جمعرات , 24 اکتوبر 2019

ایمان الغنیمی ویانا کی گلیوں میں فلسطینیوں کی توانا آواز!

اگر آپ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کی سڑکوں پر گامزن ہوں آپ یقینا ایک فلسطینی نوجوان "ایمان الغنیمی” کے چہرے سے ضرور شناسا ہوں گےایمان الغنیمی سات سمندر پار آسٹریا کی گلیوں میں ایک توانا فلسطینی آواز ہے جو ویانا میں فلسطینی قوم کے خلاف صہیونی ریاست کے مجرمانہ تعصب اور نسل پرستی کو بے نقاب کرتےہوئے فلسطینی قوم کے حقوق کےلیے آواز بلند کر رہی ہے۔

18 سالہ ایمان الغنیمی ایک فلسطینی کارکن ہے جو ویانا میں پیدا ہوئی اور وہاں پرورش پائی مگر فلسطینی قوم پرڈھائے جانے والےمظالم میں کے خلاف وہ پردیس میں ایک مضبوط آواز بن کر ابھر رہی ہے۔بچپن سے ہی ایمان فلسطین سے وابستہ مختلف مقامی سرگرمیوں میں میں پیش پیش رہی ہے۔ لیکچرز، نمائشوں، پینل ڈسکشنز اور دیگر ہراس سرگرمی میں اس نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس میں فلسطینیوں کے حقوق اور قابض صہیونی ریاست کے لیے آواز بلند کی گئی۔

ویانا کے مرکزی چوک میں ایمان مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے ‘بی ڈی ایس’ کارکنوں کے ایک گروپ کے ساتھ کھڑی ہے جہاں راہگیراس پاس سے گزرتے ہیں ، بی ڈی ایس تحریک کے بارے میں معلومات پھیلاتے ہیں اور فلسطینی قوم کے حقوق کی بحث کی حمایت کرتے ہیں۔

ایمان نے ‘مرکز برائے حق واپسی’ کو بتایا کہ صہیونی ریاست نے فلسطینیوں کے بارے میں جو جھوٹ موٹ پھیلا رکھا صہیونی آسٹریا کا معاشرہ اس اسے قبول کرتے ہوئے متعصبانہ پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ خاص طورپر سام دشمنی کی وجہ سے مقامی لوگ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے جرات مندانہ طریقے سے بات نہیں کرتے۔

اس کا کہنا سب سے بڑا خطرہ طاقت ور صہیونی لابی سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں غلط فہمیاں دور کرنے اور فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے غاصبانہ اور متعصبانہ جھوٹ کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔چونکہ ایمان اور ویانا کے بائیکاٹ کی تحریک کے تمام ارکان آسٹریا کے معاشرے کو متاثرکرنے میں کامیاب ہوئے۔

ایمان نے اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ یہ ثابت کر دیا ہے کہ کسی شخص کو اپنی آزادی کے لئے اپنی قوم کا دفاع کرنے کے لیے اپنی سرزمین میں رہنا ضروری نہیں ہے لیکن وہ جہاں بھی ہے اپنے مقصد کے حامیوں کی ایک بڑی جماعت کو متحرک کرسکتا ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

اصل کون ہے اور روبوٹ کون، بوجھو تو جانیں

وسعت اللہ خان دنیا چوتھے صنعتی انقلاب سے گزر رہی ہے۔ پہلا صنعتی انقلاب چھاپے …