اتوار , 22 ستمبر 2019

جان بولٹن کی بولی بند، گوشہ نشین یا کوئی اور سبب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی مشیر آجکل بدترین وقت گزار رہے ہیں ۔ ٹرمپ انتظامیہ میں این ایس اے کا عہد حاصل کرکے بولٹن بہت خوش تھے کہ وہ اب اپنے سارے ارمان پورے کر لیں گے تاہم ایک ساتھ ایران، وینیزویلا اور کوریا سمیت کئی محاذوں پر امریکا کو جنگ کی جانب لے جانے کا ایجنڈا رکھنے والے بولٹن کو حاشیہ پر ڈال دیا گیا ہے۔

امریکا کے سیاسی اور فوجی ڈھانچے میں جنگ پسند شخصیات نے مضبوط اثر و رسوخ پیدا کر لیا تھا۔ اگر ساتویں امریکی صدر اینڈریو جیکسن کی بات کی جائے تو وہ بہت خطرناک شخص تھے۔ انہیں انڈین کلر اور شارپ نائف کہا جاتا تھا ۔ ان کا بھی یہی خیال تھا کہ خون ریزی کے بغیر دنیا پر حکومت نہیں کی جا سکتی ۔

ٹھیوڈر روزولٹ امریکا کے 26ویں صدر بنے وہ بھی جنگ پسند شخص تصور کئے جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مجھے خون اور فولاد کی پالیسی نیز دودھ اور پانی کی پالیسی میں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو یقینی طور پر میں خو اور فولاد کی پالیسی ہی اختیار کروں گا۔ یہ صرف ہمارے ملک ہی نہیں بلکہ طولانی مدت میں دنیا کے لئے بھی بہتر ہوگا۔

امریکا کے جنرل ڈگلس میکارتھر تو جنگ کوریا میں ایٹمی بم سے حملہ کرنے میں دلچسپی دکھا رہے تھے۔ یہ فہرست طولانی ہے، اس میں ٹرومین اور جان ایف کینیڈی کے نام بھی آتے ہیں اور اسی فکر کے حامل جان بولٹن ہے۔ اگر ان کا بس چلتا تو عراق میں وہ جنگ کا ماحول بنائے رکھتے اور ساتھ ہی ایران، شمالی کوریا، کیوبا، وینیزوئیلا اور ہر اس ملک پر حملہ کروا دیتے جو یہ نہیں قبول کرتا کہ دنیا اور اس میں جو کچھ بھی ہے وہ سب امریکا کا ہے ۔

امریکی ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ جان بولٹن طالبان سے امریکا کے مذاکرات سمیت متعدد مسائل پر پوری ٹرمپ انتظامیہ سے الگ موقف رکھتے ہیں بلکہ وہ طالبان سے امریکا کے ممکنہ معاہدے کے سب سے بڑے دشمن بن گئے ہیں ۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ 2016 میں ٹرمپ، امریکا کی جنگوں کو ختم کرنے کے نعرے کے ساتھ انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ امریکا کی جنگوں سے خراب حالات مزید خراب ہوئے ہیں اور اس سے نا امنی میں مزید اضافہ ہوا ہے اور دہشت گردی پوری دنیا میں بڑھ رہی ہے۔

ٹرمپ امریکی اقتدار میں اقتصادی نظریہ لے کر پہنچے تھے اور ان کی نظر اس بات پر مرکوز تھی کہ امریکا کے لئے اقتصادی مواقع کہاں ہیں ؟

تاہم اس درمیاں جان بولٹن جیسے امریکی حکام کے لئے خود کو مطمئن کر پانا سخت ہے کیونکہ ان کی فکر یہی ہے کہ دنیا پر حکومت کرنا، امریکا کا حق ہے اور یہ حق جنگ کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔

امریکی حکومتی حلقے میں دو نظریات کے درمیان شدید جنگ ہے اور اس میں جنگ پسند نظریات کو چیلنجوں کا سامنا ہے کیونکہ دنیا بدل گئی ہے، اب یہ دیکھنا ہے کہ امریکا کے جنگ پسند حکام کب اپنی فکر اور اپنی فطرت بدلتے ہیں؟ بولٹن کے لئے بھی یہی مناسب ہے کہ آنکھ کھول کر حالات کا جائزہ لیں۔بشکریہ سحر نیوز

یہ بھی دیکھیں

اربعین مارچ روز بروز آفاقی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے،آیت اللہ سید علی خامنہ ای

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امام حسین …