منگل , 4 اگست 2020

شہزادہ علی اکبر علیہ السلام

(سیدہ سائرہ بانو)

آج کربلا کے جس کردار کی بات ہوگی اُس کا شمار حق و باطل کے اِس تاریخی معرکہ میں بہت اہم رہا ہے۔ سن 61 ھجری میں عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام نے اپنے دو بیٹوں کی قربانی دی۔ ایک حضرت عبداللہ علیہ السلام (علی اصغر) جن کی عمر صرف چھے ماہ تھی اور دوسرے حضرت علی اکبر علیہ السلام جن کی عمر مختلف روایات میں اٹھارہ سے بتیس سال تک بتائی جاتی ہے۔ حضرت علی اکبر علیہ السلام سفرِ کربلا میں ایک ذمہ دار فرزند کی حیثیت سے نظر آئے۔ جب امام حسین علیہ السلام کربلا کے نزدیک پہنچے تو ایک منزل پر اچانک آپ نے کلمہ استرجاع (انا للہ وانا الیہ راجعون) بار بار پڑھا۔ آپ کے دلیر اور شجاع فرزند حضرت علی اکبر علیہ السلام نے کلمہ استرجاع پڑھنے کا سبب دریافت کیا تو امام نے انہیں اونگھ کی حالت میں دیکھا ہوا خواب سنایا جس میں ایک گھڑ سوار نے کہا: "یہ لوگ اپنے سفر پر گامزن ہیں اور موت ان کا پیچھا کر رہی ہے۔” اس پر امام نے فرمایا: "میں جانتا ہوں کہ یہ ہمارے بارے میں کہ رہا ہے اور یہ ہماری موت کی خبر ہے۔” حضرت علی اکبر علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار سے پوچھا: لا اراک اللہ بسوء السنا علی الحق؟ (خدا برا وقت نہ لائے۔ کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟) امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: "یقینا ہم حق پر ہیں۔” حضرت علی اکبر علیہ السلام نے عرض کیا: "اذا لا نبالی ان نموت محقین” (جب ہم حق پر ہیں تو ہمیں موت کی کوئی پروا نہیں۔) جب انسان یقین کی منزل پر ہو اور اس کی جدوجہد حق کی خاطر ہو تو اس کے لئے موت کے پُل کو پار کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ یہی درس امام حسین علیہ السلام نے اپنے خانوادے اور اصحاب کو دیا تھا۔

حضرت علی اکبر علیہ السلام کا نسب ہی ان کے تعارف کے لئے کافی ہے۔ علی بن حسین بن علی بن ابی طالب یعنی آپ توحید پرست گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کی وجہ شہرت آپ کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صورت و سیرت میں مشابہ ہونا بھی ہے۔ آپ بیحد خوبرو اور وجیہ تھے اس لئے آپ کا ذکرِ مبارک شہزادہ علی اکبر کہ کر کیا جاتا ہے۔ سفرِ کربلا میں آپ نے سفر کے انتظامی امور کو بطریقِ احسن سنبھالا۔ آٹھ محرم کو امام حسین علیہ السلام کے حکم پر دریائے فرات جانے والے دستے کی نگرانی کی اور عاشور کے دن روتی ہوئی بیبیوں کو حوصلہ اور ڈھارس دیتے رہے۔ آپ جوان تھے اور امام حسین علیہ السلام کی امیدوں کا مرکز بھی۔ کہا جاتا ہے کہ روزِ عاشور اصحابِ امام حسین علیہ السلام کے شہید ہونے کے بعد حضرت علی اکبر علیہ السلام نے میدانِ جنگ جانے کی اجازت چاہی اور یوں آپ خانوادہ امام حسین علیہ السلام کے پہلے شہید کہلائے۔ امام حسین علیہ السلام کے لئے وہ لمحات بہت کٹھن اور صبر آزما تھے جب حضرت علی اکبر علیہ السلام آپ کے پاس رخصت لینے آئے۔ آپ نے فرمایا: "بارِ الہا! تُو اِس قوم پر گواہ رہنا کہ اب ایک ایسا جوان اُن کی طرف جارہا ہے جو صورت و سیرت ۔ عادات و اطوار اور اقوال و گفتار میں تیرے نبی سے سب لوگوں سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔ اور جب کبھی ہم تیرے نبی کی زیارت کرنا چاہتے تھے تو اِس کے چہرے کو دیکھ لیا کرتے تھے۔

” حضرت علی اکبر علیہ السلام نے دشمن کی صفوں کے سامنے آ کر یہ پرجوش رجز پڑھا: "میں علی۔ حسین ابن علی کا بیٹا ہوں۔ اور کعبہ کی قسم۔ ہم ہی نبی کے سب سے قریب تر ہیں۔ میں اس نیزے سے دشمن پر اتنے وار کروں گا کہ اس کی انی مڑ جائے گی۔ اس تلوار سے اُس وقت تک ضرب لگاؤں گا جب تک یہ گھوم نہ جائے۔ ایسی ضرب جو ہاشمی علوی جوان کے شایانِ شان ہے۔” آپ نے پیاس کے شدید ترین غلبہ کے باوجود ایک سو بیس سے زیادہ افراد کو قتل کیا۔ اس کے بعد آپ خیموں کی طرف واپس آئے۔ پھر دوسرا حملہ کیا لیکن اس بار شدید جوابی حملہ ہوا اور آپ زمین پر گر گئے۔ امام حسین علیہ السلام آپ کے سرہانے پہنچے اور فرمایا: "خدا اس قوم کو نابود کرے جس نے تمہیں قتل کیا۔ میرے بیٹے! یہ لوگ کس قدر بیباکی کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتکِ حرمت کر رہے ہیں۔ تمہارے بعد اس دنیا پر خاک ہے۔” روایت میں ہے کہ آپ کی شہادت سینے پر برچھی لگنے کے نتیجے میں ہوئی۔ آپ کی قبر مبارک امام حسین علیہ السلام کی قبر کے ساتھ ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اب پنجاب میں کوئی کتاب چھاپ کر دکھائے

وسعت اللہ خان جوں جوں پاکستان کے نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے ایک پر …