ہفتہ , 17 اپریل 2021

یورپ ایٹمی معاہدے پر اپنے وعدوں پر عمل کرے ، وزیرخارجہ ڈاکٹر ظریف

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ اگر یورپ ایٹمی معاہدے کے بارے میں اپنے وعدوں پر عمل کرے تو ایران نے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کو معطل کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ واپس لے گا۔ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے فرانس پریس سے گفتگو کے دوران فرانسیسی صدر امانوئیل میکرون کی تجاویز کا خیرمقد کرتے ہوئے کہا ہے ایٹمی معاہدے کے تعلق سے کشیدگی کو کم کرنے کے لئے فرانسیسی صدر کی تجاویز مناسب راستہ طے کررہی ہیں لیکن زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ فرانس کے صدر نے گذشتہ ہفتے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کو اچھی تجاویز پیش کی تھیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جس راستے پرچلنے کا انہوں نے انتخاب کیا ہے کہ وہ مناسب راستہ ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ نے فرانسیسی صدر کی تجاویزکی تفصیلات کا ذکرکئے بغیر کہا کہ یورپ کو چاہئے کہ وہ ایران کے لئے زیادہ آسانیاں پیدا کرنے والے راستے کا انتخاب کرے حتی ایک ایسے وقت جب امریکا ایٹمی معاہدے کا رکن نہیں رہ گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف اور فرانس کے صدر میکرون کے درمیان پیریس میں مذاکرات ایک ایسے وقت انجام پائے ہیں جب اس کے ایک دن بعد ہی فرانس گروپ سات کے تین روزہ سربراہی اجلاس کی میزبانی شروع کر رہا ہے۔ اس اجلاس میں امریکی صدر ٹرمپ بھی شرکت کررہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا ایٹمی معاہدہ کہ جس سے امریکی صدر ٹرمپ ایک سال پہلے نکل چکے ہیں اس اجلاس کا اصل موضوع ہوگا۔

ایرانی وزیرخارجہ نے ساتھ ہی یورو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی معاہدہ کوئی یکطرفہ معاہدہ نہیں تھا بلکہ یہ وہ معاہدہ ہے جس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تائید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یورپی یونین امریکا کے ساتھ مل کر یا پھر امریکا کے بغیر یہ فیصلہ کرے کہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں اپنے وعدوں پر عمل کرےگی تو پھر ہم چند گھنٹے کے اندر اندر ایٹمی معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کی اپنی سابقہ پوزیشن پر لوٹ سکتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …