جمعہ , 21 فروری 2020

99 فیصد لوگ عدالتی فیصلے پڑھے بغیر تجزیے کرتے ہیں: چیف جسٹس

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ 99 فیصد لوگ عدالتی فیصلے پڑھے بغیر تجزیے پیش کرتے ہیں۔لاہور میں سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پہلے قانون کے طلبہ کو نامور وکلاء پڑھاتے تھے لیکن اب تعلیم کا معیار یہ ہے کہ سال دوم کا طالب علم سال اول کے طالب علم کو پڑھا رہا ہوتا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ 99 فیصد لوگ عدالتی فیصلے پڑھے بغیر تجزیے پیش کر رہے ہوتے ہیں، ان لوگوں کا آئین اور قانون سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، مجھے فکر ہے کہ مستقبل کا مورخ کیا لکھے گا۔چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ہم نے 127 دنوں میں 33 ہزار مقدمات کے فیصلے کیے، چیزوں کو ٹھیک کیا جائے تو اچھے نتائج مل سکتے ہیں، ہم نے اپنے گھر کو ٹھیک کیا ہے اور اس میں ہمیں کامیابی ملی ہے۔اس موقع پر سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ قائد اعظم جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی پاکستان جیسا کوئی دوسرا ملک ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ہماری برآمدات بہت کم، اس طرح ملک نہیں چل سکتا: گورنر اسٹیٹ بینک

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے ملک کی موجودہ معیشت کی صورتحال پر تشویش کا …