جمعرات , 24 اکتوبر 2019

ڈیل اور کشتی کا بوجھ

(ارشاد احمد عارف)

ڈیل کی خبریں ایک بار پھر گرم ہیں اور دونوں طرف سے تردید و وضاحت کے باوجود لوگ یقین کرنے لگے ہیں‘ عمران خان کی حکومت اگر ایک سال کے دوران کچھ نیا کر دکھاتی‘ بے روزگاری‘ مہنگائی اور دوست نوازی و اقربا پوری پر نہ سہی‘ پولیس گردی پر قابو پا لیتی‘ خیبر پختونخوا کی طرح عام آدمی کو تھانے اور پٹوار خانے میں عزت ملتی‘ بغیر رشوت و سفارش لوگوں کے جائز کام ہوتے اور آئے روز پولیس تشدد کا واقعہ منظر عام پر نہ آتا تو کسی کو نواز شریف و زرداری سے دلچسپی ہوتی نہ سابقہ حکمرانوں کے گماشتے کاروباری برادری اور بیورو کریسی کو ’’گو سلو‘‘ پر اکساتے۔ موجودہ حکومت ایک سال کے دوران مگر گورننس میں قابل ذکر بہتری لائی نہ معاشی شعبے میں تیر مارا اور نہ سابقہ حکمرانوں کی وجہ شہرت اقربا پروری و دوست نوازی کے کلچر کو تبدیل کیا۔

غنیمت ہے کہ عمران خان کی دیانتداری اب تک چیلنج نہیںہوئی اور ساکھ پر کوئی سوال نہیں اٹھا ‘یوں کاروبار ریاست جیسے تیسے چل رہا ہے مگر شریف خاندان اور زرداری خاندان سے ڈیل کی خبریں؟ جہاں دھواں اٹھے وہاں آگ کی موجودگی لازم ٹھہرتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ،خوردوکلاں تو بضد ہیں کہ میاں صاحب کبھی ڈیل کریں گے نہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے بیانئے پر آنچ آئے گی مگر جانتے وہ بھی ہیں کہ قائد محترم نے پرویز مشرف کے دور میں کسی مسلم لیگی اور اتحادی سے پوچھ کر ڈیل کی تھی نہ اب کریں گے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران اگر عمران خان عوام کے لئے آسمان کے تارے توڑ کر نہیں لا سکے تو مسلم لیگیوں نے بھی اپنی قیادت بالخصوص میاں نواز شریف اورمریم نوازکی رہائی کے لئے کوئی ایسا کارنامہ انجام نہیں دیا جس سے خوش ہو کر میاں صاحب جیل اور مریم نوازحوالات میں بیٹھ کر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کریں اور کیمرے کے سامنے زمین و آسمان کے قلابے ملانے والے مسلم لیگی لیڈروں اور کارکنوں پر اپنی عزیمت و استقامت کی دھاک بٹھائیں۔ مسلم لیگ کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنی تمام اُمیدیںمولانا فضل الرحمن کی احتجاجی تحریک سے وابستہ کئے ہے۔ مگر تحریک میں شرکت کے لئے پوری قیادت یکسو نہیں۔میاں نواز شریف‘ مریم نواز‘ پرویز رشید کی سوچ سے میاں شہباز شریف اتفاق کرتے ہیں نہ کئی دوسرے جماعتی عہدیدار اور منتخب ارکان پارلیمنٹ ۔

متحدہ اپوزیشن بھی ہر چند کہیں کہ ہے‘ نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کھلم کھلا مولانا کی تحریک سے اظہار برأت کر رہی ہے جبکہ دینی مدارس کی اکثریت بھی احتجاجی تحریک کا ایندھن بننے کو تیار نہیں۔ جب تک تحریک کا ہوّا قائم میاں صاحب کی اُمیدیں برقرار رہیں جونہی احتجاجی تحریک چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے انجام سے دوچار ہوئی‘ شریف خاندان کی سودے بازی کی پوزیشن مزید کمزور ہو جائے گی۔ تبھی بعض حلقوں کی رائے ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی سوچ اور انداز کار سے آگاہ میاں شہباز شریف اکتوبر سے قبل ہی کسی ڈیل اور تصفیے کے حق میں ہیں تاکہ تحریک کی ناکامی کے بعد حکومتی شرائط مزید سخت نہ ہوں اور ڈیل کے امکانات معدوم ہونے کا اندیشہ باقی نہ رہے۔ بلا شبہ معیشت دگرگوں ہے اور مہنگائی و بے روزگاری نے حکومت کی ساکھ بُری طرح مجروح کی ہے عام آدمی مایوسی کا شکار ہے اور سابقہ حکومتوں کی مراعات یافتہ بیورو کریسی و کاروباری برادری نے’’ گوسلو ‘‘کی پالیسی سے تبدیلی کے نعرے کو گہنا دیا ہے مگر یہ فرض کر لینا سادگی ہو گی کہ لوگ اب عمران خان کی رخصتی اور مریم نواز و بلاول بھٹو کی ایوان اقتدار میں داخلے کے خواہش مند ہیں‘میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے کارناموں کا نتیجہ موجودہ حکمرانوں کے دور میں عوام بھگت رہے ہیں گزشتہ روز ایشین ڈویلپمنٹ بنک نے پاکستانی معیشت کے بارے میں جو رپورٹ جاری کی اس میں 2015/2018ء کے اعداد و شمار دیکھ کر شرم محسوس ہوتی ہے کہ قوم کو کس طرح بے وقوف بنایا جاتا رہا اور ملک اسوقت جس اقتصادی زبوں حالی کا شکار ہے اس کی بنیادیں تین چار سال قبل رکھ دی گئی تھیں۔

واقفان حال کے مطابق میاں نواز شریف اور ان کا خاندان ڈیل کے لئے تیار ہے اگر حکومت یا اسٹیبلشمنٹ رعائت دینے پر آمادہ ہو تو ڈیل احتجاجی تحریک سے قبل ہو سکتی ہے۔ ڈیل کے معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کی پوزیشن اس دیہاتی جیسی ہے جس کی دو بیٹیاں دو مختلف گائوں میں بیاہی گئی تھیں ایک کسان کے گھر اور دوسری کمہار کے ہاں۔ ایک روز سادہ لوح دیہاتی ‘عزیز از جاں بیٹیوں کو مل کر واپس آیا تو خاصہ پریشان دکھائی دیا‘ بیوی پریشان کہ کیا ماجرا ہے ؟واپسی پر سلام نہ دعا اور پریشانی چہرے سے ہویدا‘ پوچھا ‘کیا ہوا سرتاج؟ بیٹیوں کے ہاں خیریت تو ہے؟ دیہاتی بولا خوش بخت ویسے تو اللہ کا کرم ہے دونوں اپنے گھر میں خوش و خرم ہیں‘ سسرال سے شکائت نہ خاوندوں سے گلہ‘مگر دونوں نے دعا کی درخواست کی ہے۔ کسان کی بہو کہتی ہے کہ بابا دعا کریں خوب بارش برسے کہ فصلیں پانی کو ترستی ہیں‘ بارش بروقت نہ ہوئی تو ساری فصل سوکھ جائے گی اور ہم بھوکوں مریں گے۔

دوسری کی فرمائش ہے کہ میں صدق دل سے بارش نہ ہونے کی دعا کروں ورنہ مٹی کے کچے برتنوں کی جو کھیپ تیار ہے وہ ساری کی ساری پانی میں بہہ جائے گی‘ ساری محنت اکارت جائے گی اور ہم سارا سال کھانے پینے کو ترسیں گے‘‘ میں پریشان ہوں کہ کیا دعا کروں‘ میری دعا سے ایک بیٹی کا تو بیڑا غرق ہو گا اب تم ہی بتائو ‘بارش کی دعا کروں یا خشک سالی کی۔؟ اگر میاں صاحب پلی بارگین کرتے اور کچھ دے دلا کر بیرون ملک چلے جاتے ہیں تو ان کا خیال ہے کہ شریف خاندان کی سیاست ختم اور یہ شریف خاندان کی لوٹ مار اورمیاں نواز شریف کی کم ہمتی کا ثبوت ہو گا۔ لیکن اگر کسی خفیہ معاہدے کے ذریعے لین دین کے بعد میاں صاحب اور ان کی صاحبزادی کو بیرون ملک جانے دیا جاتا ہے تو عمران خان کی سیاست کا کباڑہ ہو جائے گا۔ ڈس انفرمیشن اور امیج بلڈنگ کے فن میں طاق مسلم لیگ چند لمحوں میں یہ تاثر پیدا کرے گی کہ میاں صاحب کی عوامی مقبولیت اور عالمی تعلقات سے خائف حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے انہیں زبردستی جلا وطن کر دیا۔ ممکن ہے قوم کو یہ بھی باورکرایا جائے کہ طاقتور حلقوں نے میاں صاحب سے معافی بھی مانگی اور دوبارہ اقتدار سونپنے کی پیشکش بھی کی مگر اقتدار اور سیاست کے بکھیڑوں سے متنفر میاں صاحب نے یہ پیشکش قبول نہیں کی اور جلا وطنی کو ترجیح دی۔

سادہ لوح دیہاتی کی طرح اسٹیبلشمنٹ بھی شائد یہی سوچ کر ہلکان ہو رہی ہے کہ وہ اپنا وزن کس طرف ڈالے‘ احتساب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے پرعزم عمران خان کے پلڑے میں‘ جس کی ناکامی صرف کرپشن سے پاک سیاست ہی نہیں نوجوان نسل کے خوابوں‘ آس‘ امید کی ناکامی ہے یا کوٹ لکھپت جیل میں بیٹھ کر اپنی پروردہ بیوروکریسی اور کاروباری برادری کی ڈوریاں ہلانے والے سابق وزیر اعظم کے حق میں‘جس نے تین بار اقتدار میں آ کر پاکستان کو سیاسی‘ سماجی معاشی اور اخلاقی طور پر دیوالیہ کر دیا۔ ٹیکس چوری‘ قرض خوری‘ لوٹ مار‘ قانون شکنی ‘ موروثی سیاست اور اقربا پروری کا کلچر متعارف کرایا اور ایک طبقے کی عادتیں اس قدر بگاڑ دیں ‘ذہنی طور پر اتنا مفلوج کر دیا کہ وہ اچھے برے کی تمیز سے عاری ‘تبدیلی کے تصور سے خائف ہے۔ ایک سال کے دوران عمران خان اور اس کے ساتھیوں کی غلطیوں کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ شریف خاندان اور زرداری ٹولہ ملک کی تقدیر سنوار سکتا ہے اور احتساب کے پہیے کو الٹا چلا کر معاشی جمود توڑنا ممکن ہے۔ جو لوگ تین تین چار چار بار اقتدار میں آ کر ملک قوم کا بھلا نہ کر سکے ان کا مقابلہ ایک ایسے شخص سے کرنا زیادتی نہیں ملک دشمنی ہے جو ناتجربہ کار مگر مخلص ہے۔ ضدی مگر معاملہ فہم ہے اور انا پرست ہے مگراداروں سے بنا کر رکھنے کا عادی۔ عمران خان بھی اب کشتی کا بوجھ اتارنے میں دیر نہ کرے کہ یہ اب ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ ایک آدھ فرد کی قربانی ساکھ اور اقتدار کی قربانی سے سوگنابہتر ہے۔بشکریہ 92 نیوز

یہ بھی دیکھیں

لبنان میں ٹیکس انتفاضہ کے مطالبات

تحریر: سید اسد عباس لبنان اقوام و مذاہب کا عجیب و غریب مرقع ہے، جو …