ہفتہ , 19 ستمبر 2020

انڈونیشین شہریوں کو دوسری بار حج کیلئے 37 سال تک انتظار کرنا ہوگا:حکومت

Hajj5

جکارتہ(مانیٹرنگ ڈیسک ) انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے شہریوں کے لیے اعلان کیا ہے کہ ایک دفعہ حج کرنے کے بعد دوبارہ مقدس فریضہ کی ادائیگی کے لیے 37 سال تک انتظار کرنا ہوگا، میڈیا رپورٹس کے مطابق ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زندگی میں کم از کم ایک بار حج ضرور کرے اور اس مقصد کے لئے وہ اپنے ملک میں متعلقہ حکام کو درخواست بھی دیتا ہے اور اس کا نام آنے کے بعد وہ یہ سعادت حاصل کرتا ہے۔ پاکستان میں بھی لوگ ہر سال اس عمل سے گزرتے ہیں اور ایک سال یا زیادہ سے زیادہ دو سال بعد ان کا نمبر آجاتا ہے لیکن آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے مسلم ملک انڈونیشیاء میں لوگوں کو حج کرنے کے لئے 37 سال کا انتظار لازمی ہے۔ انڈونیشین مسلم ایسوسی ایشن برائے حج و عمرہ کے چئیرمین جوکو اسمورو نے کہا کہ اس وقت 32 لاکھ انڈونیشین مسلمان حج کی سعادت حاصل کرنے کے لئے انتظار کر رہے ہیں، انڈونیشیا کی آبادی 22 کروڑ ہے اور لوگوں کو اللہ کا گھر دیکھنے کا بہت شوق ہے اور ڈیمانڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ حج پر جانے کے لئے پہلے رجسٹریشن کروا کر رکھیں۔ اسمورو کا کہنا تھا کہ رجسٹریشن کے بعد انتظار کی اوسط 37 سال ہے، جس کی وجہ سے عمرے کو فوقیت دیتے ہیں جس میں انتظار کا وقت کم ہے۔ انڈونیشیاء میں اس وقت 3500 ٹریول ایجنسیاں کام کر رہی ہیں جس میں سے 668 کو عمرہ کروانے کی اجازت ہے اور صرف 200 کو سعودی حکومت کی جانب سے حج کروانے کی اجازت ہے۔ حج اور عمر زائرین کو مقامات مقدسہ لے جانے کے لئے چار ایئر لائنز کام کر رہی ہیں۔اس کا کہنا تھا کہ وی وی آئی پی حج کی لاگت 8000 ڈالر (8لاکھ رپے) ہے اور صرف 17 ہزار لوگ اس مہنگے پیکج کی استطاعت رکھتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سامرا، حشد الشعبی کے حملے میں چار داعشی ہلاک

بغداد: عراق کی سکیورٹی انفارمیشن آفس کی رپورٹ کے مطابق عراق کے صوبے صلاح الدین …