اتوار , 22 ستمبر 2019

پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کیوں نہیں؟

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سچی بات ہے سری لنکن سیکیورٹی وفد کاکراچی اور لاہورکے دوروں میں اطمینان دیکھ کر میں بھی دھوکا کھا گیا تھاکہ اب تو ٹیسٹ سیریز پکی، دل ہی دل میں پلان بھی بنانے لگا کہ میچ کی کوریج کس انداز میں کرنا ہے، مگر انکار نے ایک بار پھر خواب بکھیر دیے۔رواں برس بھی ملک میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی نہیں ہو سکے گی، لوگ کہتے ہیں کہ ہم ٹیسٹ میں بہت پیچھے ہیں اس کی ایک بڑی وجہ 10 سال سے ملک میں اس طرز کے مقابلے نہ ہونا بھی ہے، اپنے شائقین کے سامنے عمدہ کھیل ہر کھلاڑی کو جان لڑانے کی تحریک دلاتا ہے، چونکہ سری لنکن ٹیم پر ہی 2009میں حملے کے بعد ہمارا ملک انٹرنیشنل کرکٹ کیلیے نوگوایریا بنا لہذا اگر اسی کے ذریعے ٹیسٹ کا احیا ہوتا تو دیگر ممالک کو قائل کرنے میں آسانی ہوتی، مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا۔

اب پی سی بی اپنا کیس درست انداز میں پیش نہ کرسکا یا پاکستان مخالف لابی کام کر گئی اس کا پتا چلانا مشکل ہے، البتہ یہ حقیقت ہے کہ بنگلہ دیش اور افغانستان کی طرح سری لنکا پر بھی بھارت کا بڑا اثرورسوخ ہے،وہاں کا کرکٹ بورڈ ڈمی اور سب کچھ وزیر کھیل ہرین فرنانڈو سنبھالتے ہیں، ان دنوں آئی سی سی کے چیئرمین ششانک منوہر بھی کولمبو آئے ہوئے ہیں، ان کی فرنانڈو سے ملاقات بھی ہو چکی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی تصاویر میں دور دور تک بورڈ کے صدر شمی سلوا موجود نہ تھے،شاید اسی دوستی کی وجہ سے آئی سی سی سری لنکا کرکٹ میں حد سے زیادہ حکومتی مداخلت پر خاموش رہتی ہے، اگر ایسا پاکستان میں ہوتا تو اب تک زمبابوے کی طرح معطل کر دیا جاتا،سری لنکن بورڈ خاموش رہا مگر ان کے وزیر کھیل نے ہی یہ اعلان کیا کہ ٹیم ٹیسٹ کھیلنے پاکستان نہیں جائے گی، صرف محدود اوورز کے مقابلوں کیلیے دورہ ممکن ہے،اگر ہم ماضی پر نظر دوڑائیں تو ہمارے ملک کے حالات اب بہت بہتر ہو چکے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے بعد یہاں ہونے والے بیشتر میچز میں نے کور کیے، اس دوران ٹیموں اور شائقین کو بہترین سیکیورٹی فراہم کی گئی، مہمان کھلاڑی بھی خوش خوش واپس گئے، ایسے میں کسی کے انکار کی اب کوئی وجہ نہیں بنتی،خیر احسان مانی نے یہ بھی درست فیصلہ کیا کہ محدود اوورز کے میچز پہلے شیڈول کر لیے ورنہ اگر اکتوبر میں یو اے ای میں ٹیسٹ سیریز ہوتی تو دنیا پر اچھا تاثر نہ جاتا، میڈیا ڈپارٹمنٹ ایم ڈی/سی ای او وسیم خان کو پاکستان کرکٹ کا نجات دہندہ بنا کرپیش کر رہا ہے، ان کا اصل کارنامہ یہ ہوتا کہ وہ سری لنکا کو ٹیسٹ کھیلنے پر آمادہ کر لیتے، ٹی ٹوئنٹی میچ تو ان کی ٹیم2017میں بھی کھیل چکی۔

مجھے نہیں لگتا کہ اب بنگلہ دیش بھی آئندہ برس پاکستان میں ٹیسٹ کھیلنے پر آمادہ ہوگا،خیر یہ بھی خوش آئند ہے کہ تین، تین ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی تو ملک میں ہو رہے ہیں، ان میں بہترین انتظامات کر کے ہمیں اپنا کیس مضبوط بناتے رہنا چاہیے، البتہ اب کراچی اور لاہور کے سوا دیگر سینٹرز کوبھی تیار کریں، ہمیں کرکٹ پورے ملک میں واپس لانا ہے صرف دو شہروں میں نہیں، تمام پاکستانیوں کا حق ہے کہ وہ اسٹیڈیم جا کر میچز سے لطف اندوز ہوں، پی سی بی کو سری لنکا پر زور ڈالنا ہو گا کہ وہ مضبوط ٹیم بھیجے، اگر دوسرے درجے کا اسکواڈ بھیجا گیا تو کوئی فائدہ نہ ہو گا۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ٹیسٹ سیریز کیلیے آنے سے اسی لیے انکار کیا گیا کہ اسٹارز کی عدم موجودگی میں اگر شکست ہو جاتی تو چیمپئن شپ کے اہم پوائنٹس سے محروم ہونا پڑتا، یو اے ای میں ایسا نہیں ہوگا، خیر اب پہلے محدود اوورز کے میچز سے پاکستان ٹیم کو بھی اسی حوالے سے تیاریاں کرنا ہوں گی،اس سے قبل ٹیسٹ میچزکو ذہن میں رکھ کر منصوبہ بندی کی جا رہی تھی، مصباح الحق کو کوچ بنانے کی باتیں اب زور پکڑ چکی ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ انھوں نے اب تک درخواست ہی جمع نہیں کرائی، شاید معاوضے اور اختیارات کے حوالے سے یقین دہانی ملنے پر ہی وہ ایسا کریں گے۔

وقار یونس نے بولنگ کوچ کیلیے اپلائی کیا ہے، ان جیسے سابق عظیم کرکٹر کا کسی کے ماتحت بن کر کام کرنا کچھ عجیب سا لگے گا لیکن شاید وہ جانتے ہیں کہ ’’گال پر تل والے‘‘ کسی امیدوار کو دیکھ کر بورڈ نے اشتہار جاری کیا اور اسی کو ہیڈ کوچ رکھے گا، لہذا اس پوسٹ کیلیے درخواست دینے کا کوئی فائدہ نہیں، ویسے کیا یہ بھی مذاق نہیں کہ اشتہار دیا جاتا ہے کہ فلاں عہدے کیلیے درخواستیں دیں اور پھر اسی کا تقرر ہوتا ہے جس کا پہلے ہی فیصلہ ہوچکا اور میڈیا تک میں نام آ گیا ہوتا، ایم ڈی اور ڈائریکٹر میڈیا کے کیسز میں بھی ایسا ہی ہوا، سب جانتے تھے کہ کون ذمہ داری سنبھالیں گے۔

پاکستان میں تقرر پہلے اور اشتہار بعد میں دیا جاتا ہے، پسند ناپسند کو اب بھی ترجیح دی جا رہی ہے، جیسے انڈر 19 کوچ کیلیے ثقلین مشتاق نے بھی اپلائی کیا مگراطلاعات کے مطابق اعجاز احمد کو یہ عہدہ سونپا جائے گا، حیرت ہے بورڈ حکام نے ان کی سابقہ فائلز کا مطالعہ ہی نہیں کیا، یہ بھی ایک مذاق ہی ہوگا کہ ورلڈچیمپئن ٹیم کے ساتھ منسلک کوچ کو نظر انداز کر کے ایک ایسے سابق کرکٹر کو ذمہ داری دی جائے جس کی شخصیت پر کئی سوالات اٹھتے ہیں، خیر دیکھتے ہیں اس حوالے سے کیا ہوتا ہے، البتہ ایک افسوسناک بات یہ ہے کہ پی سی بی قومی ٹیم کیلیے بطور ہیڈ کوچ کسی غیرملکی کوچ کولانے میں تاحال کوئی پیش رفت نہیں کر سکا۔

وسیم خان کے بارے میں کہا گیا کہ وہ بہت اثرورسوخ رکھتے ہیں مگر ابھی تک انھوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے خود کو20،22 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کا حقدار ثابت کر سکیں، ٹیسٹ سیریز کیلیے سری لنکا کا دورے سے انکار ان کی پہلی ناکامی ہے،معاملات ہاتھ سے نکلتے دیکھ کر احسان مانی کو ایکشن میں آنا پڑا اور جمعے کو پورے دن سری لنکن حکام سے مذاکرات کر کے پہلے محدود اوورز کے میچز شیڈول کرائے۔

اگر ٹیم کیلیے کوئی مناسب کوچ بھی نہ ملا تو وسیم خان کی اہلیت پر مزید سوالات اٹھ جائیں گے، خیر ابھی2 دن باقی ہیں شاید کوئی بڑا نام بھی درخواست جمع کرا دے، اگلے سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ ہوگا، ہمیں ٹیم کیلیے ایک ایسا جارح مزاج کوچ درکار ہے جو اسے فاتح جتھے میں تبدیل کر سکے،امید ہے بورڈ اس حوالے سے شائقین کرکٹ کو مایوس نہیں کرے گا۔

یہ بھی دیکھیں

محسن حسن خان کرکٹ ٹیم منیجر کیلئے مضبوط امیدوار بن گئے

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) قومی ٹیم کے سابق اوپنر اور گرین شرٹس کے سابق کوچ محسن حسن …