پیر , 12 اپریل 2021

امریکہ نے پانچ ایرانی شہریوں اور پانچ کمپنیوں پر پابندی لگادی

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی حکومت نے ایران کے خلاف ظالمانہ پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایران کے میزائلی پروگرام سے رابطے کے بہانے پانچ ایرانی شہریوں اور پانچ کمپنیوں پر پابندی لگادی ہے۔امریکی وزارت خزانہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے میزائلی پروگرام سے تعلق رکھنے والے دو نیٹ ورک پر پابندی عائد کردی ہے۔ امریکی وزارت خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندیاں ایران کے پانچ شہریوں اور پانچ کمپنیوں پر عائد کی گئی ہیں۔ امریکی وزارت خزانہ کے بیان میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ ان دونوں نیٹ ورک میں سے ایک ہانگ کانگ میں موجود ایک جعلی کمپنی بھی شامل ہے جو پابندیوں کو بائی پاس کرکے ایران کے میزائلی پروگرام کے معاملات میں آسانیاں پیدا کرنے کی غرض سے کام کر رہی ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دوسرا نیٹ ورک المونیم بھرت کی خریداری میں سرگرم ہے جو ایران کی وزارت دفاع کی کمپنیوں کی نیابت میں کام کرتا ہے۔ اس درمیان امریکی وزیرخارجہ نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ ایران پر اس وقت تک دباؤ ڈالا جاتا رہے گا جب تک بقول ان کے وہ اپنا رویّہ تبدیل نہیں کردیتا۔

دوسری جانب امریکی وزیر جنگ نے اس بات کی تکرار کرتے ہوئے کہ ان کا ملک ایران سے جنگ نہیں کرنا چاہتا دعوی کیا کہ واشنگٹن سفارتی طریقے سے تہران کے ساتھ پیش آنا چاہتا ہے۔ امریکی وزیر جنگ مارک ایسپر نے مسلح افواج کے کمانڈر جوزف ڈنفورٹ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بحران کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ واچ ڈاگ یا نگرانی کا عمل کامیاب رہا ہے لیکن ابھی ہم مطمئن نہیں ہوئے ہیں کہ بحران پر قابو پالیا گیا ہے۔

امریکی وزیر جنگ نے دعوی کیا کہ جیسا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی کہا ہے، ہم ایرانی حکام سے ملاقات کے خواہاں ہیں تاکہ مسائل کو سفارتی طریقے سے حل کریں۔ انہوں نے امریکا کے بحری اتحاد کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایران پر الزام عائد کیا کہ اس کا رویّہ صحیح نہیں ہے اور امید ہے کہ اس بحری اتحاد میں ملکوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ بحری جہازوں کی سیکورٹی کے بہانے خلیج فارس میں بحری فوجی اتحاد کی تشکیل کے لئے امریکی کوشش ناکام ہوچکی ہے اور برطانیہ و صیہونی حکومت کو چھوڑ کر امریکا کا کوئی بھی اتحادی ملک اس اتحاد میں شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران پر زیادہ سے زیاد دباؤ ڈالنے کی مہم چلا رکھی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ اعلان کیا ہے کہ اس کا دفاعی پروگرام علاقے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے ہے اور یہ کہ یہ دفاعی پروگرام بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے جس کو آئندہ بھی پوری قوت کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …