منگل , 13 اپریل 2021

طفلانِ مسلم بن عقیل (ع) – محمد و ابراہیم

(سیدہ سائرہ بانو)

یہ جو کہا جاتا ہے "ہے ہماری درسگاہ کربلا کربلا’ , محض شعر کا مصرعہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ واقعہ کربلا کا ہر مجاہد خواہ بوڑھا ہو یا جوان, مرد ہو یا زن, یا پھر کوئی بچہ۔ سب ہی مثالی نمونہ ہیں۔ روزِ عاشور امام حسین علیہ السلام کی سپاہ میں کم سن بچے بھی قربانی دینے کے لئے پیش پیش رہے۔ خاندانِ بنی ہاشم کے دو بچے ایسے بھی تھے جنہوں نے واقعہ کربلا کے بعد جامِ شہادت نوش کیا۔ یہ دو بچے جن کا نام محمد اور ابراہیم تھا, حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کے فرزند تھے۔ ان کی عمر اندازا دس سے بارہ برس تھی۔ یہ بچے امام حسین علیہ السلام کی لشکر گاہ سے قید ہوئے اور ان کو کوفہ میں عبیداللہ ابن زیاد کے پاس لے جایا گیا۔ عبیداللہ ابن زیاد نے ان کو قید کردیا, اس کے حکم پر قید خانے میں ان بچوں پر سختی کی گئی۔ انہیں کھانے میں پانی اور سوکھی روٹی کے علاوہ کچھ نہ دیا جاتا تھا۔ تقریبا ایک سال گزر گیا اور ان بچوں کی حالت خراب تر ہوتی چلی گئی۔

آخرکار ان بچوں نے زندان بان سے اچھے کھانے کے مطالبے کا فیصلہ کیا اور اس سے اپنا تعارف کرایا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان سے تھے۔ زندان بان ان کا شجرہ نسب سن کر بہت شرمندہ ہوا اور ان کو قیدخانے سے باہر نکلنے میں مدد دی۔ یہ بچے چھپتے چھپاتے ایک بوڑھی عورت کے گھر پہنچے جو رحمدل تو تھی لیکن یہ جان کر کہ وہ دونوں حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کی اولاد ہیں, خوفزدہ ہوگئی۔ اس نے محمد و ابراہیم کو اپنے داماد کے بارے میں بتایا جو عبیداللہ ابن زیاد سے انعام ملنے کی لالچ میں ان دونوں کی بو سونگھتا پھر رہا تھا۔ بچوں کی منت و سماجت پر بوڑھی عورت نے ان کو اپنے گھر رات بسر کرنے کی اجازت دے دی لیکن وہی ہوا جس کا اسے خوف تھا۔ اس کا داماد اسی رات گھر آ پہنچا اور اس نے ان بچوں کو سوئی ہوئی حالت میں پکڑ لیا۔ اس شقی القلب انسان نے اپنے غلام اور بیٹے کو دونوں بچوں کا سر قلم کرنے کا حکم دیا لیکن دونوں نے بچوں کا نسب جان کر ان کو قتل کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ اس شخص نے نہر فرات کے کنارے لے جاکر دونوں بچوں کے سر خود ہی قلم کر کے عبیداللہ ابن زیاد کو پیش کر دیے۔ محمد و ابراہیم کا روضہ کربلا سے باہر مسیب نامی شہر میں ہے۔

گو کہ محمد و ابراہیم بہت کم سن تھے لیکن ان کی روش میں محمد و آلِ محمد (ص) کی عظمت جھلکتی تھی۔ زندان میں یہ دونوں برادران اکثر و بیشتر روضے رکھا کرتے تھے۔ ہمیشہ حق گوئی سے کام لیا اور کوفہ میں پیش آنے والی مشکلات کا حل خدا کے ذکر میں تلاش کیا۔ شہادت سے قبل بھی دونوں برادران نے نوافل ادا کیے۔ ہمارا سلام ہو ان عظیم بچوں پر کہ جنہوں نے نامِ حسین علیہ السلام پر جان قربان کر دی۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …