منگل , 13 اپریل 2021

مقبوضہ کشمیر میں عوام کو بدترین پابندیوں کا سامنا ہے :ہیومن رائٹس واچ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں عوام کو بدترین پابندیوں کا سامنا ہے ، مودی کے اقدامات نے بھارتی جمہوریت کی تعریفیں کرنے والے عالمی مبصرین کو حیران کرڈالا، کشمیر میں بلاناغہ احتجاج بھارت کے ہر مؤقف کی نفی کرتا ہے ۔ہیومین رائٹس واچ کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیائی امور میناکشی گنگولی کی ایک اور تہلکہ خیز رپورٹ سامنے آگئی۔ میناکشی گنگولی نے بھارتی دعووں کی قلعی کھول دی۔

میناکشی گنگولی اپنی رپورٹ میں کہتی ہیں مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام کی بندش عوام کیلئے ایک سزا ہے ایسے اقدامات روزمرہ امور اور معاشی سرگرمیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں، بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سب سے زیادہ بار انٹرنیٹ بند کیا گیا، ایسی بندش کو دنیا کے کئی ممالک سنسر شپ کا ہتھیار بنا کراستعمال کرتے ہیں،میناکشی گنگولی لکھتی ہیں بھارت کا دعویٰ ہے کہ وادی میں سب ٹھیک ہے ، مگر کشمیر میں تاریخ والے پوسٹرز کے ساتھ ہونے والا احتجاج اس مؤقف کی نفی کرتا ہے ۔

وہ کشمیریوں کی حالت زار بیان کرتے مزید لکھتی ہیں کہ وہ عشروں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں سہتے آرہے ہیں، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور لاپتہ کردیا جاتا ہے جبکہ ان کا ماورائے عدالت قتل بھی کیا جاتا ہے لیکن کشمیریوں کیلئے انصاف اور احتساب کے معاملے پر مودی خاموشی سادھے ہوئے ہیں،سرینگر میں احتجاج کی مسلسل خبریں آرہی ہیں،مظاہرین تاریخ والے پوسٹرز کے ساتھ سڑکوں پر نکلتے ہیں جو بھارتی مؤقف کی نفی کرتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

میانمار مظاہرین کے جلوس جنازہ پر فوج کی فائرنگ

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں اور مظاہرین پر فوج کی فائرنگ کا سلسلہ …