ہفتہ , 17 اپریل 2021

خلیج فارس کی سیکورٹی کے بارے میں ایران اور روس کا نقطہ نظر ایک دوسرے سے قریب ہے:جواد ظریف

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ تہران کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی بعض شقوں پر عمل درآمد کو معطل کرنے کا تیسرا مرحلہ پروگرام کے مطابق آگے بڑھے گا کہا کہ اگر یورپی ممالک ایٹمی معاہدے کے بارے میں اپنے وعدوں پر عمل نہیں کریں گے تو ایران تیسرا قدم بھی اٹھالے گا

ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے ماسکو میں روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ایران کے سفارتی وفدکے دورہ فرانس میں ایٹمی معاہدے کے یورپی فریقوں کی جانب سے وعدوں پر عمل درآمد کے طریقوں کا جائزہ لئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کے صدر اپنے امریکی ساتھیوں کے ساتھ جو کچھ کررہے ہیں وہ فرانسیسی حکام اور یورپی یونین سے مربوط ہے اور جو چیز ایران کے لئے اہمیت رکھتی ہے وہ ایٹمی معاہدے پر یورپی ملکوں کی جانب سے عمل درآمد ہے –

انہوں نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ خلیج فارس کی سیکورٹی کے بارے میں ایران اور روس کا نقطہ نظر ایک دوسرے سے قریب ہے کہا کہ امریکا خلیج فارس میں اپنی موجودگی کے ذریعے خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے – ایران کے وزیرخارجہ نے شام میں نسبی سیکورٹی کے قیام کے لئے روس اور ترکی کے ساتھ مل کر تہران کی کوششوں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ شام میں امریکا کی موجودگی غیر قانونی ، تخریبی اور شام کے اقتدار اعلی کے منافی ہے انہوں نے کہا کہ شام میں امریکا کی اس غیر قانونی موجودگی سے آگے چل کر شام میں قومی اور مسلکی اختلافات پیدا ہوں گے –

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے بھی اس پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران نے ایٹمی معاہدے سے متعلق اپنے بعض وعدوں پر عمل درآمد کو جو معطل کیا ہے وہ امریکا کے خودسرانہ اقدامات کا نتیجہ ہے ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکام ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد بھی دعوی کررہے ہیں کہ ایران کو چاہئے کہ وہ اس معاہدے پر عمل کرے جبکہ روس اس چیز کو صحیح نہیں سمجھتا –

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …