ہفتہ , 17 اپریل 2021

سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ۔ شہید بیٹوں کی شہید ماں

(سیدہ سائرہ بانو)

کربلا میں سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی دراصل ان کے خانوادے کی طرف سے دی جانے والی قربانیوں کا تسلسل ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرتِ طیبہ ایثار و قربانی سے عبارت ہے۔ اپنی ضرورت پر دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دینا, خدا کی راہ میں اپنی عزیز ترین چیزوں کو وقف کرنا اور اپنی حق تلفی پر صبر کرنا, یہی اہلِ بیت علیہم السلام کی روش تھی۔

چونکہ بچے کی تربیت میں ماں کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے اس لئے یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ کربلا کے میدان اور شام کے دربار میں حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی حق گوئی کا کریڈٹ ان کی عظیم ماں کو جاتا ہے جنہوں نے خود بھی جرات مندی کے ساتھ خلیفہ وقت سے حقِ وراثت کا مطالبہ کیا تھا۔ ان عظیم ترین ہستیوں کا طرزِ زندگی منفرد تھا۔ بظاہر اہلِ بیت علیہم السلام دوسرے انسانوں کی طرح چلتے پھرتے ، کھاتے پیتے اور زندگی بسر کرتے تھے لیکن ان کی سرشت فرشتوں سے بھی افضل تھی۔ ایسی سرشت جو خدا سے پیوستہ تھی ۔ یہ ایسے انسان تھے جو دوسروں کے دکھ اور تکلیف کا مداوا کرنے کی کوشش کرتے۔ خود تکلیف اٹھاتے تاکہ دوسروں کو آرام ملے۔ایسے افراد اطبائے الہی اور ذات حق کے شا گرد ہیں اور اس شعر کے کامل مصداق ہیں :

کل یرید رجالہ لحیاتہ یا من یرید حیاتہ لرجالہ

وہ روح کی عظمت اور برتری سمجھتے ہیں نہ کہ جسم پالنے اور جسمانی ضرورت کو پورا کرنے میں۔ اگر وہ جسم کے ساتھ زندہ اور موجود ہیں تو اسلیے تاکہ دوسروں کو اچھی زندگی کا درس دیں۔ سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ایسے ہی مدرسے کی تعلیم یافتہ تھیں۔ معنوی لحاظ سے وہ عظیم ترین عالم (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دیئے ہوئے علم و اخلاق کے زیور سے آراستہ تھیں ۔ آپ سلام اللہ علیہا نے جس شخص کے نام کی چادر اوڑھ رکھی تھی, تمام عمر اس سے کوئی فرمائش نہیں کی اور ہمیشہ خدمت کرنے کے بعد بھی وقت آخر معذرت طلب کی کہ اگر مجھ سے کوئی کوتاہی ہوگئی ہو تو معا ف فرما دیجئے۔

چونکہ آپ شہید بیٹوں کی شہید ماں ہیں اس لئے آپ کی شہادت شہدائے کربلا کی شہادتوں سے متصل ہے۔ آپ کی شہادت کے حوالے سے کتاب بیت الاحزان میں قُنفذ نامی شخص کا ذکر ہوا ہے جس میں ایک روایت کے مطابق یہ وہ شخص تھا جس نے بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو تازیانہ مارا تھا۔ اس واقعہ کے ذیل میں درج ہے کہ جب روزِ قیامت حضرت محسن شہید علیہ السلام کا مقدمہ کھلے گا تو قُنفذ کو سزا کے طور پر دہکتا ہوا تازیانہ مارا جائے گا, جس کی گرمی اتنی شدید ہوگی کہ پہاڑ پر پڑے تو اس پہاڑ سمیت دنیا کے تمام پہاڑ جل کر خاکستر ہو جائیں اور سمندر میں اسے ڈال دیا جائے تو مشرق سے لے کر مغرب تک تمام سمندروں کا پانی کھول اٹھے۔ کتاب میں روایات کی روشنی میں شہادت کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

قُنفذ ہو, ابن ملجم ہو یا پھر شمر, یا وہ لوگ جنہوں نے ان کی پشت پناہی کی, نے ایمان کی کمزوری اور دنیاوی ہوس کی وجہ سے اہلِ بیت علیہم السلام کے مرتبہ کو نہ پہچانا اور ان کی حق تلفی کی۔ ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور ان کو بیدردی سے قتل کیا۔ ان شقی ترین انسانوں کا ذکر عبرت کے نمونہ کے طور پر کرنا ضروری ہے۔ انہی شخصیات کے مقابل فاطمہ, علی اور حسین علیہم السلام جیسی جری ہستیاں ہیں جنہوں نے عزت کی موت قبول کی اور حق کا بول بالا کیا۔ یہ ہستیاں ہمارے لئے قابلِ تقلید نمونہ ہیں۔ ہم ان کی روش کو اپناتے ہوئے ہر دور کے یزید کو بےنقاب کرتے رہیں گے۔ انشاءاللہ۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …