منگل , 21 جنوری 2020

سانس پر ٹیکس لگنے کا انتظار فرمائیے

مشتاق احمد شباب
صورتحال یہی رہی تو تیار رہیئے،انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب سانسوں کی تفصیل بھی دینی پڑے گی یعنی ٹیکس گوشواروں میں آتی جاتی سانسوں کا حساب بھی دینا پڑے گا،

لے سانس بھی آہستہ کے نازک ہیں بہت کام
آفاق کی اس کارگہہ شیشہ گری کا

ایف بی آر کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ٹیکس گزار ٹیکس گوشواروں میں اخراجات کی تمام تفصیلات مہیا کریں اور گوشواروں میں پانی کے اخراجات کی تفصیل واٹر کوڈ کے کالم میں درج کریں،اس خبر کو پڑھ کر ہی ہمیں یہ خوف لاحق ہوگیا ہے کہ کل کلاں سانسوں کی تفصیل بھی مانگی جاسکتی ہے،عین ممکن ہے کہ آپ یہ کہہ کر دل پشوری کرلیں کے عام آدمی کا ٹیکس ادائیگی سے کوئی تعلق ہی نہیں تو بھلا وہ پانی کے اخراجات کی تفصیل کیوں فراہم کرے گا،آپ کی سوچ کسی حد تک تو درست ہوسکتی ہے مگر ذرا غور کریں تو آپ پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ جن سے گوشواروں میں پانی خرچ کرنے کی تفصیلات مانگی گئی ہیں ان ہی میں سے تو ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں اربوں کے قرضے معاف کردیئے جاتے ہیں جیسا کہ آجکل ایک اطلاع وائرل ہوچکی ہے کہ بعض منظور نظر افراد کے اداروں کے ذمے اربوں کے قرضے راتوں رات ہی معاف کردیئے گئے ہیں،اب خداجانے اس اطلاع میں کہاں تک صداقت ہے،البتہ اسی حوالے سے ایک پرانی ویڈیو بھی بار بار فیس بک ،ٹویٹر پر نظر سے گزر رہی ہے جس میں ایک سیاسی جماعت کے سربراہ سابقہ ادوار میں اسی قسم کے اقدامات پر شدید تنقیدکرتے ہوئے یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ یہ تمہارے باپ کا پیسہ تھا جوتم نے اس طرح معاف کر کے عوام کو یہ سارا بوجھ اٹھانے پر مجبور کردیا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔

بات سانسوں پر ٹیکس لگانے کی ہورہی تھی اور بیچ میں ایک یوٹرن پر ہم پہنچ گئے۔ہاں تو وہ پانی کے اخراجات کی تفصیل مانگنے پر ہم عوام کے خوش ہونے یا بے پرواہ ہونے کے حوالے سے گزارش کرنا چاہتے تھے۔اور وہ یوں کے یہ جو عوام ہیں تو انہیں زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ جن لوگوں کو ٹیکس گزار قرار دے کر ان سے پانی کے اخراجات کی تفصیل بھی ٹیکس گوشواروں میں درج کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے ان سے زیادہ ٹیکس تو ہم عوام دیتے ہیں،ہر قدم پر نت نئے ٹیکس ہمارا استقبال کرتے رہتے ہیں،ایسے ٹیکس جنہیں ان ڈائریکٹ ٹیکس کہا جاتا ہے اور یہ ہم سے اس لیئے وصول کئے جاتے ہیں کہ جنہیں ٹیکس دینے چاہئیں وہ اپنے حصے کا پورا ٹیکس دینے پر تیار نہیں ہیں، اس مقصد کیلئے انہوں نے ماہرین’’ٹیکس بچائو‘‘ کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں،یہ ماہرین انہیں ایسے ایسے طریقے ٹیکس بچانے کے سکھاتے ہیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جائے،تاہم حکومت نے اب کی باریوں کیا کہ گھر کے ایک بھیدی کو لنکا ڈھانے پر مامور کردیا،اور اسے اپنا مشیر بنا کر اس سے ایسے ایسے نسخے نکلوائے کہ اب ہر جانب ہاہا کار مچی ہوئی ہے،مگر جنہیں ٹیکس بچانے کا چسکا پڑا ہو بھلا وہ اتنی آسانی سے ٹیکس ادا کرنے پر کیسے تیار ہو سکتے ہیں چنانچہ کبھی ملک گیر ہڑتال کی کال دی جاتی ہے اور کبھی کوئی اور نسخہ آزمایا جاتا ہے،جس پر سرکار بھی پریشان ہو کر اپنی شرائط کو ختم کرنے کی بجائے ان کے نفاذ کی مہلت آگے بڑھا کر کام چلا رہی ہے ،اور عوام بے چارے اسی طرح ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی زد میں ہیں یعنی بقول یار طرحدار شجاعت علی راہی

آپ جب دل کی دوا دیتے ہیں
درد دل اور بڑھا دیتے ہیں

اس پر ہمیں وہ پرانی حکایت یاد آگئی کہ کسی ملک کے بادشاہ کو یہ فکر لاحق ہوگئی کہ اس کی رعایا اس سے خوش بھی ہے یا انہیں کوئی شکایت ہے،وزراء اور درباریوں کے سامنے یہ سوال رکھا تو کسی نے یہ نادر نسخہ سامنے رکھا کہ حضور ساری رعایا ہر صبح شہر پناہ سے باہر کام کاج کاروبار وغیرہ کیلئے مرکزی دروازے کے پل سے گزرتی ہے ،ان پر اگر فی پھیرا ایک خاص رقم کا ٹیکس لاگو کردیا جائے معلوم ہوجائے گا۔ اگر انہوں نے احتجاج کیا تو ٹیکس واپس دیکر ان کے مسائل معلوم کرلیئے جائیں اور ان کا حل تلاش کیا جائے ،تجویز منظور کرلی گئی اگلے روز ٹیکس کے نفاذ کی منادی کر دی گئی،بعض لوگوں نے تھوڑی سی بھنبھناہٹ کی مگر پھر خاموش ہوگئے،کچھ دن بعد دوبارہ صلاح مشورے سے ٹیکس ڈبل کردیا گیا ،پھر بھی خاموشی رہی،آخر ٹیکس دینے کے ساتھ ہر شہر ی کو ساتھ میں سر پر ایک جوتی مارنے کا مشورہ بھی دے دیا گیا،چند روز بعد بادشاہ کوایک عرضی گزار ی گئی کہ حضور جوتی مارنے والے سرکاری اہلکاروں کی تعداد بڑھا دیجئے کیونکہ ایک ہی شخص جوتے مارنے پر بہت وقت لے لیتا ہے اور لوگ دیر سے کام پر پہنچ رہے ہیں ان کا حرج ہوتا ہے۔

ایک پتھر بھی جو پڑتا تو زخمی طائر
جھنڈ کے جھنڈ درختوں سے اتر آتے ہیں

ہماری صورتحال بھی کچھ ویسی ہی لگ رہی ہے’’بادشاہ کے دربار‘‘ میں اس کے ایسے حواری تھے جو عوام پر پڑنے والی افتاد پر تعریفوں کے ڈونگر ے برساتے رہتے تھے،اب وہی کام’’بادشاہ سلامت‘‘ کے سوشل میڈیا ایکٹویسٹوں نے سنبھال لیا ہے،عوام کو جوتے پڑیں،یا نت نئے ٹیکس ان کی واہ واہ بالآخر سانس پر بھی ٹیکس لگا کر چھوڑے گی۔وما علینا الابلاغ!بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

سب سے پہلے پاکستان!

محمد اکرم چودہری پاکستان ایک مرتبہ پھر ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں …