منگل , 13 اپریل 2021

سفیرِ حسینؑ ۔ حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام

(سیدہ سائرہ بانو)

تاریخِ اسلام میں 9 ذی الحج ایک پیاسے شہید کی مظلومیت بیان کرنے کا دن ہے۔ دیکھا جائے تو پیاس پانی اور مَشک کی مثلث نے واقعہ کربلا کے ہر کردار کا طواف کیا۔ کہا جاتا ہے کہ پانی زندگی ہے اور یہ زندگی ایک آزمائش کی شکل میں کربلا کے ہر شہید کے روبرو کھڑی رہی۔ کوفیوں نےاس حیات بخش نعمت کو خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بند کر دیا اور اس غیر انسانی عمل کا آغاز 9 ذی الحج کو ہوا۔ جناب مسلم بن عقیل علیہ السلام کو پانی سے محروم رکھا گیا اور وہ پیاس کی حالت میں کوفیوں سے لڑتے رہے۔ یعنی کربلا مسلم کی پیاس سے شروع ہو کر علی اصغر کے خشک گلے پر ختم ہوئی اور یوں پانی کا کربلا سے ایسا ربط بنا کہ یہ نعمت اس جنگ کا symbol بن گئی۔

سن 60 ہجری میں امام حسین علیہ السلام کے یزید کی بیعت کو مسترد کرنے اور مکہ آمد کے اقدام کی خبر اہلِ کوفہ تک پہنچ گئی۔ اس کے ردِ عمل میں انہوں نے بڑی تعداد میں آپ کی طرف انفرادی و اجتماعی دستخط شدہ خطوط ارسال کیے جس میں امام حسین علیہ السلام کے اہداف کے حصول میں وفاداری ۔ تعاون اور جان و مال کی قربانی پیش کرنے کا دعوی کیا۔ اس کے جواب میں آپ نے اپنے چچازاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کو خط دے کر کوفہ روانہ کیا تاکہ وہ اصل حالات و واقعات کی تصدیق کریں اور امام حسین علیہ السلام کوفہ کی طرف بڑھیں۔ جناب مسلم بن عقیل سفر کی مشکلات سے دوچار رہے اور بمشکل کوفہ پہنچے۔ اُدھر ماہِ ذی الحج کے ابتدائی ایام میں یزید کے کارندے احرام پہنے امام حسین علیہ السلام کے قتل کے ارادے سے مکہ میں داخل ہوئے۔ خدا کے گھر کے تقدس کو محفوظ رکھنے کی خاطر آپ علیہ السلام نے اعمالِ حج کو عمرہ مفردہ میں تبدیل کیا اور آٹھ ذی الحج کو مکہ سے عراق کی طرف روانگی کا فیصلہ کیا۔ آپ نے جناب مسلم بن عقیل کو ایک خط بھی ارسال کیا۔ لیکن جب آپ عراق کے سفر پر نکلے تو ایک مقام پر آپ علیہ السلام کو اُن کی شہادت کی خبر موصول ہوئی۔ حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کو پیاس کی حالت میں شہید کیا گیا۔

پس جہاں پیاس کی بات ہوتی ہے وہاں حسین ابن علی علیہ السلام اور ان کے خانوادے کو یاد کیا جاتا ہے۔ اور اسی طرح جب پانی کا ذکر ہو تو وہاں اسی خانوادے کی مَشکوں کی بات ہوتی ہے جن کے منہ مخالفین کے جانوروں پر بھی بند نہیں کیے گئے۔ پیاسوں کو سیراب کرنا تو سنتِ بنی ہاشم تھی اور کمال کی بات ہے کہ یہ سنت جنت میں بھی اسی قبیلہ سے مخصوص رہے گی۔

انسانیت کے مدِمقابل حیوانیت ہے اور اس حیوانیت کی بدترین شکل کسی کو پانی سے محروم کر دینا ہے۔ اگر سڑک کے کنارے کوئی زخمی یا پیاسا کسی سے پانی مانگے تو اس سے اس کا عقیدہ پوچھ کر پانی نہیں دیا جاتا۔ پانی دینا تو عین انسانیت ہے اور انسانیت کو ہر مذہب کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔ تو اب جو کوئی کسی کو پانی سے محروم رکھے گا گویا وہ انسانیت کے مقابلے پر کھڑا ہے۔ وہ انسان ہوتے ہوئے بھی انسان نہیں اور حیوانیت کا پیروکار ہے۔ یہ خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیاس ہی تھی جس نے انسانیت کو بیدار کیے رکھا اور اس خانوادے کے نام سے پانی کی سبیلیں جاری کی گئیں۔ میرے خیال میں تو پانی کی سبیلوں کا آغاز 9 ذی الحج سے ہی ہو جانا چاہیے۔ مسلم کی پیاس کا ہم پر اتنا تو حق بنتا ہے کہ ہم اس کے صدقے میں پیاسوں کو سیراب کریں اور سنتِ بنی ہاشم کو جاری رکھیں۔ حوضِ کوثر کے ہر وارث کو سلام کہ جس کی تشنگی نے ہمیں انسانیت کا درس دیا اور سنتِ بنی ہاشم کو جاری رکھنے کی توفیق عطا کی۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …