بدھ , 23 اکتوبر 2019

لاتوں کے بھوت باتوں سے بھلا کیا مانیں

وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے خلاف اور مظلوم کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے مظفر آباد میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے نوجوان کنٹرول لائن کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں لیکن یہ کام کب کرنا ہے اس کا فیصلہ وہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ”پہلے مجھے کشمیر کا کیس دنیا کو بتانے دو” جنرل اسمبلی میں اس معاملے پر بات کرنے دو، اس کے بعد میں آپ کو بتا ئوں گا کہ ایل او سی کی طرف کب جانا ہے۔وزیراعظم نے یہ اعلان اس وقت کیا جب گزشتہ ہفتے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف)کے ایک دھڑے کے کار کنوں نے ایل او سی پر تیتری نوٹ کراسنگ کی جانب ”آزادی مارچ” کیا تھا۔تاہم پولیس نے ان مظاہرین کو لائن آف کنٹرول تک نہیں جانے دیا تھا اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے تصادم میں20کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو وزیراعظم پاکستان کا جلسہ کنٹرول لائن عبور کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں بلکہ اس سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کیلئے تھاوزیراعظم کے اس اعلان پر بجا طور پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں چالیس دنوں سے زائد مدت سے جاری ظلم وتعدی کے باوجود بھی عوامی طور پر اگر لائن آف کنٹرول پار کرنے کی کوشش کا وقت نہیں آیا تو یہ وقت کب آئے گا۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں اپنے جس دھواں دھار خطاب کا مژدہ سنایا ہے اس میں بھی زیادہ وقت نہیں البتہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جنیوا میںحال ہی میں جس طرح زبان پھسل گئی تھی اس سے کوئی اور رخ ہی سامنے آتا ہے اس رخ سے مخالفین کے الزامات اور تنقید درست لگنے لگتے ہیں ۔

وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے زیادہ جذباتی اور مدلل انداز شاید ہی اپنا سکیں اور اگر ایسا کر بھی لیتے ہیں تو آج اس حقیقت سے مقبوضہ کشمیر اورپاکستان کا بچہ بچہ بھی بخوبی آشنا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں یہاں تک کہ خود ہمارے مسلمان اور دوست ممالک بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور استصواب رائے سے کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے تیار ہوں گے۔تشویش کی بات یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی مدد اور بھارتی ظلم واستبداد کے خلاف پاکستان میں عوامی سطح پرجو تنظیمیں کام کرتی تھیں ان کا وجود ہی باقی نہیں رہنے دیا گیا اس کے باوجود اگرحکومت کی طرف سے رکاوٹ نہ ڈالی جائے تو بغیر کسی حکومتی مددواعانت کے مقبوضہ کشمیر میں لڑنے کیلئے رضاکاروں کی کمی نہیں ابھی جذبہ جہاد معدوم نہیں ہوا لیکن مشکل یہ بنادی گئی ہے کہ اس کیلئے اب پہلے اپنوں سے دست وگریباں ہونا پڑے گا۔جس کا کوئی بھی تنظیم اور کوئی محب وطن بھی پاکستانی متحمل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی یہ مناسب ہوگا۔حکومتی بیانات واقدامات اور طفل تسلیوں سے کشمیر کا مسئلہ حل ہونے والا نہیں اور نہ ہی بھارتی وزیراعظم کو بزدل کہنے اور جرمن نازیوں سے تشبیہہ دینے پر ان کے کانوں کے گرد جوں تک رینگے گی کشمیراگر جلسوں اور تقریروں سے آزاد ہوتا تو بہت پہلے ہوچکا ہوتا مسئلہ کشمیر کا حل جلسے جلوسوں مظاہروں سے نہیں عملی اقدامات سے ہی ممکن ہوگا۔

کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کی جانب سے تاجروںسے مذاکرات کے بعد مین صدر روڈ کو پھر سے دو طرفہ ٹریفک کیلئے کھولنے پر غور کا فیصلہ خوش آئند اقدام ہے اس موقع پر یقینا ان تمام حالات اور عوامی مسائل ومشکلات اور کاروباری طبقے کے تحفظات کا ضرور جائزہ لیا جائے گا جو صدر روڈ کو یکطرفہ کرنے سے پیدا ہوئے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے حکام سڑک کو اُکھاڑے بغیر اگر عارضی طور پر اس کو ون وے کر کے عوامی مسائل اور تاجروں کے ردعمل کے علاوہ صورتحال کا جائزہ لینے اور اطمینان ہونے پر حتمی فیصلہ کرتے تو تاجروں کا احتجاج اور فیصلے پر از سر نو غور کرنے کی نوبت ہی نہ آتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگرمتعلقہ حکام جلد بازی کی بجائے آزمائشی اور تجرباتی بنیادوں پر سڑک کو بند کر کے صورتحال کا جائزہ لیتے تو اس صورتحال سے بچا جا سکتا تھا۔ بہرحال اب جبکہ اس فیصلے سے رجوع کرنے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے ایسے میں متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس غلطی کو غلطی مانے اور اس کی اصلاح کو انا کا مسئلہ نہ بنائیں بلکہ ایک انسانی غلطی اور اپنا غلط فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کیا جائے ۔

آخر اس قدر عاجلانہ فیصلہ کیوں اور کیسے کیا گیا ایک ایسافیصلہ جس کی کوئی توجیہہ اور عوامی مفاد کا کوئی ایک نکتہ تلاش کرنا ممکن نہ تھا، اس کے باوجوداس پر عملدرآمد کر کے جگ ہنسائی کا موقع کیوں دیا گیا یہ قابل غور امور ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی عوامی مقام اور گزرگاہ کے حوالے سے فیصلہ کرتے ہوئے عوامی مفاد اور عوامی ردعمل کو دیکھنا کوئی خلائی سا ئنس نہیں عام فہم معاملہ ہے، بہرحال اب جبکہ فیصلہ واپس لئے جانے کا امکان غالب نظر آتا ہے تو اس موقع پر ہم بجا طور پر اس توقع کا اظہار کریں گے کہ متعلقہ حکام صدر روڈ کی بحالی اور خوبصورتی بھی بحال کرنے کی ذمہ داری نبھائیں گے تاکہ تاریخی اور شہر کی مرکزی سڑک اصل صورت میں واپس آئے اور اسے پہچاننے میں مشکل کا سامنا نہ ہو۔ توقع کی جانی چاہئے کہ پشاور صدر کی رونقیں جلد بحال ہوں گی۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

اصل کون ہے اور روبوٹ کون، بوجھو تو جانیں

وسعت اللہ خان دنیا چوتھے صنعتی انقلاب سے گزر رہی ہے۔ پہلا صنعتی انقلاب چھاپے …