بدھ , 23 اکتوبر 2019

بھارتی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ؛مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی بحال کرنے کا حکم

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار کو مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی بحال کرنے کا حکم دے دیا۔بھارتی میڈیا انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں بینچ نے مقبوضہ وادی میں مودی سرکار کے آرٹیکل 370 واپس لینے اور میڈیا پر قدغن لگانے کے خلاف مختلف درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو وادی میں تعلیمی سرگرمیاں اور کشمیریوں کو صحت کی سہولتوں تک رسائی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

دوران سماعت وفاق نے عدالت کو بتایا کہ کشمیری اخبار شائع ہورہے ہیں اور حکومت انہیں تمام قسم کی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی چینلز دور درشن اور دیگر نجی چینلز سمیت ایف ایم ریڈیو بھی ریاست میں چل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘مقبوضہ جموں و کشمیر میں پابندیاں لگائے جانے کے بعد سے ایک بھی گولی نہیں چلائی گئی ہے۔سپریم کورٹ کے بینچ نے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال سے ان اقدامات کی تفصیلات حلف نامے پر جمع کرانے کا حکم دیا۔

مقبوضہ کشمیر کی عوام کی جانب سے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے میں مشکلات کی شکایات پر ایک اور درخواست پر بھارتی چیف جسٹس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رپورٹ طلب کرلی۔بھارتی چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ خود مقبوضہ کشمیر جائیں گے اور صورتحال کو دیکھیں گے۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دے دی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ غلام نبی آزاد سری نگر، اننتناگ، بارہ مولا اور جموں جا سکتے ہیں اور وہاں عوام سے مل جل سکتے ہیں انہیں ریلیاں نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد سے درجنوں کشمیری سیاست دان اور رہنماؤں کو گرفتار یا نظربند کردیا تھا، اس کے علاوہ مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے اور انٹرنیٹ، موبائل سمیت تمام مواصلاتی نظام معطل ہے۔یہی نہیں بلکہ اس سے قبل بھارتی انتظامیہ نے مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو نظر بند اور بعد ازاں گرفتار کرلیا تھا جو 40 روز سے زائد گزرنے کے باوجود تاحال زیرحراست ہیں۔

اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وادی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک 4 ہزار افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔تاہم ان سب پابندیوں کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 6 ہفتوں میں بھارتی حکومت کے خلاف یومیہ اوسطاً 20 احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی فوجیوں کو عراق میں ٹھہرنے کا کوئی حق نہیں

بغداد: امریکی فوج کو شام سے خارج ہوکرعراق میں ٹھہرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ …