جمعرات , 23 جنوری 2020

ہندوتوا بمقابلہ ہندوازم …!

(ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی)

گزشتہ دنوں مجھے ایک نجی ٹی وی پرہندوتوا پر اظہار خیال کیلئے مدعو کیا گیا تو میں نے واضح کردیا کہ ہندو توا کوئی مذہب نہیں، دھرم ہندو مت یا ہندوازم یا سناتن ہے، دنیا کے دیگر مذاہب کی طرح ہندو مت انسانیت کی خدمت اوربھائی چارے کا درس دیتا ہے لیکن اس کے برعکس سوچ رکھنے والا نفرت کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔ میری نظر میں کشمیر کا ایشو جو بنیادی طور پر تکبر و انا کی بھینٹ چڑھ رہا ہے، اسے مذہبی رنگ دیکر مزید پیچیدہ بنایا جارہا ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ یہ روش لوگوں کے دلوں میں نفرت اور کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہے۔مجھےخود پر ناز ہے کہ میں نے اپنی ہندو مذہبی کتابوں کے ساتھ دیگر مذہبی تعلیمات کا بھی بغور مطالعہ کیا ہے، میں نے اللہ کے آخری پیغمبر رحمت العالمین ﷺ کی تعلیمات میں ہر جگہ ایک ہی درس پایا اور وہ ہے انسانیت کی خدمت۔اسلئے پاک بھارت کشیدگی کے ماحول میں حقیقی مذہبی تعلیمات پر عمل پیرا ہندو اورمذہبی لبادے میں ظالم شدت پسند میں فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔

برٹش انڈیا میں ہندو توا کا نعرہ پہلی جنگ عظیم کے بعد اس وقت بلند کیا گیا جب انگریز سامراج خلافت عثمانیہ کو شکست دیکر نیا عالمی منظرنامہ تشکیل دینے کیلئے ہر جگہ قوم پرستی کے نظریے کو پروان چڑھارہا تھا۔آزاد ی کے بعد بھارت میںمذہبی شدت پسندی کا پہلا نشانہ مہاتما گاندھی جی بنے جنہوں نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد آزادی میں اہنسا (عدم تشدد) کا راستہ اپنایا،گاندھی جی کے بقول ہمیں سوچنا چاہئے کہ دنیا میں بڑے سے بڑے قاتل اور ظالم گزرے ہیں جو کبھی ناقابل شکست لگتے تھے لیکن آخرکارہار گئے۔تاریخ مزید بتلاتی ہے کہ قدیم ہندوستان کاعظیم ہندو شہنشاہ چندرگپت موریاہویا اشوک ِ اعظم یا پھر سندھ کے آخری ہندو راجا داہرکا دورِ حکومت، کبھی بھی کسی ہندوحکمراںنے دھرم کے نام پردوسرے انسان کا خون ناحق نہیں بہایا۔

ہندو دھرم کے مطابق حق و سچائی کی خاطر ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد فرض ہے، یہی وجہ ہے کہ سانحہ کربلا کے وقت حضرت امام حسینؓ کی حمایت میں راہب دت نامی ہندو برہمن اپنے بارہ بیٹوں سمیت قربان ہوگیا، آج بھی حسینی برہمن مسلمانوں کے شانہ بشانہ حضرت امام حسینؓ کی یاد میں غم مناتے ہیں۔ہندو دھرم میں دھرتی کو ماتا کا درجہ دیا گیا ہے اور ایک ہندو جس علاقے میں بستا ہے، اسکی حفاظت کرنا مقدس فریضہ سمجھتا ہے۔ہماری مقدس کتابوں بھگوت گیتا اور رامائین میں جابجا انسانیت کی بھلائی اور معصوموں کا خون بہانے سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے، ہندو تعلیمات پر عمل پیرا ایک ہندو ساری زندگی سبزی خوررہنا پسند کرتا ہے خوراک کی خاطر بھی کسی چرند پرند کا خون نہیں کرتا۔ افسوس، آج موجودہ بھارتی قیادت نے کشمیر کی حسین وادی کو خون سے لہولہان کردیا ہے،مسلسل ایک ماہ کرفیو سے سنگین بحران جنم لینے کا خطرہ ہے، یہ سب اقدامات درحقیقت ہندو دھرم کی پرامن تعلیمات سے انحرافہے۔آج پاکستان میں بسنے والی امن پسند ہندوکمیونٹی نہ صرف مذہبی شدت پسندی کے نعرے کو مسترد کرتی ہے بلکہ انسانیت کے ناطے ہرقسم کی شدت پسندی کو رد کرنا اپنامذہبی فریضہ سمجھتی ہے۔میںدنیا کو بتلانا چاہتا ہوں کہ عالمی امن کیلئے اصل خطرہ شدت پسندانہ سوچ ہے۔

ہٹلر کے نازی جرمنی میں یہودی اقلیت کی نسل کشی، فلسطین و کشمیر پرغاصبانہ قبضہ، بوسنیا میں سرب بربریت، داعش کے زیرقبضہ علاقوں میں اقلیتوں کا قتل عام،برما میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف انسانیت سوز مظالم اور خود پاکستان میں چند شدت پسندوں کے اقلیتوں کے خلاف پرتشدد اقدامات ثابت کرتے ہیں کہ شدت پسندانہ روش نام بدل کر ہر دور اور ہر معاشرے کے ہر انتہا پسند کا پسندیدہ ہتھیار ہے۔ آج کی موجودہ جرمن حکومت ہٹلر کے مظالم پر شرمسار ہے اور مظلوم اقلیتوں کے لواحقین سے معافی کی طلبگار ہے، اسی طرح داعش قصہ ماضی بن چکی ہے۔ آج کشمیری عوام اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں بلکہ خود بھارت میں مودی کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف آواز بلند ہورہی ہے، وقت آگیا ہے کہ تمام انسان نفرتیں پھیلانے والے تمام مذہبی شدت پسندوں کو مسترد کردیں اور انسانیت کی خاطر اس کرہ ارض کو امن کا گہوارا بنانے کیلئے باہمی جدوجہد کریں۔

پاکستانی ہندو کمیونٹی کی جانب سے صادق آباد اور عمرکوٹ کے حالیہ بڑے جلسے شدت پسندی پر مبنی سوچ کا مقابلہ کرنے کے آہنی عزم کا بھی اعادہ کرتے ہیں، میرا اگلا اقدام خیبرپختوانخوا میں پشاور، بلوچستان میں کوئٹہ اور ایل او سی آزاد کشمیر میں شاردا پیٹھ مندرمیں ہندو مسلم کرسچین سب لوگوں کو متحد کرکے تحریک چلانا ہے کہ مذہبی تفریق سے بالاتر ہو کر صرف انسانیت کے نام پر مظلوم کا ساتھ دیا جائے، مظلوم کواحتجاج کیلئے آواز نہ نکالنے دینا بدترین ظلم ہے، چاہے کشمیر ہو یا فلسطین یا کسی اور ملک میں اقلیتوں کے حقوق کی پامالی یہ ہر انسان کا فرض ہے کہ مظلوم کی دادرسی کی جائے، اس کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھ کر دور کیا جائے، جوشخص اپنایہ انسانی فریضہ ادا نہیں کرتا وہ اچھاانسان کہلانے کے لائق نہیں۔ آج اس کالم کے ذریعے میں اپنی حکومت وقت کو بھی تاکیدکرتا ہوں کہ کشمیر کا مسئلہ انسانی مسئلہ ہے، اس کی آڑ میں کسی مذہب کے خلاف نفرتیں نہ پھیلائی جائیں کیونکہ دنیا کے ہر مذہب کی طرح ہندوازم بھی امن و سلامتی اور ظلم و ستم سے باز رہنے کا درس دیتا ہے۔ شدت پسندانہ سوچ ہمارے پیارے وطن کے چند عناصر میں بھی پائی جاتی ہے جو جبری مذہب تبدیلی، مندروں پر حملے اور غیرمسلم اقلیتوں کو نقصان پہنچانے کو نیک کام سمجھتے ہیں۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

سب سے پہلے پاکستان!

محمد اکرم چودہری پاکستان ایک مرتبہ پھر ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں …