اتوار , 22 ستمبر 2019

موبائل اور کمپیوٹر سافٹ ویئرز اسرائیلی جاسوسی کے ہتھکنڈے

بظاہر یہ سافٹ ویئر کے میدان میں خود کو مستقل قرار دینے والی دنیا کی معروف کمپنیاں ہیں لیکن صہیونی ادارے انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور کسی کو خبر تک نہیں ہو پاتی کہ جو سائٖٹ ویئر انسان کے موبائل فون میں ہے اس کے ذریعے صہیونی ادارے اس کی تمام معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

اسرائیل سے وابستہ بہت ساری کمپنیوں نے کمپیوٹر اور موبائل فون کے لیے ایسے سافٹ ویئر تیار کئے ہیں جن کے ذریعے وہ بآسانی صارفین کی جاسوسی کر سکتے ہیں۔ ان کمپنیوں کا بظاہر جاسوسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن حقیقت میں اسرائیلی جاسوسی ادارے انہیں خطیر رقم دے کر ان سے ایسے سافٹ ویئر تیار کرواتے ہیں جن کے ذریعے وہ جاسوسی کر سکیں۔ بظاہر یہ سافٹ ویئر کے میدان میں خود کو مستقل قرار دینے والی دنیا کی معروف کمپنیاں ہیں لیکن صہیونی ادارے انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور کسی کو خبر تک نہیں ہو پاتی کہ جو سائٖٹ ویئر انسان کے موبائل فون میں ہے اس کے ذریعے صہیونی ادارے اس کی تمام معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

حال ہی میں سافٹ ویئر بنانے والی چند امریکی کمپنیوں کے بارے میں کچھ معلومات سامنے آئی ہیں جن سے معلوم ہوا ہے کہ بظاہر یہ امریکی کمپنیاں ہیں لیکن ان کو چلانے والے صہیونی یہودی ہیں جو اس سے پہلے وہ اسرائیلی فوج کے سائبری اداروں میں ملازم رہے ہیں۔

اوناوو(Onavo) کمپنی
اوناوو کمپنی سافٹ ویئر بنانے والی وہ کمپنی ہے جس کی اسرائیلی فوج کے سپاہیوں نے بنیاد ڈالی۔ یہ کمپنی شروع شروع میں اسرائیل میں ایک مستقل کمپنی دکھائی دیتی تھی۔ اور فیس بوک نے ۲۰۱۳ میں اسے خرید لیا تھا۔ لیکن بعد میں جب فیس بوک کے صارفین نے اوناوو کمپنی کے جاسوسی کمپنی ہونے کا راز فاش کیا تو فیس بوک اس کے سافٹ ویئر ڈیلیٹ کرنے پر مبجور ہو گیا۔ (۱)
NSO Group

Omri Lavie نے اس کمپنی کی بنیاد ڈالی۔ جریدہ فوربز کی رپورٹ کے مطابق، امری لاوی بھی اسرائیلی فوج کا آدمی ہے۔ جس نے آج تک کسی نامہ نگار کو انٹرویو نہیں دیا۔ اور اس کے بارے میں بہت کم اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ (۲) اس کی کمپنی اسرائیلی جاسوسی ادارے Ability Inc کے ساتھ بھرپور تعاون رکھتی ہے۔

اس سے قبل نیویورک ٹائمز نے بھی رپورٹ دی تھی کہ متحدہ عرب امارات نے اس کمپنی کے سافٹ ویئرز کے ذریعے قطری حکمرانوں کی جاسوسی کی ہے۔(۳)بشکریہ خیبر ڈاٹ نیٹ

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …