جمعہ , 23 اپریل 2021

اشتباہ امت

(تحریر: سید اسد عباس)

گذشتہ دنوں بھارت کے وزیراعظم مودی نے عرب امارات اور بحرین کا دورہ کیا، یہ ان کا شاید پہلے سے فیصلہ شدہ دورہ ہوگا، تاہم اس دورے کی مسلمانان پاکستان کی نظر میں اہمیت اس وقت دو چند ہوگئی، جب مودی سرکار نے کشمیر کے حوالے سے اپنے ہی آئین میں موجود آرٹیکل 370 اور اس کی ذیلی شق 35 اے کو ختم کر دیا۔ پاکستان کے مسلمان توقع کر رہے تھے کہ عرب امارات اور بحرین کے مسلمان حکمران مودی سے اس دورے کے دوران میں کشمیر کے مسئلے پر بھی بات کریں گے، تاہم اس کے بجائے کچھ الگ ہی منظر ہماری نظروں سے گذرا۔ عرب امارات میں مودی جسے پاکستان میں گجرات کا قصاب کے عنوان سے جانا جاتا ہے اور جو بابری مسجد کو مسمار کرنے والی پارٹی کا سربراہ ہے، کو عرب امارات کا سب سے بڑا اعزاز "آرڈر آف زید” پیش کیا گیا، مودی کو 2016ء میں سعودی حکومت کی جانب سے "آرڈر آف کنگ عبدالعزیز” دیا گیا تھا۔ مودی نے اس دورے کے دوران میں بحرین میں 4.2 ملین ڈالر کی لاگت سے مانامہ میں شری ناتھ جی مندر کا افتتاح بھی کیا۔ جزیرۃ العرب میں یہ تیسرا مندر ہے، اس سے قبل دبئی اور ابوظہبی میں بھی بھارت سرکار دو بڑے مندر تعمیر کرچکی ہے، جس کے لیے امارت اور بحرین سرکار نے ہندوستانی حکومت کو زمین دی۔

13 اگست 2019ء کو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں سلامتی کونسل میں کشمیر کا مسئلہ زیر بحث لائے جانے کے حوالے سے کہا تھا کہ پاکستانیوں اور کشمیروں کو کسی خام خیالی میں نہیں رہنا چاہیئے۔ وہاں آپ کے لیے کوئی ہار لے کر نہیں کھڑا۔ وہاں آپ کا کوئی منتظر نہیں ہے۔۔ آپ کو ایک نئی جدوجہد کا آغاز کرنا پڑے گا اور ماحول سازگار نہیں ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دنیا میں لوگوں کے مفادات ہیں۔ (انڈیا) ایک ارب کی مارکیٹ ہے۔ اس خطے میں آپ نے نئی ری الائنمنٹ دیکھی ہے۔ بہت سے لوگوں نے وہاں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ویسے تو ہم امہ اور اسلام کی بات کرتے ہیں، مگر امہ کے محافظوں نے ہندوستان میں بہت سی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، ان کے وہاں مفادات ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے امہ کے حوالے سے یہ بیان اس وقت دیا جب 12 اگست کو سعودی آئل کمپنی آرامکو نے انڈین کمپنی ریلائنس کے 20 فیصد شیئرز خریدنے کا اعلان کیا۔

جب عرب امارات کی جانب سے اس حساس موقع پر مودی کا استقبال اور اسے اعزاز سے نوازا جانا سامنے آیا تو شاہ صاحب نے ایک مرتبہ اپنی بات کو ایک الگ انداز سے دہرایا کہ متحدہ عرب امارات یا کسی بھی ملک کو اپنی مرضی سے کسی بھی ملک کے ساتھ باہمی تعلقات قائم کرنے کا حق حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات مذہبی جذبات سے بالاتر ہوتے ہیں۔ قریشی صاحب کی یہ صدق لسانی بہت سے لوگوں کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہیں ہوئی، بعض کا کہنا ہے کہ قریشی صاحب کو عرب امارات کے بجائے پاکستان کے وزیر خارجہ کا کردار ادا کرنا چاہیئے، تاہم میں سمجھتا ہوں کہ دنیا بھر کے مسلمان قائدین سے بات کرنے کے بعد قریشی صاحب کا یہ بیان چشم کشا بھی ہے اور سچائی پر مبنی بھی۔ سوائے چند ایک مسلم ممالک کے کسی بھی ملک نے پاکستان کے موقف کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی ہے۔ بعض لوگ امہ کے بخار میں اپنی تپش کو کم کرنے کے لیے نئی سے نئی توجیہیں بھی گھڑ رہے ہیں، جن میں سے ایک توجیہ یہ ہے امہ وہ مسلمان ہیں، جو ایک دوسرے کا درد رکھتے ہیں۔ مگر اس درد کا کیا کیا جائے کہ درد رکھنے والے یہ مسلمان اپنے دردوں کا مداوا کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ درحقیقت وہی موثر ہیں، جن کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ ان کو درد امت نہیں بلکہ درد شکم ستا رہا ہے۔

وسعت اللہ خان نے گذشتہ روز اپنے کالم میں اس موضوع کے حوالے سے کیا خوب لکھا کہ: جس طرح ایک کنبے میں کماؤ پوت کی سب عزت کرتے ہیں، اسی طرح عالمی کنبے میں بھی عزت کا یہی معیار ہے۔ اگر مذہبی و ثقافتی رشتے میں اتنی جان ہوتی کہ وہ مادی مفادات پر غالب آسکتا تو پھر تو کسی مسلمان کو کسی مسلمان سے لڑنا ہی نہیں چاہیئے۔ جو کلیہ آپ اپنے خاندان اور پڑوس پر لاگو نہ کر پائیں، وہ کلیہ بین الاقوامی تعلقات پر کیسے لاگو کرسکتے ہیں۔ یہ بات پاکستانیوں کی سمجھ سے بالاتر ہے، ہم کو تو ابتداء سے یہی درس دیا جاتا ہے کہ مسلمان جسد واحد کی مانند ہیں، جسم کے ایک حصے کی تکلیف پورے جسم میں محسوس کی جاتی ہے، ہاں یہ الگ بات ہے کہ ہم پاکستانیوں کے لیے امہ اور مسلمان کی تعریف اپنی اپنی ہے۔ ہماری نظر میں جو امہ نہیں ہے، چاہے کلمہ گو ہی کیوں نہ ہو، اس کی تکلیف ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی، اسی لیے تو ہم یمن، شام، بحرین، نائجیریا، قطیف، الاحساء، افغانستان اور برما کے مسلمانوں کے حوالے سے تقسیم کا شکار ہیں۔ جن کو یمن والوں کا درد ہوتا ہے، وہ مصر والوں کے درد سے نا آگاہ ہیں، جن کو شام اور مصر کا درد ستاتا ہے، ان کو یمن، بحرین اور قطیف کا کوئی درد نہیں ہے۔ بس فہم کے اپنے اپنے درجات ہیں۔

گرہیں ہی گرہیں ہیں، کہیں مسلک کی گرہ، کہیں مکتب کی گرہ، کہیں وطن گرہ ہے اور کہیں سلطنت۔ گرہوں میں جکڑا ایک نظریاتی گروہ ہے، جو اس جال میں پھنسا ہوا ہے اور اسی جال میں ہاتھ پاوں چلاتے چلاتے ختم ہو رہا ہے۔ وسعت اللہ خان کی یہ بات بھی درست ہے کہ اگر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات یا دیگر خلیجی ممالک انڈیا کے ساتھ اقتصادی و سٹرٹیجک پارٹنر شپ بڑھا رہے ہیں اور مسئلہ کشمیر کو پاکستان کی عینک سے نہیں دیکھ پا رہے تو اس پر جذباتی نہیں ہونا چاہیئے۔ یہ خارجہ پالیسی کو کسی ایک پلڑے میں نہ رکھنے کی قیمت ہے اور تیزی سے بدلتے علاقائی اتحادی نقشے کے اعتبار سے یہ پالیسی فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ ہمیں اب اپنے آپ کو ایک پلڑے میں گرانے کی پالیسی کو ترک کرتے ہوئے ملکی مفادات کے لیے کام کرنا ہوگا۔

ہمارا ملک گذشتہ بہتر برسوں میں ایک لے پالک یا طفیلی ریاست کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، امریکا ثالثی کرا دے گا، چین سنبھال لے گا، ایران، عرب امارات یا سعودی عرب مدد کر دے گا۔ اس فکر کو اب بدلنا ہوگا۔ لمحوں کی غلطیوں کا خمیازہ نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ محاورہ بالکل بھی غلط نہیں ہے، ہم نے گذشتہ بہتر برسوں میں جو بویا ہے، وہی کچھ ہم کاٹ رہے ہیں۔ تاہم ناامید نہیں ہونا چاہیئے اور اپنے زور بازو پر انحصار کرتے ہوئے ہمیں آگے بڑھنا چاہیئے، ہمیں اس دنیا میں کماؤ پوت بننا ہے، تاکہ ہم وہ سب حاصل کرسکیں، جس کا ہم فقط خواب دیکھتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہمارا جسد واحد کا تصور اصولی طور پر غلط نہیں ہے، تاہم ہمیں اس مفہوم کو سمجھنے اور اس کے مظاہر کا تعین کرنے میں جو اشتباہ ہوا ہے، اس پر ہمیں نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس بات پر بھی نظرثانی کرنا ہے کہ ہمیں کس مقام پر کونسا اقدام کرنا ہے۔ ہر موقع تلوار اٹھانے کا نہیں ہونا اور نہ ہی ہر موقع پر فقط ظلم کو دل میں برا جاننا ہی مسائل کا حل ہے۔ عزت بہرحال اصولوں اور اصولی موقف کو ہی حاصل ہے، بے اصولی کے ساتھ عزت پانا کوئی عزت و سربلندی نہیں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …