اتوار , 22 ستمبر 2019

مسئلہ کشمیر اور عرب کریسی

ہندوستان کی طرف سے کشمیر کے حوالے سے پانچ اگست کو جو فیصلہ کیا گیا، اب اس کو ایک ماہ مکمل ہونے کو ہے۔ اس ایک ماہ میں ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں مظلوم کشمیریوں پر کیا بیت رہی ہے، اس کی دقیق اطلاعات کسی کو معلوم نہیں۔ وادی کشمیر میں ہندوستانی حکومت کی طرف سے کرفیو نافذ ہے اور مواصلات کے ذرائع پر کڑی پابندی ہے، لہذا وہاں کے مسلمانون پر ہونے والے مظالم اور کشمیری عوام کے ردعمل کے بارے میں کوئی مستند خبریں سامنے نہیں آتیں۔ البتہ روز روشن کی طرح واضح ہے کہ وادی کشمیر کے عوام نے 370 اور 35 اے کی منسوخی کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور ہندوستانی ریاست کے اس اقدام کے خلاف ہندوستان مخالف تو ایک طرف ہندوستان کی حامی کشمیری شخصیات اور جماعتیں بھی کھل کر مخالفت کر رہی ہیں۔ جس کا ثبوت ہندوستان نواز شخصیات اور سیاسی افراد کا زیرعتاب اور نظربند ہونا ہے۔ پاکستان نے اس اقدام کے خلاف سفارتی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں، لیکن ان کوششوں کو اس وقت شدید دھچکا لگا، جب متحدہ عرب امارات اور بحرین نے ہندوستانی وزیراعظم کو اپنے ملک کا سب بڑا سول ایوارڈ دیا۔

دو عرب ممالک کے اس اقدام اور سعودی عرب کی خاموشی پر پاکستانی عوام کا ردعمل آنا ایک فطری عمل تھا، لہذا متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے اس ردعمل کو خاموش کرنے کے لیے گذشتہ روز اپنے وزراء خارجہ کو پاکستان کے دورے پر بھیجا۔ ہندوستان کے حوالے سے عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا موقف کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ہندوستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں وسیع تعلقات ہیں اور یہ ممالک کسی بھی صورت میں ہندوستان سے حاصل ہونے والے اقتصادی مفادات کو پاکستان کے لیے قربان نہیں کرسکتے۔ عوامی اور پاکستان کے سعودی نواز مولویوں کے شدید دبائو کے بعد متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے ایک ہی دن پاکستان کا دورہ کیا۔ دنوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، لیکن پاکستانی ذرائع ابلاغ نے اس دورے کے بارے میں جو خبریں نشر کی ہیں، وہ انتہائی مایوس کن ہیں۔ ان ملاقاتوں میں کشمیر کی صورتحال پر تشویش اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر تاکید کی گئی ہے، لیکن اندر کی کہانی کسی گہرے منصوبے کی نشاندہی کر رہی ہے، اس کی ایک جھلک متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کا پاکستان پر یہ زور دینا کہ کشمیر کو عالم اسلام کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔

کشمیر کے مسلمانوں کو مسلمان ہونے کے ناطے ظلم و ستم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اگر آج کشمیر کے مسلمانوں کے لیے آواز نہ اٹھائی گئی تو کل ہندوستان میں رہنے والے کروڑوں مسلمانوں کا بھی یہی حشر نشر ہوسکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پاکستان کے سرکاری ذرائع نے جو خبر جاری کی ہے، اس میں آیا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات موجودہ چیلنجز سے نبٹنے، کشیدگی کے خاتمے اور امن و سلامتی کے ماحول کے فروغ کے لیے رابطے میں رہیں گے۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے حالیہ دورہ پاکستان نے پاکستانی عوام کو مزید مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔ سعودی عرب نے اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے چالیس سے زیادہ ممالک کا اتحاد تشکیل دے کر پاکستان کے سابق آرمی چیف کو اس کا سربراہ بنا دیا ہے، لیکن آج وہ اتحاد اور اس کے بانی سربراہ شاہ سلمان کشمیر کو اسلامی مسئلہ ماننے سے گریز کر رہے ہیں، کیا اب بھی پاکستانی حکمران ہوش کے ناخن نہیں لیں گے۔؟بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …