ فرقہ واریت کا پرچار کرنے پر پندرہ ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر کے 14869مقدمات درج کئے گئے۔6ہزار دکانداوں کے خلاف نفرت پھیلانے والا مواد فروخت کرنے پر مقدمات درج ہوئے۔ اس دوران فرقہ وارانہ واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2014ء سے اب تک مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے افغانستان کی صورت حال کے باعث عدم استحکام کا شکار ہے۔ عدم استحکام کی دوسری وجہ ہمارا مشرقی ہمسایہ بھارت ہے جو بلوچستان اور کراچی میں گڑ بڑ پھیلانے کی منصوبہ بندی کرتا رہتا ہے۔ ملک عدم استحکام کا شکار ہو تو اس کے عوام خوشحال اورمطمین نہیں رہتے۔ ریاست کمزور ہوتی چلی جاتی ہے اور پھر انتشار پسند طاقتوں کے ہاتھوں یرغمال بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ بات بات پر ایک دوسرے کا گریبان پکڑنے والے سیاستدان نیشنل ایکشن پلان اور بھارت کی شرانگیزی کا مقابلہ کرنے کے لئے اتحاد کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اسلحہ اور افرادی قوت نہیں حکمت عملی سے جیتی گئی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے کچھ مراحل ابھی زیر عمل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جونہی اس ایکشن پلان پر عملدرآمد کے مراحل مکمل ہوئے پاکستان داخلی طور پر ایک نئی قوت سے کھڑا ہو گا۔ بشکریہ 92 نیوز

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …