پیر , 12 اپریل 2021

برطانیہ میں جمہوریت اور سلطنت آمنے سامنے

(تحریر: سید نعمت اللہ)

مئی 2017ء میں برطانیہ کے ساحلی شہر ڈاور (Dover) کی ایک دیوار پر ایک پینٹنگ کا مشاہدہ کیا گیا جس میں ایک مزدور یورپی یونین کے پرچم سے ایک ستارہ ختم کر رہا تھا۔ یہ پینٹنگ بریکسٹ کے بارے میں منعقد ہونے والے ریفرنڈم سے پہلے بنائی گئی تھی۔ اسی وجہ سے یہ پینٹنگ یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کی علامت بن گئی۔ اسی طرح یہ پینٹنگ اس قدر مشہور ہوئی کہ وہ شہر دنیا کے معروف سیاحتی مقامات میں تبدیل ہو گیا۔ لیکن یہ پینٹنگ ایک ہفتہ پہلے اچانک ہی غائب ہو گئی ہے۔ کوئی اس کے غائب ہونے کے اسباب سے مطلع نہیں ہے اور یہ امر ایک پیچیدہ معمہ بن گیا ہے۔ البتہ یہ معمہ اس معمے سے ملتا جلتا ہے جو بریکسٹ کے بارے میں ریفرنڈم منعقد ہوتے وقت پورے ملک پر چھایا ہوا تھا۔ بریکسٹ کا مسئلہ نہ صرف برطانیہ کی دو حکومتوں کی سرنگونی کا باعث بنا بلکہ موجودہ وزیراعظم بوریس جانسن کے برسراقتدار آنے کے بعد اس کی پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ بوریس جانسن نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالتے ہی اس نکتے پر زور دیا تھا کہ وہ ہر قیمت پر یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کر کے رہیں گے۔

یاد رہے یورپی یونین نے برطانیہ کو اس اتحاد سے نکلنے کیلئے 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن دی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اب تک برطانیہ اور یورپی یونین میں اس علیحدگی کے بارے میں کوئی متفقہ لائحہ عمل طے نہیں ہو پایا۔ برطانوی پارلیمنٹ نے بغیر متفقہ لائحہ عمل طے کئے یورپی یونین سے علیحدگی کی شدید مخالفت کی ہے جبکہ موجودہ وزیراعظم بوریس جانسن نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ چاہے یورپی یونین کے ساتھ اس بارے میں کوئی معاہدہ طے پاتا ہے یا نہیں وہ 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے ضرور علیحدگی اختیار کر لیں گے۔ سابق برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے یورپی یونین سے بریکسٹ سے متعلق ایک معاہدہ طے کیا تھا لیکن برطانوی پارلیمنٹ میں تین بار پیش کرنے کے باوجود اراکین پارلیمنٹ نے اسے مسترد کر دیا تھا جس کے بعد تھریسا مے استعفی دینے پر مجبور ہو گئی تھیں۔ جب بوریس جانسن نے اعلان کیا کہ وہ ہر حال میں یورپی یونین سے علیحدہ ہو کر رہیں گے تو سب کے ذہن میں یہ سوال تھا کہ وہ یہ اقدام کیسے اٹھائیں گے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ واضح ہوتا گیا کہ وہ یورپی یونین سے کوئی معاہدہ کئے بغیر اس اتحاد سے علیحدگی اختیار کرنے کے درپے ہیں۔

درحقیقت سابق وزیراعظم تھریسا مے کے خلاف مہم کا آغاز کرنے والے جیرمی کاربن تھے۔ وہ سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کے سربراہ تھے۔ جب انہوں نے یورپی یونین سے معاہدہ کئے بغیر اس اتحاد سے علیحدہ ہونے کے خلاف مہم کا آغاز کیا تو بوریس جانسن بھی ان کے ساتھ مل گئے۔ اب جبکہ بوریس جانسن خود وزیراعظم بن چکے ہیں تو وہ بھی اسی راستے پر چل پڑے ہیں جس کی مخالفت پارلیمنٹ کے اکثر اراکین کر رہے ہیں۔ البتہ بوریس جانسن نے سابق وزیراعظم تھریسا مے کے برعکس ایک اور کارڈ استعمال کیا ہے جو ملکہ کا کارڈ ہے۔ جانسن نے ملکہ برطانیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی چھٹیوں میں ایک ماہ کا اضافہ کر دیں۔ یوں پارلیمنٹ 31 اکتوبر سے دو ہفتے پہلے تک کوئی اجلاس منعقد نہیں کر سکے گی اور یوں بوریس جانسن مکمل آزادی سے اپنی مرضی کے اقدامات اور فیصلے انجام دیتے رہیں گے۔ برطانیہ کی جدید تاریخ میں یہ ایک نئی قسم کی آمریت ہے۔ عوامی نمائندوں کو ملکہ برطانیہ کی مدد سے پانچ ہفتوں کی جبری چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے اور انہیں اہم ملکی فیصلے سے زبردستی لاتعلق کر دیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد اراکین کے پاس بریکسٹ کو روکنے کیلئے صرف دو ہفتے ہوں گے جو اپنے قانونی فرائض پر عمل پیرا ہونے کیلئے ہر گز کافی نہیں ہیں۔ برطانوی وزیراعظم اور ملکہ کا یہ عمل درحقیقت پارلیمنٹ کے خلاف ایک قسم کی بغاوت قرار دی جا رہی ہے۔ اس وقت برطانیہ جمہوریت اور سلطنت کے درمیان میدان کارزار بن چکا ہے۔ اپوزیشن نے وزیراعظم اور ملکہ کے اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے جبکہ برطانوی عوام بھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ جرمنی کے وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے حال ہی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے کسی معاہدے کے بغیر یورپی یونین سے علیحدگی کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ دوسری طرف ملک کے مختلف حلقوں نے بغیر معاہدے کے یورپی یونین سے علیحدگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اقتصادی مشکلات پر گہری پریشانی کا اظہار کیا ہے۔ بریکسٹ کے نتیجے میں گذشتہ تین ماہ کے دوران ملکی سطح پر اقتصادی فعالیت میں بہت زیادہ کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ماہرین اقتصاد آئندہ تین ماہ میں مزید کمی کا اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …