پیر , 12 اپریل 2021

فلسطینی طلباء کا مستتقبل تاریک کرنے کا مکروہ حربہ

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں رہنے والے فلسطینی طلباء کو دہری مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک طرف قابض صہیونی فوج نے ان کا جینا حرام کررکھا ہے اور دوسری طرف فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی اداروں نے ان پرعرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے۔ کھبی فلسطینی اتھارٹی اور کھبی اسرائیلی فوج انہیں حراست میں لے لیتی۔ اس طرح ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل دونوں فلسطینی بچوں اور طلباء کا مستقبل تباہ کرنے پرتلے ہوئے ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سب سے زیادہ انتقامی کارروائی کا نشانہ بننے والوں میں طلباء کی مقبول تنظیم اسلامک بلاک کے منسلک افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

طلباء کو فلسطینی اتھارٹی اور قابض صہیونی فوج باری باری حراست میں لینے کی مجرمانہ پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ یوں فلسطینی طلباء اسرائیلی زندانوں سے نکلتے ہیں تو انہیں فلسطینی اتھارٹی کے قید خانوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ یہ مکروہ حربہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور اس کے ذریعے فلسطینی طلباء کے مستقبل کو تاریک کرنے کی گھنائونی سازش کی جاتی ہے۔

حال ہی میں قابض اسرائیلی فوج نے جامعہ بیرزیت کے طلباء کے ایک گروپ کو حراست میں لیا۔ حراست میں لیے جانے والوں میں یونیورسٹی کا ایک ملازم بھی شامل ہے۔ حراست میں لیے گئے طلباء کی شناخت احمد خروف، ربحی کراجہ، شادی البرغوثی، مروان البرغوثی، اصرار معروف اور یونیورسٹی ملازم ربحی ابو صفا کے ناموں سے کی گئی ہے۔

ربحی کے اہل خانہ نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو فلسطینی اتھارٹی کی پولیس بھی متعدد بار حراست میں لے چکی ہے۔ اسرائیلی حکام اور فلسطینی اتھارٹی نے طلباء کی گرفتاریوں اور انہیں پابند سلاسل رکھنے کی باریاں مقرر کر رکھی ہیں۔

اسیر طالب باسل فلیان کے اہل خانہ نے کہا کہ ان کے بیٹے کو فلسطینی اتھارٹی کی قید میں ڈالا گیا ہے مگر انہیں ڈر ہے کہ رام اللہ اتھارٹی کی قید سے رہائی کے فوری بعد قابض صہیونی فوج اسے حراست میں لے لے گی۔ اس طرح اس کی تعلیم اور مستقبل کوتاریک کرنے میں رام اللہ اتھارٹی اور اسرائیل دونوں پیش پیش ہیں۔

کارکنوں کی گرفتاریاں
فلسطین میں انسانی حقوق کی صورت حال پرکام کرنے والے ادارے ‘وکلائے برائے انصاف’ گروپ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ باسل فلیان ایک طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی کارکن اور طلباء لیڈر بھی ہے۔ وہ پرامن سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش ہے۔ چونکہ اس کی سرگرمیوں کا مرکز اسلامک بلاک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی فوج دونوں کے انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

وکلاء گروپ کا کہنا باسل فلیان کی گرفتاری فلسطینی اتھارٹی کا آزادی اظہار رائے کا جرم ہے۔ اسے بار بار گرفتار کرنا اور حراست میں رکھنا، تعلیم جاری رکھنے اور اسے امتحانات سے محروم کرنا دانستہ جرم ہے۔انسانی حقوق گروپ نے باسل فلیان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے طلباء کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …