منگل , 4 اگست 2020

طالبان، امریکہ مذاکرات: افغانستان میں امن کب آئے گا؟

(خدائے نور ناصر)

’میں روز جب سکول جاتا ہوں تو میرے راستے میں پہلے مسلح طالبان آتے ہیں۔ ان کو سلام کرتا ہوں، پھر چند قدم کے فاصلے پر سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ آتی ہے۔ ان کو بھی سلام کرتا ہوں۔‘نیاز محمد ضلع تگاب کے غازی عثمان خان ہائی سکول کے طالب علم ہیں اور یہ سکول طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان اکثر اوقات ’میدان جنگ‘ بنا رہتا ہے۔

ہر روز پولیس کی ایک بکتر بند گاڑی سکول کے گراؤنڈ میں مورچہ زن ہونے کے بعد یہاں کلاسز کا اغاز ہوتا ہے۔ تقریباً تمام کلاس رومز پر ہر طرف سے چھوٹے بڑے گولیوں کے نشانات واضح نظر آ رہے ہیں۔ سکول کے پرنسپل محمد ایوب صافی کے مطابق ان کا سکول طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے مورچوں کے درمیان واقع ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار ابراہیم صافی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب تک ان کے سکول کے 50 سے زائد طالب علم اور 10 سے زیادہ اساتذہ طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں۔’اکثر اوقات سکیورٹی فورسز کی جانب سے طالبان پر فائر کیے جانے والے گولے ہمارے سروں سے گزرتے ہیں اور یوں طالبان کی جانب سے سکیورٹی فورسز پر داغے جانے والے گولے ہمارے سروں پر سے گزرتے ہیں۔‘

اگرچہ امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کے مطابق امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات نتیجہ خیز مراحل میں داخل ہوئے اور امن معاہدے کے مسودے پر وفود کی سطح پر اتفاق ہو گیا ہے لیکن ضلع تگاب سمیت افغانستان کے بیشتر علاقوں میں تشدد کے واقعات میں کمی آنے کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔

منگل کو جب زلمے خلیل زاد کابل میں افغان حکام کو امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ مذاکرات کے بارے میں آگاہ کر رہے تھے تو وہاں ایک کار بم دھماکہ ہوا جس میں حکام کے مطابق 16 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

امریکہ اور طالبان وفد کے مطابق ان کے درمیان دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ بلکہ جنگ بندی پر بحث افغان امن عمل کے دوسرے مرحلے میں بین الافغان مذاکرات میں ہوگی۔

واضح رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے، جن میں جنگ بندی، افغانستان کے مستقبل کے سیاسی نظام، آئینی ترمیم، حکومتی شراکت داری، طالبان جنگجوؤں کا مستقبل اور خواتین کے حقوق سمیت کئی مسائل پر بات چیت ہو گی۔افغان امن عمل میں امن معاہدے کا نام سنتے ہی اکثر افغان عوام خوش ہیں کہ ان کے ملک میں گذشتہ چار عشروں سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔

کابل کے علاقے شہرنو کے ایک دوکاندار خلیل الرحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کے بچے امن معاہدے کے لیے خوش ہیں، کیوں کہ معاہدے کے بعد روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے خودکش حملے بند ہو جائیں گے۔ ’میں اور میرے سارے بچے روز ٹی وی کے سامنے اس امید کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں کہ آج کوئی امن کی خبر آجائے گی لیکن ان خبروں میں ہمیں کسی اور خودکش حملے کا بتایا جاتا ہے اور کئی اور بے گناہ افغانوں کی ہلاکت کا بتایا جاتا ہے۔‘

ذرائع کے مطابق امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط دوحہ میں ہوں گے جن کے بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے۔اکثر مبصرین بین الافغان مذاکرات کو افغان امن عمل کا سب سے پیچیدہ اور جنگ بندی کے لیے نیتجہ خیز مرحلہ قرار دے رہے ہیں۔ کیونکہ بین الافغان مذاکرات کی کامیابی کے بعد ہی افغانستان میں امن آسکتا ہے اور چار عشروں سے جنگ کے دلدل میں پھنسے افغان عوام اس کے بعد ہی سکھ کا سانس لے سکیں گے۔بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

اب پنجاب میں کوئی کتاب چھاپ کر دکھائے

وسعت اللہ خان جوں جوں پاکستان کے نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے ایک پر …