جمعرات , 24 اکتوبر 2019

مگر اب دن ہی کتنے رہ گئے ہیں

(آصف محمود)

تبدیلی کا پہلا پارلیمانی سال مکمل ہو چکا۔وقت نے ہماری امیدوں پر کچھ اورخاک ڈال دی۔ میر ہوتے تو گرہ لگاتے:عشق کیا ہے اُس گل کا ، یا آفت لائے سر پر ہم؟سوال یہ کہ اس سال میں آرزوئیں ہی دھواں ہوئی ہیں یا کچھ متاع درد بھی ہاتھ آئی ہے؟ جان ایلیا کے تین بھائی تھے۔رئیس امروہی ، انہیں اچھّن کہا جاتا تھا۔ سید محمد تقی ، وہ چھبّن کے نام سے مشہور تھے۔عباس علی کی عرفیت بچھّن تھی اور جان ایلیا کو جون کہتے تھے۔ روایت ہے کہ ان کے خاندان کے بچے انہیں اکٹھا دیکھتے تو یہ شعر گنگناتے: اچھّن، چھبّن، بچھّن، جون ان چاروں میں اچھا کون تبدیلی کے ایک سال کا حاصل یہ ہے کہ لوگ پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور تحریک انصاف کو دیکھ کر سوچ رہے ہیں کہ اچھّن ، چھبّن اور ، بچھّن میں سے اچھا کون ؟ تحریک انصاف کی ساری انفرادیت خشک راستے کی دھول بن چکی ۔ اس کا اخلاقی وجود بھی دوسروں کی طرح گویا اب برف کا باٹ ہے اور دھوپ میں رکھا ہے۔

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے تو عشروں اس ملک کو مشق ستم کا نشانہ بنایا لیکن تحریک انصاف تو وہ دلربا ہے جو ایک ہی سال میں بے باک ہو گئی۔ رسا چغتائی نے کہا تھا: صرف مانع تھی حیا، بندِ قبا کھلنے تک پھر تو وہ جانِ حیا ، ایسا کھلا ایسا کھلا یہاں بھی صرف اقتدار کا روزن کھلنے تک حیا مانع تھی، یہ کھڑکی کھلی تو جان حیا بھی کھل گیا، ایسا کھلا ایسا کھلا۔ڈی چوک کی مسافت جیسے ہی وزیر اعظم ہائوس پہنچ کر تمام ہوئی، امیدوں کے سارے چراغ ہی گل کر دیے گئے کہ ’’ خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا‘‘۔ایک زمانہ تھا آرزوئیں جواں تھیں ، پلکوں میں خواب اترے تھے اب یہ عالم ہے کہ لہو میں خاک اڑتی ہے۔سیدنا علی ؓ نے فرمایا تھا: اقتدار آدمی کو بدلتا نہیں ، بے نقاب کر دیتا ہے۔لوگ پوچھتے ہیں : تحریک انصاف کو کیا ہو گیا؟ جواب مختصر ہے: تحریک انصاف کو اقتدار ہو گیا ہے۔اقتدار میں آتے ہی اچھّن ، چھبّن ، بچھّن ، جون میں سارے فرق مٹ جاتے ہیں۔ یہ وہ نگری ہے جہاں آکر رانجھا اور انشاء کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔یہاں سب مایا ہے۔

ہجومِ گریہ کا سامان ہی سہی لیکن تحریک انصاف کے اقتدار کے اس ایک سال نے بہت سی گرہیں کھولی ہیں۔ یہ ثابت ہوا کہ ہم زوالِ مسلسل کا شکار ہیں۔ وہ دن ہوا ہوئے کہ نعرہ لگتا تھا : چہرے نہیں نظام کو بدلو۔ صیاد کے کرم سے اب تو چمن کا یہ حال ہوا ہے کہ یہاں چہرے بھی نہیں بدل رہے۔ وہی رجالِ کار تھے جو نواز شریف کے میمنہ میسرہ پر داد شجاعت دیتے رہے ، وہی رستم پھرپرویز مشرف کے ہراول کے سالار ہوئے ، وہی سورما پھر بگل بجاتے رہے کہ بھٹو زندہ اور زرداری تابندہ ہے۔اب تبدیلی کے آنگن میں زینتِ شب کا مہِ تمام بھی یہی چہرے ہیں۔ یہ نکتہ بھی آشکار ہوا کہ انقلاب محض ایک دھوکا ہے ، یہ ارتقاء ہے جو قوموں کی زندگی بدلتا ہے۔

قومیں اگر اپنا مقدر بدلنا چاہتی ہیں تو کوئی شارٹ کٹ ، کوئی انقلاب ، کوئی ٹارزن ، کوئی سپر مین اور کوئی ہیرو ان کا نصیب نہیں بدل سکتا۔ اس کے لیے ارتقاء کی کٹھن اور صبر آزما منازل طے کرنا پڑتی ہیں۔استقامت اور صبر کے ساتھ۔ایک نقص فہم سا تھا کہ تجربہ محض زیب داستاں ہے اور جب جذبہ ، جنون اور خلوص آئے گا تو صحرائوں کی پیاس بجھ جائے گی اور ریگزاروں کا دامن شگوفوں سے بھر جائے گا۔ معلوم یہ ہوا کہ نا اہلی اور نا تجربہ کاری سے بڑا ناسور کوئی نہیں۔

یہ غلط فہمی بھی دور ہو گئی کہ جمہوریت میں سیاسی کارکن اور ووٹر کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور جب ایک اچھی اور سچی قیادت زمام اقتدار سنبھالے گی تو سیاسی منظر نامہ بدل جائے گا۔ ہم نے دیکھا کہ ہر چڑھتے سورج کی دہلیز پر سجدہ ریز ہونے والے ہی معتبر قرار پائے اور خوابوں سے بوجھل پلکیں لیے سوال اٹھانے والوں کو ترجمان ِ اعلی کی بارگاہ سے حکم ہوا : سنو اور اطاعت کرو ورنہ قافلہ انقلاب کو چھوڑ کر الگ ہو جائو۔ قیادت اور کارکن کے رشتے کی یہی حقیقت ہے جو آج بھی نہیں بدلی۔ نئی نسل کا بانکپن چھن گیا۔ اٹھتی جوانیوں میں لوگوں نے سوچا : سیاست کے یہ روایتی چہرے آخر کب تک؟ ہم کب تک ان پیشہ ور سیاسی خاندانوں کے غلام بنے رہیں۔اس سال میں مگر یہ طے ہوا کہ جمہوریت میں عوام کو ہر گز اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ اپنے جیسوں کو ایوانوں میں لا بٹھائے۔

آزادی صرف اس بات کی ہے کہ سیاست کے برہمنوں میں سے اپنا اپنا آقا آپ خود تلاش کر لیں۔ یہ فیصلہ آپ خود کر لیں کہ آپ کو کس کے حصے کا بے وقوف بننا ہے۔اقتدار سے عام آدمی کا کوئی تعلق نہیں۔ اس کو صرف اس بات کی آزادی ہے کہ اشرافیہ میں سے اپنا ایک نمائندہ چن لے اور باقی کا دورانیہ اس کے فضائل میں قصیدے کہتا رہے۔ تبدیلی کے استعارے کا سارا بھرم بھی جاتا رہا۔ آخری تجزیے میں ثابت یہ ہوا کہ حزب اختلاف کے موسموں میں ہر قیادت رفع القلم ہوتی ہے۔ روز عمران خان اپنے ہی بتائے اصولوں اور اپنے ہی اقوال زریں کو پامال کرتے ہیں اور ہر طلوع ہوتا سورج خلق خدا کو سمجھاتا ہے کہ حزب اختلاف کے نعرے ہوں یا حزب اقتدار کے حیلے، یہ اہل فن کی واردات کے سوا کچھ نہیں۔ یہ سب اداکار ہیں۔ ان کی کسی بات کا کوئی اعتبار نہیں۔

مایوسی اب بھی نہیں ہے لیکن جدوجہد کا دورانیہ بڑھ گیا ہے۔حبس کا موسم طویل ہو گیا ہے۔یہ مسافت اب شاید کچھ اور نسلوں کو بھی پاٹنا پڑے۔ افتخار عارف یاد آ رہے ہیں: ’’دل ایسے شہر کے پامال ہو جانے کا منظر بھولنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے تھکے ہارے ہوئے خوابوں کے ساحل پر کہیں امید کا چھوٹا سا اک گھر بنتے بنتے رہ گیا ہے وہ اک گھر بھولنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے مگر اب دن ہی کتنے رہ گئے ہیں؟‘‘

یہ بھی دیکھیں

ایران کے خلاف ٹرمپ کی ہر چال ہوئی ناکام تو انہوں نے اٹھایا نیا قدم (پہلا حصہ)

ظاہری طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطی میں کسی نئی جنگ کی شروعات …