اتوار , 22 ستمبر 2019

کشمیر ، غیر جذباتی فیصلوں کی ضرورت

(ڈاکٹر توصیف احمد خان) 

اکتوبر 1971میں ملک کے حالات خراب تھے۔ مارچ 1971میں مشرقی پاکستان میں ہونے والے فوجی آپریشن کے مثبت نتائج سامنے نہیں آرہے تھے۔ مکتی باہنی کی بھارتی فوج کی نگرانی میں چھاپہ مار سرگرمیوں میں تیزی آگئی تھی۔ فروری 1971میں دو کشمیری نوجوانوں نے سری نگر جانے والے طیارہ گنگا کو اغواء کر کے لاہور میں اتار لیا تھا اور طیارہ تباہ کردیا تھا۔

بھارت نے جہاز کے اغواء کا سہارا لے کر مغربی پاکستان سے بھارت کے علاقے کو عبورکر کے ڈھاکا جانے والی پروازوں پر پابندی لگادی تھی۔کراچی سے طیارے سری لنکا کے راستے کئی ہزار میل کا سفر طے کر کے ڈھاکا پہنچے تھے۔ پہلے یہ سفر دوگھنٹے کا تھا پھر چھ گھنٹے تک ہوگیا۔

چٹگانگ کی بندرگاہ دشمن کی گولہ باری کی زد میں تھی، یوں سمندری راستہ غیر محفوظ قرار پایا تھا۔ اس ماحول میں ایک مذہبی سیاسی جماعت نے Crush India کی مہم شروع کر دی۔ شہروں میں بینر لگادیے گئے اور گاڑیوں پر اسٹیکر چسپاں کیے گئے۔ اس زمانے میں کراچی یونیورسٹی اورکئی کالجوں میں الیکشن میں دائیں بازو کی طلبہ تنظیم کے امیدوارکامیاب ہوئے تھے۔

ان طلبہ یونینوں نے مباحثہ منعقد کیے جن میں مقررین فوری طور پر جنگ کرنے کے حق میں دلائل دیتے تھے۔ پھر نومبر کے آخری ہفتے میں پاکستان نے بھارت کے پانچ ہوائی اڈوں پرکامیاب حملے کیے، شاید بھات کی قیادت ایسی ہی کارروائی کی منتظر تھی۔ پھر دونوں ممالک میں جنگ ہوئی اور 16 دسمبر کو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں تبدیل ہوا۔

اب جماعت اسلامی نے جہاد کے لیے جدوجہد شروع کردی ہے۔ بعض وفاقی وزراء بھی اسی طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔ بھارت نے کشمیری عوام کی آزادی کی تحریک کوکچلنے کے لیے تمام حربے استعمال کیے ہیں۔کشمیرکی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے لیے آرٹیکل 370 کی شق اسی پالیسی کی کڑی ہے۔ اگرچہ کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر ٹرمپ کو یقین دلایاہے کہ کشمیر میں حالات قابو میں ہیں مگر کشمیر میں اگست کا مہینہ کرفیو میں گزرا ہے۔

شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی ہے۔ سیکیورٹی ایجنسیاں نوجوانوں کو اغواء کرکے لے جاتی ہیں۔ صرف اگست میں امتناعی قوانین کے تحت گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز بند ہیں۔ انٹرنیٹ کی سروس معطل ہے۔ حتیٰ کہ لینڈ لائن اور ٹیلیفون ایکسچینج بھی بند کردی گئی ہے۔ شہریوں کو لائن میں لگ کر لینڈ لائن ٹیلیفون کے ذریعے اپنے رشتہ داروں سے مختصر بات چیت کا موقع ملتاہے۔

پولیس پلیٹ گن کے ذریعے مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کے چہروں کو نشانہ بناتی ہے۔ پلیٹ گن کے چھروں سے گھروں میں مقید چھوٹے بچے بھی زخمی ہوتے ہیں۔کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی غیر ملکی ذرایع ابلاغ پر بھرپورکوریج ہورہی ہے۔ بی بی سی ریڈیو اور بی بی سی ٹی وی بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو مکمل کوریج دے رہے ہیں۔

اگست کے وسط میں جب سری نگر کے ایک علاقے میں ہجوم نے کرفیوکو توڑ کر مظاہرہ کیا اور پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے کئی افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ بی بی سی نے اس واقعے کو تفصیلی طور پر اپنے ہر بلیٹن میں جگہ دی۔ بی بی سی ٹیلی وژن پر اس مظاہرے کے فوٹیج دکھائے گئے۔ بھارتی حکومت نے بی بی سی کی اس خبرکی تردید کی مگر بی بی سی نے اپنی کوریج کا دفاع کیا۔ بی بی سی سے وابستہ ایک سابق صحافی کا کہنا ہے کہ بی بی سی کا دہلی بیورو بھارت کے زیرکنٹرول کشمیر میں مزاحمتی تحریک کی خبروں پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ صرف بی بی سی ہی نہیں بلکہ وائس آف امریکا، یورپ، امریکا اور کینیڈا کے اخبارات اور ٹی وی چینلزکشمیر کی مزاحمتی تحریک کی خبروں کو خصوصی کوریج دے رہے ہیں۔

کشمیر میں مزاحمتی تحریک پر ریاست تشدد کی بناء پر بھارتی حکومت کو دنیا بھر میں تنقید کا سامنا ہے۔ سلامتی کونسل کے کشمیر کے بارے میں ہونے والے اجلاس میں برطانیہ اور روس نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ اب امریکی وزارت خارجہ نے بھی کشمیر میں مسلسل کرفیو اور ذرایع ابلاغ پر پابندیوں پر تشویش کا اظہارکیا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا سالانہ اجلاس ستمبر سے جینیوا میں شروع ہوگا۔انسانی حقوق کے کارکن توقع کر رہے ہیں کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ کونسل کے اجلاس میں سرفہرست ہوگا۔ بھارت گزشتہ دو عشروں سے الزام لگا رہا ہے کہ کنٹرول لائن عبورکرکے جہادی عناصر کشمیر میں تخریبی کارروائیاں کرتے ہیں۔ بھارت اور امریکا نے مالیاتی دہشت گردی کی روک تھام کی ایشیا اور مشرق بعید کی ٹاسک فورس کے ایجنڈے میں پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے کی ٹھانی ہوئی ہے۔

ٹاسک فورس کے اقدامات کی بناء پر پاکستان کی بینکنگ کی صنعت پابندیوں کا شکار ہے جس کی بناء پر اقتصادی بحران شدید ہوگیا ہے۔ حکومت نے سمجھوتہ ایکسپریس اور تھر ایکسپریس کو بند کردیا اور تجارت پر پابندی لگادی ہے۔ فارماسوٹیکل انڈسٹری کے ذرایع کہتے ہیں کہ بھارت سے ادویات کی تیاری کے لیے درآمد کیے جانے والے خام مال پر پابندی ہے۔ یہ صنعت براہِ راست متاثر ہوئی ہے۔ خیرپور ضلع کی کھجوروں کی درآمد رکنے سے اس ضلع کے کاشتکار دیوالیہ ہورہے ہیں۔

وفاقی حکومت نے پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی حدود بند نہیں کی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم مودی پاکستانی فضائی حدود سے گزر کے متحدہ عرب امارات گئے تھے۔ بین الاقوامی تعلقات کے طالب علموں کا کہنا ہے کہ چین تائیوان کو تسلیم نہیں کرتا مگر چین کے سرمایہ کاروں نے تائیوان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔

پاکستان اور بھارت میں پانچ جنگیں ہوچکی ہیں مگر ان جنگوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ دونوں طرف کے ہزاروں سویلین اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ دونوں ممالک کو پھر اپنے بجٹ کا کثیر حصہ ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کرنا پڑا اور پھر جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان امن کا معاہدہ ہوا ، بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اور کشمیریوں کے بنیادی حقوق پامال کر کے اپنے آپ کو ایسی مشکل میں ڈال دیا ہے۔

جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ مگر یہ وقت بصیرت کا ہے، جذبات میں بہنے کا نہیں۔ پاکستان کوکشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرانے کے لیے تمام تر اقدامات کرنے چاہئیں۔کسی قسم کی انتہا پسندی ساری صورتحال کو الٹ سکتی ہے۔ بھارت نے پہلے شرط لگادی تھی کہ دہشت گردی کے خاتمے کے بعد وہ پاکستان سے بات چیت نہیں کرے گا، مگر اب کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال میں بھارت کو اپنا مؤقف تبدیل کرنا ہوگا اورکشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کرنی ہوگی، یہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …