ہفتہ , 17 اپریل 2021

’فلسطین و فلسطینی امریکی ڈالرز کے عوض فروخت نہیں ہوں گے‘حنان داؤد عشراوی

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک)فلسطین کو مشترکہ و عظیم ریاست بنانے کے لیے نصف صدی بنائی گئی تنظیم ’فلسطین لبریشن آرگنائزیشن‘ کے اہم رکن و سابق فلسطینی وزیر حنان داؤد عشراوی نے دنیا پر واضح کیا ہے کہ ’فلسطین اور فلسطینی امریکی ڈالرز کے عوض فروخت نہیں ہوں گے‘۔فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کمیشن بنانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کڑی نظر رکھنے والی 72 سالہ حنان عشراوی نے حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فلسطین کے حوالے سے دیے جانے والے متنازع بیان کو مسترد کرتے ہوئے دنیا پر واضح کیا کہ ’فلسطین امریکی ڈالرز کے عوض فروخت نہیں ہوگا‘۔

’مڈل ایسٹ مانیٹر‘ کے مطابق فلسطینی رہنما نے عرب اخبار ’الوطن وائس‘ سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ فلسطینی لوگ کبھی بھی امریکی ڈالرز یا دوسری امدادی رقوم کی خاطر اپنے مقصد اور حقوق کا سودا نہیں کریں گے۔رپورٹ کے مطابق سابق فلسطینی رکن اسمبلی و وزیر نے یہ بیان حال ہی میں فرانس میں ہونے والے ’گریٹ سیون‘ (جی سیون) کے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فلسطین کے حوالے سے دیے گئے متنازع بیان کے بعد دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جی 7 اجلاس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کی جانب سے فلسطین کی بند کی گئی مالی امداد سے فلسطینی پریشان ہیں اور وہ امداد کی بحالی کے لیے ان کی بات ماننے کے لیے راضی ہوگئے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینیوں کی جانب سے مالی امداد کی بحالی کو ’صدی کی سب سے بڑی ڈیل‘ قرار دیا تھا۔

امریکی صدر نے فلسطینیوں کی جانب سے مالی امداد کی بحالی کو سودے کا نام دیا اور کہا کہ وہ امریکی ڈالرز چاہتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے متنازع بیان پر جہاں دیگر فلسطینی رہنماؤں اور عوام نے برہمی کا اظہار کیا، وہیں فلسطینی کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی حنان عشراوی نے بھی امریکی صدر کو کرارا جواب دیا۔

حنان عشراوی نے ڈونلڈ ٹرمپ اور عالمی برادری پر واضح کیا کہ فلسطینی عوام کبھی بھی مالی امداد کے بدلے اپنی زمین، اپنے حقوق اور اپنے عظیم مقاصد کا سودا نہیں کریں گے۔حنان عشراوی امریکا کی جانب سے دی جانے والی مالی امداد کو پہلے بھی ’فلسطینوں کو بلیک میل‘ کرنے کا حربہ قرار دی چکی ہیں اور یہ واضح کر چکی ہیں کہ فلسطینی پیسوں کے عوض اپنی زمین اور حقوق فروخت نہیں کریں گے۔

خیال رہے کہ امریکا نے 2018 کے آغاز میں ہی فلسطین پر زور دیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرے، بصورت دیگر اس کی مالی امداد میں کٹوتی کی جائے گی۔فلسطین کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات سے انکار کے بعد امریکا نے فلسطین کی مالی امداد میں بہتر بڑی کٹوتی کردی تھی۔ابتدائی طور پر امریکا نے لسطینیوں کے لیے یونائیٹڈ نیشنز ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کو فراہم کیے جانے والے سالانہ36 کروڑ ڈالر میں 80 فیصد کٹوتی کر کے صرف 6 کروڑ ڈالر تک محدود کردی تھی۔

بعد ازاں امریکا نے اگست 2018 میں فلسطین کو دی جانے والی اقتصادی امداد میں 20 کروڑ ڈالر کی کٹوتی کردی تھی۔امریکا کی جانب سے فلسطین کی مالی امداد میں کٹوتیوں کو فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن نے امریکا کا ’اوچھا‘ سیاسی ہتھیار قرار دیا تھا۔پی ایل او نے امداد میں کٹوتی کے بعد کہا تھا کہ اس طرح فلسطینی عوام کو خوفزدہ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ہم اس سے جبرکے آگے شکست تسلیم کریں گے۔

امریکا کی جانب سے فلسطین کی امداد کی کٹوتی کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب امریکا نے 2017 میں ’بیت المقدس‘ کو اسرائیل کا درالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔امریکا کے ایسے اقدام کے بعد فلسطین اور امریکا کے تعلقات انتہائی خراب ہوگئے تھے اور فلسطین نے ستمبر 2018 میں امریکا میں اپنے سفارتی مشن بند کردیے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …