اتوار , 22 ستمبر 2019

مودی کا اگلا قدم کیا ہوگا …؟

(اصغر علی شاد)

مودی نے 5 اگست کو جس طرح پوری کشمیری قوم پر دہشتگردی کا قہر برپا کیا، وہ سلسلہ بتدریج نسل کشی کے حقیقی خدشے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مگر اصل توجہ طلب امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ آرٹیکل 370 کے خاتمے تک محدود رہے گا یا آگے بھی بڑھتا رہے گا۔ راقم کی رائے میں RSS نے اپنے اس کام کے ذریعے محض پہلا بڑا قدم اٹھایا ہے ، یہ RSS کے مشن کی محض ایک کڑی ہے ۔ آنے والے چند ماہ کے دوران مہاراشٹر، ہریانہ، جھارکھنڈ اور دہلی میں صوبائی انتخابات ہونے والے ہیں جن میں بظاہر مسلم دشمنی کی فضا پیدا کرنے کے نتیجے میں BJP کی جیت کے امکانات خاصے واضح ہیں۔

آئندہ چند ہفتوں میں اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں کانگرس اپنی معمولی برتری بھی کھو بیٹھے اور ان دونوں صوبوں میں بھی BJP کا اقتدار قائم ہو جائے۔ کرناٹک میں ایک ماہ پہلے ہی کانگرس اقتدار سے باہر ہو چکی ہے۔ مغربی بنگال میں بھی لوک سبھا کی تقریباً نصف نشستیں جیت کر بی جے پی خاصی مضبوط پوزیشن میں ہے اور لگاتار کئی ممبران پارلیمنٹ ممتا بینرجی کا ساتھ چھوڑ کر BJP میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں، یوں بظاہر آئندہ 6 سے 8 ماہ کے اندر غالباً BJP اس صوبے میں بھی برسر اقتدار آ جائے۔ بہار میں نتیش کمار BJP کے اتحادی اور سشیل کمار مودی بطور نائب وزیراعلیٰ کام کر رہے ہیں، یوں آنے والے ایک سے ڈیڑھ برس میں بھارت کی داخلی سیاست کا ظاہری منظر نامہ کچھ ایسا نظر آتا ہے کہ بھارتی پنجاب اور چھتیس گڑھ میں کانگرس کی حکومت قائم رہے گی، علاوہ ازیں اڑیسہ میں نوین پٹنائک کی سرکردگی میں بیجو جنتا دل، کیرالہ میں CPIM ، آندھرا پردیش میں جگموہن ریڈی، تامل ناڈو میں بی جے پی اتحادی AIDMK کے علاوہ لگ بھگ تمام بھارت میں BJP اور اس کے اتحادی اقتدار میں آ جائیں گے ۔اور یہی وہ لمحہ ہو گا جب 1925 کے RSS کے دیرینہ خواب کی تکمیل کی جانب واضح پیش رفت کرتے ہوئے 2021 کی مردم شماری کے فوراً بعد بھارت کو باقاعدہ طور پر ہندو ریاست کا درجہ دے دیا جائیگا ، یوں اسکی برائے نام سیکولر حیثیت بھی بالآخر اپنے اختتام کو پہنچے گی اور ہندومت کو بھارت کا سرکاری مذہب قرار دیا جائے گا۔ یہاں یہ بات توجہ کی حامل ہے کہ اندرا گاندھی نے 1976 کی ایمرجنسی کے دوران بھارتی آئین کی 42 ویں ترمیم کے ذریعے ہندوستان کو سیکولر ریاست قرار دیا تھا وگرنہ اس سے پہلے اس کا کوئی وجود نہ تھا۔

بھارت کو ہندو ریاست قرار دینے کے مقصد کے حصول کی خاطر آرٹیکل 370 کا باقاعدہ خاتمہ ہو چکا ہے۔ 2 ) بابری مسجد کی شہادت بھی عمل میں لائی جا چکی ہے۔ 3 ) تین طلاق کا بل پاس ہونے سے بھارت بھر میں یکساں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کی راہ بھی ہموار ہو رہی ہے۔ اس عمل کے ذریعے RSS کا خیال ہے کہ اپنے قیام کا سو سالہ جشن مناتے ہوئے یعنی 2025 تک رام راج کا قیام عمل میں لایا جائے اور بھارت کے طول و عرض میں یہ پیغام ہر خاص و عام تک پہنچ جائے کہ ہندو قوم نے بالآخر اپنی 1000 سالہ غلامی کی تاریخ کا بدلہ چکا دیا! واضح رہے کہ کچھ ہفتے قبل مودی سرکار نے 2011 میں ہوئی مردم شماری کے اعداد وشمار جاری کیے جن کے مطابق ہندوئوں کی آبادی 96 کروڑ 63 لاکھ ہے جبکہ مسلمان 17 کروڑ 22 لاکھ جو بھارتی آبادی کا 14.23 فیصد بنتا ہے ۔ مودی سرکار نے تو یہ ڈیٹا اس لئے جاری کیا تھا کہ ہندو اکثریت میں اس اندیشے کو ہوا دی جائے کہ آگے چل کر وہ اقلیت میں تبدیل ہو سکتے ہیں کیونکہ مسلمانوں میں شرح نمو 24.6 فیصد ہے جبکہ ہندوئوں میں آبادی کا اضافہ 16.8 فیصد ہے اور اگر یہی شرح بر قرار رہتی ہے تو 2021 میں ہندو 112 کروڑ اور مسلمان 21 کروڑ ، 2031 میں ہندو 131 کروڑ ، مسلمان 26 کروڑ اور سو سال بعد یعنی 2111 میں ہندو 455 کروڑ ، مسلمان 455کروڑ اور دو سو سال بعد یعنی 2211 میں ہندو 2150 کروڑ مسلمان 1400 اور 2281 میں ہندو 6378 کروڑ اور مسلمان 6531 کروڑ ہو جائیں گے ۔ یوں بھارت میں مسلمان اکثریت میں آ جائیں گے ۔ ظاہر ہے یہ فی الحال اندیشہ ہائے دور دراز ہے کیونکہ اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ تعلیم اور خوشحالی کے آنے سے یہ سلسلہ رک جائے جیسا کہ مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں ہے ۔ مگر اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اگر یہ سلسلہ ترقی معکوس کا شکار ہو گیا تو 270 برس سے بھی بہت پہلے بھارت مسلم اکثریت کی آبادی کا ملک بن سکتا ہے اور ہندو جنونی گروہوں نے حالیہ دنوں میں جو روش اپنا رکھی ہے ، اس سے تو لگتا ہے کہ دائمی غلامی ان کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے ۔ یوں بھی قوموں کی زندگی میں سو دو سو سال کی اتنی بھی اہمیت نہیں ہوتی اور اگر مودی اور ان کے سر پرستوں کا یہی طرز عمل بر قرار رہا تو اس رفتار کو کئی گنا تیز کرنے کی اہلیت بھی رکھتا ہے ۔ بہر کیف اگرچہ فی الحال یہ سب اندیشہ ہائے دور دراز ہیں مگر یہ ایسا غیر حقیقی بھی نہیں۔بشکریہ نوائے وقت

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …