جمعرات , 15 اپریل 2021

ایرانی وزیر خارجہ کی جی سیون اجلاس میں اچانک آمد: امریکی حکام حیران

بیارٹز(مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف فرانس میں ہونے والے جی سیون اجلاس میں اچانک شرکت کے لیے پہنچ گئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے اتوار کے روز فرانس کے شہر بیارٹز میں ہونے والے جی سیون ممالک کے اجلاس میں ڈرامائی شرکت کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جواد ظریف نے دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ سائیڈ لائن پر ملاقاتیں کیں جب کہ جی سیون کے اجلاس میں صدر ٹرمپ بھی موجود ہیں۔ٹوئٹر پر جاری بیان میں جواد ظریف نے کہا کہ ان کی فرانسیسی ہم منصب اور صدر سے کافی تعمیری گفتگو ہوئی۔

جواد ظریف نے مزید کہا کہ آگے کا راستہ مشکل ہے لیکن کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔اس حوالے سے وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا تھا کہ فرانس کی جانب سے جواد ظریف کو جی سیون ممالک کی سائیڈ لائن پر ملاقاتوں کی دعوت ان کے لیے حیران کن تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات کی اور اس دوران ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے حوالے سے ممکنہ حالات پر گفتگو کی۔اس کے علاوہ جواد ظریف فرانسیسی صدر میکرون کی بریفنگ کے دوران بھی موجود رہے البتہ وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہےکہ ایرانی وزیر خارجہ نے بیارٹز سے واپسی پر کسی امریکی حکام سے ملاقات نہیں کی۔

واضح رہےکہ ایران اور امریکا کے درمیان ایٹمی معاہدے کے خاتمے کے بعد سے تعلقات کشیدہ ہیں اور امریکا نے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کررکھی ہیں جب کہ یورپی رہنما دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …