منگل , 13 اپریل 2021

پاکستان اور اسکے بے فیض دوست، پالیسی بدلنا ہوگی

(تحریر: ت، ح، شہزاد)

مودی ویسے پاکستان کیلئے مفید ثابت ہوا ہے، اس نے اقتدار میں آتے ہی پاکستان کیلئے بہت سے کام کئے ہیں، جو لاجواب ہیں۔ مثال کے طور پر اس نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو بڑھاوا دیا۔ اس وقت پوری مقبوضہ وادی میں 95 فیصد کشمیری یک زبان و متحد ہو کر بھارت سے آزادی مانگ رہے ہیں اور ان کی یہ تحریک کافی زیادہ تیز ہوگئی ہے اور امید پیدا ہوگئی ہے کہ جلد ہی کشمیر آزاد ہو جائے گا۔ دوسرا بڑا کام مودی نے پاکستان کیلئے یہ کیا کہ پاکستان کے دوستوں اور دشمنوں کو بے نقاب کر دیا۔ مودی نے بحرین اور متحدہ عرب امارات سے ایوارڈ لے کر ثابت کر دیا کہ پاکستان جن کو ’’سچا یار‘‘ کہتا ہے اور عمران خان جن کی ڈرائیوری کو قابلِ فخر سمجھتے ہیں، وہ پاکستان کیساتھ مخلص نہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ ’’اُمہ‘‘ کی بات کی ہے، کسی بھی عرب ملک پر جب بھی کوئی مشکل آئی ہے، پاکستان نے اس مشکل کو اپنی مشکل سمجھ پر عربوں کو اس سے نجات دلائی۔

یو اے ای میں ہزاروں نہیں لاکھوں پاکستانی موجود ہیں اور مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں، اسی طرح سعودی عرب میں بھی لاکھوں پاکستان مزدور، ڈرائیور، ڈاکٹر، پروفیسر، بیوروکریٹس، علماء، تاجر اور ہر پیشے میں موجود ہیں۔ یہاں تک کہ سعودی عرب میں نام نہاد اسلامی اتحاد کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی پاکستانی ہیں۔ سعودی عرب ہو یا یو اے ای، انہیں جب بھی پاکستان کی ضرورت پڑی، پاکستان نے بڑھ چڑھ کر مدد کی۔ اس کے بدلے میں ان ملکوں کی طرف سے پاکستان کو کیا ملا؟ کبھی ادھار تیل اور کبھی کچھ قرضہ اور بس، اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔ مگر افسوس کہ اب جب بھارت سرکار کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے، پاکستان کشمیری بھائیوں کیساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی ہر محاذ پر اخلاقی و سفارتی حمایت کر رہا ہے، اس موقع پر ضرورت تو اس امر کی تھی کہ پوری امت مسلمہ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی، مگر ایسا نہیں ہوا، عربوں نے اس معاملے میں نہ صرف پاکستان کو ٹھینگا دکھا دیا ہے بلکہ مودی کو بلا کر ایوارڈ دیئے جا رہے ہیں۔ یو اے ای نے ایوارڈ پر ہی بس نہیں کی بلکہ انڈیا کی خوشنودی کیلئے گاندھی کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر گاندھی کی تصویر والا ڈاک ٹکٹ بھی جاری کر دیا ہے۔ عربوں کے یہ اقدام کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔

ان کے برعکس ایران اور ایران کی قیادت خراج تحسین کے لائق ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اِس موقع پر واضح پیغام جاری کرکے بھارتی مظالم کی مذمت اور کشمیری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر پر سے دباؤ ختم کرے اور کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی کیلئے شفاف پالیسی اختیار کرے۔ اُن کا کہنا تھا کہ مودی سرکار مسلم اکثریتی علاقے پر سے دباؤ ختم کرے، پاکستان اور بھارت کو الجھائے رکھنے کیلئے برطانیہ نے جان بوجھ کر مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کیا۔ تناؤ کو طول دینے کیلئے برطانیہ نے مسئلہ کو بغیر حل کے رہنے دیا اور تو اور ایران کی پارلیمنٹ نے بھی بھارتی مظالم کیخلاف قرارداد منظور کرلی۔ قرار داد شہید مطہری کے فرزند علی مطاہری نے پیش کی۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ایران سمیت دنیا بھر کے تمام مسلمان ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز اُٹھائیں۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ مسلم امہ سمیت تہران کشمیر کے معاملے پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا قابل تشویش ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسلم امہ آگے آئے اور مشکل میں گھرے کشمیری بہن بھائیوں کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ بھارت مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ایران نے ہر مشکل موقع پر پاکستان کی مدد کی ہے، پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کرنے کا اعزاز بھی ایران کو ہی حاصل ہے جبکہ ہمارے ہاں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں ایسی لابی موجود رہی ہے، جس کا جھکاو ہمیشہ عربوں کی جانب رہا ہے، آج یہ لابی یقیناً اپنے کئے پر شرمندہ ہوگی۔ اس لابی نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ پاک ایران تعلقات میں رخنہ ڈال کر پاکستان کو عربوں کی جھولی میں ہی گرا دیا جائے اور ماضی قریب میں ایسا ہی ہوا کہ ہم نے ایران کی نسبت عربوں کو زیادہ ترجیح دی۔ لیکن اس کے صلے میں عربوں نے ہمارے ساتھ جو سلوک کیا، وہ سب کے سامنے ہے۔ اس موقع پر فواد چودھری کے ٹویٹ کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔ فواد چودھری نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستان میں ایک طبقہ ہے، جو پاکستان سے زیادہ عربوں اور ایران کیلئے فکر مند ہے۔ اس حوالے سے شائد فواد چودھری ملکی تاریخ سے لابلد ہیں۔ انہیں علم ہی نہیں یہ طبقہ خود حکومتوں کا پیدا کردہ ہے۔ خود حکومتوں نے عوام کی یہ سوچ بنائی تھی، جس کا مقصد عربوں کی خوشنودی تھا۔ جب بھی ریاض یا دبئی سے کوئی حکمران پاکستان کا دورہ کرتا، حکومت ہی عوام کو تیار کرتی، جو اُن کا ’’تاریخی اور فقید المثال‘‘ استقبال کرتے۔ مگر آج حکومتوں کی ہی تیار کردہ عوام حمایت پر تنقید افسوسناک ہے، اس کے ذمہ دار عوام نہیں بلکہ سابق حکمران ہیں۔

پاکستانی حکومت کو اب عربوں کی صفائیاں دینے کے بجائے اپنی خارجہ پالیسی کا ازسر نوء جائزہ لینا ہوگا۔ دیکھنا ہوگا کہ کون سا ملک ہمارے ساتھ مخلص ہے، کس ملک کو پاکستان کی بقاء عزیز ہے، اس ملک کیساتھ تعلقات رکھے جائیں، اسی کیساتھ تجارت بڑھائی جائے۔ باقی جو پاکستان کو ہمیشہ سے استعمال کرتے آئے ہیں، ان کو خیر باد کہنے کا وقت آگیا ہے، کیونکہ صوفی بزرگ میاں محمد بخشؒ فرماتے ہیں۔

دنیا تے جو کم نہ آیا اوکھے سوکھے ویلے
اُس بے فیضی سنگی کولوں بہتر یار اکیلے

(دنیا میں مشکل وقت میں جو دوست کام نہیں آتا، اس بے فیض سے تنہائی ہی بہتر ہے) تو پاکستان کو ان عربوں کی چاپلوسی کی بجائے وسیع دنیا کی طرف دیکھنا ہوگا، جنگیں قومیں اپنی طاقت سے لڑا کرتی ہیں، ’’فرینڈز‘‘ ہمیشہ اخلاقی مدد ہی دیا کرتے ہیں۔ سعودی عرب یا یو اے ای نے اپنی توپیں اور فوجیں ہمارے سیالکوٹ بارڈر پر نہیں کھڑی کرنی، بلکہ ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ پڑوس میں پٹاخہ بھی چلے تو تہہ خانوں کے بھی تہہ خانوں میں جا چھپتے ہیں۔

ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ ہماری بھارت کیخلاف جنگ میں مدد کریں گے۔ ان کی بے بسی اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ 42 ملکی عسکری اتحاد یمن کے چند مجاہدین سے جوتے کھا رہا ہے۔ یہ عرب پرلے درجے کے بزدل ہیں اور امریکہ و مغربی ممالک ان کی اسی بزدلی کو ہتھیار بنا کر ان کو بیوقوف بنا کر لوٹ رہے ہیں۔ امریکہ نے ہمیشہ عربوں کو ایران سے ڈرا کر دفاع کے نام پر اپنا اسلحہ مہنگے داموں فروخت کیا ہے، جبکہ ایران متعدد بار عربوں کو یقین دلا چکا ہے کہ اس کے کوئی توسیع پسندانہ عزائم نہیں، وہ کسی عرب ملک پر حملہ آور نہیں ہونے جا رہا، مگر امریکیوں نے سی آئی اے کی جھوٹی انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر عرب بدووں کو بدھو بنایا۔ کمشیر ہم نے آزاد کروانا ہے اور یہ جنگ کے بغیر نہیں ہوگا، اس کیلئے ہمیں خود تیاری کرنا ہوگی۔ ہمیں اپنے پاوں پر کھڑا ہونا ہوگا، عربوں پر انحصار نہ صرف ہمیں نقصان دے گا بلکہ عرب بھارت کی گود میں بیٹھ کر ہمارے کاز کو بھی نقصان پہنچائیں گے۔ حکومت اپنی خارجہ پالیسی ازسر نوء تشکیل دے، وقت بہت کم ہے اور مقابلہ بہت سخت۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …